میں وزیرستان میں آرمی ایکشن کی تفصیلات اور پنجاب میں پندرہ بمباروں کے داخلے کی خبریں پڑھ کر پریشانی کی گہرائیوں میں اترنے ہی والا تھا کہ پنجاب کے دو وزراء کے بیان نے مجھے زیر لب مسکرانے پر مجبور کر دیا اور طالب علمی کے زمانے میں پڑھی ہوئی ایک کتاب کی یاد تازہ کر دی۔ کتاب کا عنوان تھا ”پریشان ہونا چھوڑیئے، مسکرانا سیکھئے“ ۔ شاید یہ کتاب کارنیگی کی تھی۔ اس دور میں ماہرین نفسیات کے حوالے سے کارنیگی خاصا مشہورتھا اور مختلف ادارے اس کی کتابوں کے اپنی مرضی کے مطابق تراجم کر کے پیسے بنایا کرتے تھے ۔ مجھے یقین ہے کہ یا تو پنجاب کے ان وزراء حضرات نے بچپن میں ہی یہ کتابیں پڑھی ہوں گی جن کے طفیل ان کے انداز بیان میں شگفتگی آ گئی ہے کیونکہ سیاستدان جوان ہو کر سارا وقت عوام کو بیوقوف بنانے پرصرف کرتے ہیں اور ان کے پاس فضول کاموں کے لئے وقت نہیں ہوتا۔ یا پھر ان کے نام پر اخباری بیان لکھنے والے محکمہ اطلاعات کے افسر نے یہ کتابیں تازہ تازہ پڑھی ہوں گی۔ اب آپ پوچھیں گے کہ وہ کون سا طنزیہ بیان تھا جس سے میں پنجاب میں بمبار طیاروں کی آمد کی خبر پڑھنے کے باوجود لطف اندوز ہوا؟ بیان کی سرخی تھی کہ پنجاب کے دو وزراء نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کو لاعلمی کے عالمی ایوارڈ کا مستحق قراردے دیا۔ ان وزراء کا کہنا ہے کہ چودھری صاحب پانچ برس تک وزیر اعلیٰ رہے لیکن ان کی لاعلمی کا یہ حال ہے کہ انہیں یہ بھی خبر نہیں کہ چاول کسانوں سے وفاقی حکومت خریدتی ہے نہ کہ صوبائی حکومت۔ کون کیا خریدتا ہے اور کون کیا خرید رہا ہے یہ تو ایک طویل داستان ہے اور سیاستدانوں کی خریداری پر تو کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن فی الحال مجھے اس بیان کی اس طنز کی داد دینے دیجئے کہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہوئے دو وزراء نے اقتدار سے محروم وزیر اعلیٰ کولاعلمی کا پاکستانی نہیں بلکہ عالمی ایوارڈ دے دیا ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر اس طرح کا کوئی ایوارڈ موجود نہیں ہے لیکن فی الحال کوئی این جی او پاکستان کی سطح پر لاعلمی کا ایوارڈ قائم کر دے تو ماشاء اللہ اس ایوارڈ کے امیدواروں میں خاصا مقابلہ دیکھنے میں آئے گا۔ این جی او کے لئے یہ مشکل کام نہیں کیونکہ امریکہ نے کیری لوگر قانون کے تحت ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد کا معتدبہ حصہ پاکستانی این جی اوزکو دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لئے این جی اوز کی فہرست بھی بنائی جا رہی ہے۔ اگر کوئی این جی او اس انوکھے کام کے لئے فنڈز مانگے تو امریکہ بادشاہ اسے خوشی سے ڈالر دے گا کیونکہ ہمارے اخبارات ہر روز ایسے لا علم حضرات کے جواہر پاروں سے بھرے ہوتے ہیں۔ ابھی کل شام ہی ہمارے سابق چیف جسٹس جناب ڈوگر صاحب پریس کانفرنس میں انکشاف کر ر ہے تھے کہ انہیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں کئے گئے تین نومبر والے اس فیصلے کا علم نہیں تھا جس میں انہوں نے ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے پر پابندی لگا دی تھی۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ماشاء اللہ لا علموں کی فہرست میں ایک اور سنہری نام کا اضافہ ہو گیا ہے۔ دوسرے یہ کہ لا علموں کی فہرست میں ماشاء اللہ صرف سیاستدان ہی نہیں،جج حضرات، جرنیل حضرات اور بڑے بڑے عالم و فاضل حضرات شامل ہیں۔ شاید اسی لئے بابا بلھے شاہ نے کہا تھا ”علموں بس کریں اور یار“ لگتا ہے کہ اس شعر کا دوسرا مصرعہ ”مینوں اک الف درکار“ کسی نے نہیں پڑھا کیونکہ اسے پڑھنے اور سمجھنے کے لئے بڑی محنت کرنا پڑتی ہے۔
مجھے یاد آیا کہ اسی لا علمی کے حوالے سے میاں نواز شریف نے صدر زرداری صاحب کو نہایت لذیذ نہاری کی ملاقات کے دوران یہ مشورہ دیا کہ ”پسند کا آرمی چیف لانے کی غلطی نہ کریں… میرے تجربے سے سبق سیکھیں“۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میاں صاحب کو یہ محسوس ہوا ہو گا کہ زرداری صاحب پسند کا آرمی چیف لانے کا سوچ رہے ہیں تبھی انہوں نے زرداری صاحب کی لاعلمی میں اپنے تجربے اور علم کا اضافہ کیا۔ اے کاش کسی سیانے نے یہی مشورہ اس وقت میاں صاحب کو دیا ہوتا جب وہ اپنی پسند کا آرمی چیف لانے کا سوچ رہے تھے تو شاید ہمارے ملک کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔ گزشتہ دنوں ایک سابق جج صاحب مجھے بتا رہے تھے کہ جب طیارہ کیس کے ضمن میں میاں صاحب کراچی جیل میں تھے تو میں نے میاں صاحب کے ایک نہایت قریبی رفیق سے پوچھا کہ جب وزیراعظم مشرف کو آرمی چیف بنا رہے تھے تو کیا انہیں علم نہیں تھا کہ مشرف اپنے سینے میں کارگل کا فاتح بننے کی آرزو چھپائے پھرتا ہے اور اس کی اس موضوع پر بریفنگ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو مسترد کر چکی ہیں اور یہ کہ مشرف کردار کا ”بودا“ ہے ، شراب اور خوبرو تتلیوں کا رسیا ہے۔ جج صاحب کا کہنا تھا کہ میرا یہ سوال سن کر میاں صاحب کا قریبی ساتھی مسکرایا اور جواباً کہا ”کہ اسے اسی خوبی کی بناپر منتخب کیا گیا تھا۔ خیال تھاکہ وہ اپنی عیاشیوں میں مصروف رہے گا اور ہم آرام سے حکومت کرتے رہیں گے“۔ اچھا ہوا کہ میاں صاحب نے اپنا تجربہ صدر صاحب کو منتقل کر دیا اگرچہ خبر یہ ہے کہ صدر صاحب اپنے اس اختیار سے دستبردار ہو کر یہ بوجھ وزیراعظم پر ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مشرف کے نمک خوار اور بادہ بردار اپنی لا علمی پر پردہ ڈال کر نا م پوچھنے کے بہت شوقین ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ مجھ سے اس سابق جج کا نام نہیں پوچھیں گے کیونکہ مشرف کی عیاشیوں کی الف لیلوی داستانیں زبان زد عام ہو چکیں۔ اب تو لوگ ایک ریٹائرڈ جرنیل کی بیرون ملک کروڑوں ڈالروں کی جائیدادیں خریدنے، سرمایہ کاری کرنے اور عیش کرنے کی داستانیں اور اندرون ملک بجلی چوری اور ٹیکس چوری کی داستانیں پڑھ پڑھ کر نیم بے ہوش ہو رہے ہیں۔
اور ہاں اسی لاعلمی کا ایک تازہ افسانہ پرسوں میں نے ٹیلی ویژن پر سنا۔ میں ٹی وی بہت کم دیکھتا ہوں وجہ پھر کسی دن بتاؤں گا۔ خبروں کی تلاش میں پرسوں ٹی وی آن کیا تو مجھے سکرین پر اپنے دیرینہ مہربان جنرل معین الدین حیدر نظر آئے جو میاں صاحب کے دور میں گورنر سندھ اور پرویز مشرف کی کابینہ میں وزیر داخلہ تھے۔ جنرل صاحب کا شمار پڑھے لکھے جرنیلوں میں ہوتا ہے اس لئے وہ لا علم ہرگز نہیں ہیں۔سارے جہان کو علم ہے کہ 2002ء کے انتخابات دھاندلی کا شاہکار تھے اور چند ایک کوچھوڑ کر باقی اراکین اسمبلیاں مشرف کی پیداوار تھے۔ میں خلوص نیت سے یہ سمجھتا ہوں کہ انتخابی دھاندلیاں کرنے والے قومی مجرم ہیں اور ان کا احتساب کئے بغیر دھاندلی کی حوصلہ شکنی نہیں ہو سکتی۔ اب تک حکومتیں دھاندلی میں ملوث ہو کر جمہوریت کا جنازہ نکالنے والوں سے صرف نظر کرتی رہی ہیں چنانچہ دھاندلی کا سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ بہرحال جنرل معین الدین حیدر مشرف کی کابینہ کے اہم وزیر اور با علم رکن تھے جس طرح آج کل رحمن ملک ہیں۔
جب جنرل صاحب سے انتخابی دھاندلی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ ہاں دھاندلی ہوئی تھی لیکن میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔جنرل صاحب کا کہنا تھا کہ میں نے جنرل مہدی سے پوچھا (جو ان دنوں لاہور میں شاید رینجرز کے سربراہ تھے)اور جنرل مہدی نے بتایا تھا کہ ہم نے مشرف کے حکم پر دھاندلی کی ہے۔ جنرل معین الدین حیدر نے مزید بتایا کہ الیکشن سیل کے سربراہ جنرل مشرف کے نفس ناطقہ طارق عزیز تھے۔ انہی دنوں یہ خبریں چھپی تھیں کہ طارق عزیز نے انتظامیہ کے ساتھ مل کر آئندہ اسمبلیوں اور حکومتوں کا نقشہ بنا لیا ہے اور کن کو جتوانا اور کن کو ہروانا ہے اس کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔
انہی دنوں بار بار یہ خبریں بھی چھپ رہی تھیں کہ پنجاب کے آئندہ وزیراعلیٰ طارق عزیز کے دوست چودھری پرویز الٰہی ہوں گے۔ انتخابات ہو گئے تو اراکین کا بازو مروڑ کر حکومت سازی کا کام جنرل احتشام ضمیر نے کیا تھا جس کی طرف ان دنوں مخدوم امین فہیم نے بھی قومی اسمبلی کی تقریر میں اشارہ کیا تھا۔ تاریخ کی نظر میں یہ حضرات قومی مجرم ہیں لیکن حکومت اور عدلیہ دونوں مشرف کے جرائم میں شریک تمام مجرموں کا احتساب کرنے میں بے بس ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ میں نہیں جانتا اس لئے ان لا علموں میں میرانام بھی لکھ لیں ۔ آخری گزارش یہ ہے کہ اگر حکومت اور عدلیہ قومی مجرموں کا احتساب نہیں کر سکتیں کیونکہ ان کی فہرست طویل ہے تو کم از کم کوئی این جی او ہی ان کو ان کی خدمات کے عوض عالمی سطح کے ایوارڈ سے نواز دے تاکہ ان کی آئندہ نسلیں ان کی صلاحیتوں پر فخر کر سکیں اورہاں قومی مجرموں کی فہرست بناتے ہوئے جنرل مشرف کو مت بھولیں کہ وہ عالمی ایوارڈ کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔