آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 تبلیغی جماعت کے کچھ لوگ تین روزہ دورے پر ایک گائوں میں پہنچے، معمول کے مطابق گشت لگائی اور کچھ لوگوں کو مسجد آنے کی دعوت دی، ان کے کہنے پر بہت سے لوگ مسجد آگئے، ان میں ایک بابا جی بھی تھے، جماعت کے سربراہ نے بابا جی سے پوچھا! بابا جی کلمہ یاد ہے، کیوں نہیں بیٹا بابا جی نے جھٹ سے سنا دیا، اور سورہ اخلاص؟، وہ بھی فر فر سنا دی، اچھا بابا جی نماز یاد ہے؟، ہاں ہاں روزانہ جو پڑھتے ہیں چنانچہ بابا جی نے نماز بھی سنا دی۔ اچھا آخر میں ایک بات اور تبلیغی جماعت کے سربراہ نے کہا، چلتے چلتے نماز جنازہ بھی سنا دیجئے۔ بابا جی رکے، تھوڑی دیر سوچا، پھر بولے پتر، نماز جنازہ یاد تو تھی مگر کئی مہینوں سے کوئی مرا نہیں اس لئے بھول گئی، کچھ ایسا ہی ہمارے وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے ساتھ ہوا، قسمت جو مہربان ہوئی تو بس مہربان ہی رہی۔ دولت، شہرت، اقتدار گھر میں لونڈی کی طرح رہتے، اتنے طویل عرصے میں برے دنوں کی یاد تک باقی نہ رہی۔ پھر اچانک منظر جو بدلا تو قسمت بھی آنکھ چرانے لگی چنانچہ پاناما کے ساحلوں سے جو خفیہ معلومات ظاہر ہوئیں تو انہیں ضدی، متحرک، مستقل مزاج اور سودا کاری سے انکاری عمران خان لے اڑے، باقی داستان اب روز کی کہانی ہے، پاناما لیکس کے طوفانوں کے بیچوں بیچ بھی میاں صاحب کے پاس ایک موقع تھا کہ وہ عہدے سے

مستعفی ہو کر پارٹی میں کسی وفادار دوست یا خاندان کے فرد کو وزارت عظمیٰ سونپ دیتے اور پارٹی کی قیادت مریم بی بی کے سپرد کرتے، خود پاناما لیکس سے متعلق مقدمات کا سامنا کرتے ان حالات میں ایک تو نواز شریف کی ساری توانائیاں مقدمے سے نمٹنے کیلئے صرف ہوتیں اور عمران خان کی طرف سے استعفے کا ہتھیار بھی وقتی طور پر کند ہو جاتا، دوسرا انہیں مقدمات کا بھاری بوجھ سہارنے کیلئے دو طاقتور کندھے دستیاب ہوتے۔ بیٹی مسلم لیگ ن کے صدر کے طور پر اور کوئی یوسف رضا جیسا وفادار، جانثار جو ہر روز ایک کڑوا کسیلہ بیان دیتا، عدالت کو للکارتا، جے آئی ٹی کا مذاق اڑاتا، وزیر اعظم اور پارٹی صدر کے بیانات ’’نیوز ویلیو‘‘ کے حساب سے بڑی بڑی سرخیاں بنتے، ویسے بھی ایک سے تین بھلے، ذوالفقار علی بھٹو کی طرح میاں نواز شریف نے بھی فیصلہ کرنے میں تاخیر کر دی۔ بھٹو اپنی اپوزیشن ’’PNA‘‘ کے مطالبے مان کر مذکورہ ساٹھ، پینسٹھ حلقوں میں انتخاب کا اعلان کرتے یا از سر نو الیکشن کروا دیتے تو حزب اختلاف بڑی مشکل میں پڑ جاتی اور بھٹو آسانی سے انتخاب جیت سکتے تھے۔ بالکل اسی طرح جب عمران خان نے چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تو نواز شریف ان چاروں حلقوں کے ممبران سے استعفیٰ لے کر انتخاب کا ڈول ڈالتے تو شاید چاروں حلقے جیت جاتے اس لئے کہ صوبائی اور مرکزی حکومتیں اور ساری انتظامیہ ان کی اپنی تھی، اگرچہ عمران خان کا مطالبہ چار حلقوں میں الیکشن کا نہیں تھا بلکہ وہ انکوائری کروا کر دھاندلی ثابت کرنا چاہتے تھے مگر نواز شریف کا یہ ’’اسمارٹ موو‘‘ حکومت کو اس دلدل سے نکال سکتا تھا۔ الیکشن کا اعلان ہونے کے بعد میڈیا اور ملک کی رائے عامہ عمران خان کے مطالبے پر ہرگز کان نہ دھرتے مگر ان کی پارٹی میں کوئی دانا صلاح کار نہ تھا جو انہیں یہ دائو سجھا سکتا۔ 10جولائی کی مشترکہ تفتیشی ٹیم کی رپورٹ کے بعد ایک سیل بلا انگڑائی لے رہا ہے، پیپلز پارٹی تحریک انصاف کے بوجھ تلے کراہ رہی ہے، عمران خان نواز شریف کا متبادل بنتے جارہے ہیں اور فی الحال عمران خان کا متبادل کوئی نہیں۔
مشترکہ ٹیم کی رپورٹ کے بعد مسلم لیگ کی حکومت کے پاس وقت کم اور ترجیحات (Option)نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔ کچھ لوگ وزیر اعظم کو اسمبلی توڑ کر نئے انتخاب کا مشورہ دے رہے ہیں، انتخاب کے اعلان سے مسئلہ حل نہیں ہو گا ایک تو سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ موخر ہونے کا کوئی امکان نہیں، مقدمات کے بوجھ اور الزامات کے پلندے کو سر پر اٹھائے انتخاب کا طوفانی دھارا پار نہیں کیا جا سکتا۔ پوری جماعت پر پژمردگی چھائی ہوگی اور ان کا مورال نچلی سطح کو چھو رہا ہوگا تو تازہ دم عمران خان کا مقابلہ ناممکن ہو جائے گا۔ خاص طور پر ان حالات میں جب انہوں نے خود یہ تاثر عام کر دیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ نہیں چنانچہ انتخابی دنگل کے بڑے کھلاڑی تحریک انصاف کے ساتھ جا ملیں گے۔ حکومت موجودہ حالت کو کسی نہ کسی طرح برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے اور عدالت کے فیصلے کو زیادہ سے زیادہ موخر کر کے وقت حاصل کرنے کی خواہشمند ہے لیکن یہ ممکن نظر نہیں آتا اس لئے اس کے پاس کرنے کو بہت کام ہیں اور وہ یہ قضیہ ختم کرنا چاہے گی۔ عوام میں بھی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے، ان حالات میں ایک یا دوسری پارٹی عوام کو کال دے سکتی ہے جس سے دبائو میں اضافہ اور تصادم کی راہ کھل جائے گی۔ حکومت کے اندر وہ دم نہیں کہ بڑے ہجوم کو کنٹرول کر سکے، شہری انتظامیہ کی وفاداری میں بھی پہلی سی بات نہیں کہ وہ کھل کر حکومت کا حکم بجا لائے۔ فوج خود کو سیاست سے دور رکھے ہوئے ہے اور وزیر داخلہ چوہدری نثار اسلام آباد میں ہجوم اکٹھا کرنے کی اجازت دینے پر تیار نہیں ہوں گے بطور خاص حکمران جماعت کو تو بالکل نہیں۔
کچھ لوگوں کی رائے میں حکمران جماعت اور پیپلز پارٹی کی دوسری ترجیح بہرحال مارشل لا ہو سکتی ہے۔ دونوں سابق اور موجود حکمران جماعتیں عمران خان کے سوا ہر آپشن قبول کرنے کو تیار ہیں۔ آخرکار انتخاب کی طرف ہی جانا ہو گا آج یا کل، مگر پارلیمانی جماعتیں نیا الیکشن نہیں چاہتیں انہوں نے قبل از وقت انتخاب کیلئے کبھی سوچا نہ تیاری کی، اب ناگہانی سے وہ پریشان ہیں۔ میاں صاحب کا استعفیٰ یا معطلی اب ناگزیر ہے اس لئے نہیں کہ اپوزیشن کا مطالبہ اور ان کی طرف سے کسی بڑی تحریک کا خطرہ درپیش ہے بلکہ عمران خان کے سوا کوئی بھی گلیوں بازاروں، سڑکوں میں عوام کو کھینچ لانے کی قدرت نہیں رکھتا، حکمران جماعت اگر عوامی حمایت دکھانا بھی چاہے تو اب وہ ایسا نہیں کر سکتی۔ ایک تو مرکز اور پنجاب میں ان کی اپنی حکومت ہے احتجاج کریں تو کس کے خلاف، دوسرے مسلم لیگ ن ایک مدت سے انتظامیہ کے بھروسے پر جلسہ جلوس کی عادی ہو چکی ہے۔ انتظامیہ اب پہلے کی طرح اندھا دھند حکومت کے احکامات نہیں مان سکتی۔ میاں صاحب کی حکومت سے علیحدگی کی ضرورت اندرون ملک جو ہے سو ہے لیکن بیرون ملک ہمارے معاملات زیادہ خراب ہوتے جارہے ہیں۔ پیچیدہ عالمی تناظر میں پاکستان کو ایک اچھے اور متحرک وزیر خارجہ کی ضرورت ہے اور وزیراعظم ہی ہمارے وزیر خارجہ بھی ہیں۔
ان سنگین الزامات اور عدالت میں مقدمات کی وجہ سے کوئی مغربی اور جمہوری ملک نہ اپنے ہاں آنے کی دعوت دے گا اور نہ ہی حکومت کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کرنے کیلئے آمادہ ہے بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ دوست ملکوں کو وزارت خارجہ کے ذریعے فون پر بات کرنے کیلئے تحریری درخواست کرنا پڑ رہی ہے۔ پانامہ کے الزامات ہی تھے جن کی وجہ سے جرمنی اور سعودی عرب میں وزیر اعظم موجود تھے لیکن انہیں نمایاں جگہ نہیں دی گئی یہ صورتحال اندرون ملک انتشار اور دبائو سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ مقتدر حلقے پاکستان کی گرتی ہوئی ساکھ کو نظرانداز نہیں کر سکتے نہ ہی عدلیہ جے آئی ٹی کے ساٹھ دن کی تفتیش کی راہ میں جو رکاوٹیں ڈالی گئیں انہیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ سارے واقعات کو دیکھتے ہوئے صاف نظر آتا ہے، بساط الٹی نہ گئی تب بھی ضرور بدل دی جائے گی۔
اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ پہلے دو ججوں کا فیصلہ حکومت کو بہت برا محسوس ہوا اور تین ججوں کا اپوزیشن کو، حکومت نے مزید تفتیش کا سن کر خوشی سے مٹھائیاں بانٹی اب وہ خوشی غم میں بدل چکی ہے۔ تفتیش کے نتائج نے پورے خاندان کو کانٹوں پر گھسیٹ لیا۔ اب بات مرکز میں استعفیٰ تک محدود نہیں رہی بلکہ پنجاب حکومت بھی شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ مزید تاخیر سے اسمبلی کے اندر تبدیلی کا آپشن بھی باقی نہیں بچے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں