• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی حملوں میں 5 عرب ریاستوں کی سرزمین کے استعمال پر ایران کا احتجاج

فوٹو: ایرانی میڈیا
فوٹو: ایرانی میڈیا 

ایران نے امریکی حملوں میں 5 عرب ریاستوں کی سرزمین کے استعمال پر اقوام متحدہ سے باقاعدہ احتجاج کیا ہے۔

ایران کے اقوامِ متحدہ میں سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے دوران امریکا کی جانب سے خلیج فارس کے 5 عرب ممالک کی فضائی حدود اور سرزمین کے غیر قانونی استعمال پر عالمی ادارے سے شدید احتجاج کیا ہے۔

امیر سعید ایروانی نے بدھ کے روز اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو بھیجے گئے خطوط میں یہ مؤقف پیش کیا۔

ایرانی ٹی وی کے مطابق یو این میں ایرانی سفیر نے کہا کہ قطر، بحرین، یو اے ای، سعودیہ اور کویت اچھے ہمسائے کے اصولوں پر چلیں، ان ممالک کی عالمی ذمہ داری ہے کہ اپنی زمین تیسرے ملک کیخلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ ایف 16، ایف 22، ایف 35، اواکس اور پی 8 اے طیاروں نے ایران پر حملوں میں عرب سرزمین استعمال کی، امریکا اور اسرائیل کی "بلا اشتعال جارحیت" 28 فروری کو فضائی حملوں سے شروع ہوئی، جن میں سینئر ایرانی عہدیداروں اور کمانڈرز کو قتل کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے خطے بھر میں امریکی اور اسرائیلی حساس و اسٹریٹجک اہداف پر 100 کامیاب جوابی حملوں کی لہریں چلائیں۔

خیال رہے کہ 8 اپریل کو جنگ کے 40 دن بعد پاکستان کی ثالثی سے دو ہفتے کی جنگ بندی نافذ ہوئی، تاہم تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ اسلام آباد میں دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے ایران کی تجویز کا انتظار کرے گی۔

تاہم تہران نے دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے تاحال آمادگی ظاہر نہیں کی، اور حکام نے واشنگٹن کے حد سے زیادہ مطالبات اور ایران کے خلاف "بحری ناکہ بندی" کو جنگ کے خاتمے میں بڑی رکاوٹیں قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید