• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نواز شریف مخالفین کو چوہدری نثار کی پریس کانفرنس سے سخت مایوسی

اسلام آباد(تجزیہ /طارق بٹ)سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کی پریس کانفرنس نے کئی ایسے لوگوں کو سخت مایوس کر دیا جو توقع کر رہے تھے کہ چوہدری نثار اپنی پریس کانفرنس میں ایسا کوئی بم پھوڑیں گے ،جس سےپارٹی کی صفوں میں دراڑ آئے گی  سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ کو سخت دھچکا پہنچے گا۔اس پریس کانفرنس کا بڑی بے چینی سے انتظار کیا جا رہا تھا اور جب سابق وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس کی تو انہوں نے ایسی متنازع باتیں کہ جن  سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی  ان کا معمولی سا بھی ذکر نہ کیا۔

عام افواہ یہ تھی کہ وہ پارٹی لیڈروں کے خلاف سخت موقف اپنائیں گےاور یہاں تک کہ پارٹی چھوڑنے کا اعلان بھی کر سکتے ہیں مگر ایسا کچھ بھی نہ ہو سکا بلکہ اپنی پریس کانفرنس میں زیادہ تر انہوں نے اپنی وزارت اور کار کردگی سے متعلق ہی باتیں کیں۔وہ افراد جو کئی دہائیوں سے انہیں قریب سے جانتے ہیں انہیں پہلے ہی  بخوبی علم تھا کہ وہ قطعی طور پر  مسلم لیگ نواز کے خلاف  ایسی کوئی بات نہیں کریں گے کیونکہ وہ روز اول سے یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کی پہلی و آخری جماعت مسلم لیگ نواز ہی ہے۔ہاں البتہ انہوں نے پارٹی لیڈرشپ سے اختلاف رائے کا ذکر ضرور کیا۔اور بتایا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے آخری لمحات تک اصرار کے باوجود وزارت لینے سے انکار کیا اس کے لیے انہوں نے ان دونوں حضرات کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اس طرح کا اختلاف رائے بڑی پارٹیوں میں ہوتا ہی ہے اور اسے باشعور طبقوں میں صحت مند اور مثبت خیال کیا جاتا ہے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سپریم کورٹ کی جانب سے نااہلی سے متعلق اپنے موقف پر وہ قائم رہے انہوں نے پاناما کیس میں دوماہ تک جے آئی ٹی کی جانب سے  شریف خاندان کے ساتھ  روا رکھے گئے  سلوک سے متعلق بھی کسی قسم کے منفی یا مثبت تبصرے سے انکار کیا ۔انہوں نے پرویز مشرف کی  بیرون ملک روانگی اور واپسی سے انکار سے متعلق مسلم لیگی حکومت کے موقف کا بھرپور دفاع کیا اور خصوصی عدالت، سندھ ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیاکہ ان فیصلوں کو پڑھ کر نتیجہ اخذ کر لیا جائے کہ سابق آمر کیسے ملک سے باہر گیا،  چوہدری نثار کے مطابق مشرف نے وزارت داخلہ کو نہیں عدالت کو بتایا تھا کہ ریڑھ کی ہڈی کے علاج کے بعد چند ہفتے بعد وہ وطن واپس آ جائے گاایسے میں یہ وزارت داخلہ نہیں عدالت کی ذمہ داری تھی  کہ وہ مشرف سے وطن واپسی کی ضمانت طلب کرتی  اور اگر خصوصی عدالت مشرف کو پیش کرنے کا حکم دیتی تو وزارت داخلہ  اس کے ریڈ وارنٹ جاری کرتی۔

تازہ ترین