آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لو جی قصہ ہی ختم ہو گیا۔ بیچ چوراہے میں بھانڈا ہی پھوٹ گیا۔ بہت دنوں سے میڈیا میں احمد نورانی پر ہونے والے حملے کے حوالے سے چرچا تھا۔ جس نے سنا دل جوئی کے لیے اسپتال پہنچ گیا۔ جس نے تصویر کھنچوا کر چینلوں پر چلانی تھی دو سو روپے کا گلدستہ لے کر بیمار پرسی کو جا پہنچا۔ صحافی تنظیموں نے بھی موقع سے خوب فائدہ اٹھایا ۔ دل کھول کر بھڑاس نکالی۔جس کو جہاں چار لوگ میسر ہوئے اس نے بینر پر نورانی کی تصویر لگا کر آزادی صحافت کا چورن بیچا۔ حکومت کے خلاف دل کھول کر نعرے لگائے گئے۔ اسٹیبلشمنٹ کو بھی توم ڈالا ۔ اصل میں آج کل آزادی اظہار کا نعرہ باقاعدہ فیشن بن گیا ہے ۔ اتنے اخبارات ، چینلز ، ریڈیو اسٹیشنز اور مجلوں کے دور میں آزادی صحافت کا علم بلند کرنا ویسے بھی ایک سہل کام ہے۔ ہر کوئی منہ اٹھا کر صحافیوں کے حق میں گفتگو شروع کر دیتا ہے۔ بھئی ،اس ملک میں کوئی چیز مشہور ہو جائے بس پھر سب اندھا دھند پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نے عیادت کا پیغام کیابھیجا سب کو پر لگ گئے۔ چھوٹے چھوٹے وزیر تک اس کار نیک میں شریک ہو نے کے خواہشمندبنے رہے۔ وزیر ختم ہوئے تو اپوزیشن کی باری آگئی۔ اس سے نجات ملی تو ایم این اے اور ایم پی اے میدان میں اترے۔ گلدستے لے کر ، پریس فوٹو گرافر کی مٹھی گرم کر کے آزادی صحافت کی شمع روشن کرنے

لگے۔آخر میں تو معاملات یونین کونسلر کی سطح تک پہنچ گئے۔ احمد نورانی نے اپنی خود ساختہ قربانی کا یہ حشر دیکھا تو بغل میں بسترا باندھا اور اسپتال سے رخصت ہو لئے۔
بات احمد نورانی پر حملے کی وجوہات سے شروع ہوئی تھی جانے بیچ میں جملہ معترضہ کہا ں سے آن آ ٹپکا۔ذکر ہو رہا تھا ایک فاضل مقامی روزنامے کا جس نے احمد نورانی کا سارا کچا چٹھا کھول کر بیان کر دیا ۔ جیسا کہ دشمنوں کو پہلے ہی شک تھا وہی ہوا۔ قصہ عشق کا نکلا۔ کہانی نظرکچھ اور آرہی تھی معاملہ کچھ اور نکلا۔ اس فاضل مقامی روزنامے کے مطابق احمد نورانی کے ساتھ مار پٹائی کا موجب مقامی یونیورسٹی کی ایک حسینہ تھی۔ جس کے نشیلے نینوں کے صاحب دیوانے تھے۔ جس کی زلفوں کے بارے میں رشک قمر جیسے بیہودہ اشعار پڑھتے تھے۔ بکر ے کی ماں کب تک خیر مناتی ایک دن دوشیزہ جو حسن و جمال کا مرقع تھی اس کے برادران خورد نے سرعام انتقام کی آگ ٹھنڈی کی۔بہادر برادر خورد اس موقع پر تنہا نہیں تھا ۔ اس نے اس نیک کام میں اپنی معاونت کے لئے پانچ اور غیرت مند بھائیوں کا انتظام کیا اور زیرو پوائنٹ کے قریب موقع غنیمت جان کر سرعام غیرت کا مظاہرہ کیا اور مذکورہ نام نہاد صحافی کومار پیٹ کربحالی غیرت کے مشن میں کامیاب رہے۔سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ کام مکمل ہونے پر ملزمان نے بحالی غیرت سے سرشار ہو کر چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے حق میں نعرے بھی لگائے۔جیسا کہ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ ایسے نام نہاد صحافی جو اس طرح کی قبیح حرکتوں مشغول رہتے ہیں وہ فورا آزادی اظہار کا دامن تھام لیتے ہیں۔ جمہوریت کا ڈھول بجانا شروع کر دیتے ہیں۔ عوام کے حق حاکمیت کا ماتم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ احمد نورانی نے بھی یہ ہی کیا ۔ دیکھا دیکھی خواتین کو چھیڑنے والے دیگرصحافی بھی اس جرم میں علی الاعلان شامل ہو گئے۔
آج کل صحافیوں ، روزناموں اور اینکروں میں تحقیق کا شدت سے فقدان ہے۔ ایسے ہی سنی سنائی بے پر کی اڑا دیتے ہیں۔ اگر چہ مجھے یقین کامل ہے احمد نورانی کے بارے میں مبیںہ خبر شائع کرتے ہوئے فاضل مقامی روزنامے نے بھرپور تحقیق کی ہو گی۔ لیکن اس خبر کو پڑھ کر دل میں شک سا رہ گیا کہ کہیں پیشہ ورانہ رقابت میں کسی راہ چلتے رپورٹر نے یہ بہتان تراشی نہ کی ہو۔ اس لئے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے خاکسار نے خود تحقیق کا بیڑہ اٹھایا۔ اگر چہ فربہی کے عالم کی بنا پر راقم خود کو اٹھانے میں لیت و لعل سے کام لیتا ہے کسی اور کا بیڑہ تو اٹھانا دور کی بات ہے۔لیکن جہاں معاملہ ہو آزادی صحافت کا تو احقر سے رہا نہیں جاتا ۔ اس لئے اس مشکل کام میں ہاتھ ڈال ہی دیا۔ ابھی تک اس تحقیق کے ہوشربا نتائج سامنے آچکے ہیں۔ بس سمجھیں ایسے ایسے انکشافات ہوئے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ خاکسار خود شرم سے کئی دفعہ ڈوبتے ڈوبتے بچا۔
یہ قصہ احمد نورانی کے بچپن سے شروع ہو تا ہے۔جرم کی ابتدا تو بچپن سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ابھی یہ صاحب کم سن ہی تھے کہ اپنے گائوں میں ایک بڑے درخت کی چھائوں تلے ایک اوپن ائیر اسکول میں تختی پر ایک مقامی اسکول کی طالبہ کا نام لکھتے پکڑے گئے۔ گائوں میں غیر ت مند موٹر سائیکل سوار تو دستیاب نہیں تھے اس لئے ماسٹر صاحب نے چھڑی کی شدید ضربات سے عشق کا بھوت اتار دیا۔ عشق کا بھوت کیا اترنا تھا صاحب، ڈھٹائی مزید بڑھ گئی۔ جناب والا۔ یہی وہ مجرم ہے جو عین عالم شباب میں گائوں کی ٹوٹی پھوٹی گلیوں میں موٹر سائیل پر بارہا ون ویلنگ بھی کرتے پایا گیا ہے۔ جرم کی شدت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فساد خلق خدا کے لئے موٹرسائیکل پر سے سائلنسر بھی اتار دیا گیا۔ اس خبر کی تحقیق ایک مقامی بزرگ نے بھی کی ہے۔ایک اور بزرگوار نے کان میں بتایا کہ بات بے سائلنسر موٹر سائیکل تک محدود نہیں رہی بلکہ اس زمانےمیں یہی قومی مجرم ٹوٹے پھوٹے شعر بھی کہنا شروع ہو گیا تھا۔ جو وزن اور اخلاق دونوں سے گرے ہوئے تھے۔موصوف اس زمانے میں مضروب تخلص کیا کرتے تھے جس کی زندہ و جاوید تصویر آج خود بنے ہوئے ہیں۔ایک مبینہ ڈائری کا بھی سراغ ملا ہے جس میں فراز ، فیض اور جالب جیسے شاعروں کے عاشقانہ اور فاسقانہ اشعار کی بھرمار تھی۔اخلاق باختگی کا یہ سلسلہ یہاں پر رکا نہیں بلکہ کچھ نیم مصدقہ ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ مضروب نے جوانی میں اپنی کلائی پر ایک دل اور اس میں پیوستہ تیر کا نشان بھی کھدوا لیا۔جس کا مقصد گائوں کی باپردہ خواتین پر ڈورے ڈالنے کے علاوہ مغربی طرز محبت کو فروغ دینا بھی تھا۔ اسی طرح ایک قریبی تعلق دار نے نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر یہ بھی بتایا کہ چھپ چھپ کر بیہودہ انگریزی فلمیں دیکھنا، دشمن ملک کی فلموں کے عشقیہ گانے گانا، اونچی اونچی آواز میں ہیر وارث شاہ کے ذومعنی شعر پڑھنا بھی ملزم کا وہ طرہ رہا ہے جس پر بالکل امتیاز نہیں کیا جا سکتا۔ایک قریبی دوست نے یہ بھی بتایا کہ نورانی دوستوں کو فون پر کثیفے بھی فارورڈ کیا کرتا تھا۔ کثیفے دراصل لطیفے کی اس شکل کو کہتے ہیں جس کی اجازت تحریر کی طہارت نہیں دیتی۔مبینہ دوست نے ان چند کثیفوں میں سے چند ایک راقم کو دکھائے ۔ خاکسار پہلے تو مشرقی رویات کے مطابق بہت محظوظ ہوا اور پھر دل بھر کر توبہ توبہ بھی کی۔ اس کے علاوہ اگر آپ احمد نورانی کے فیس بک اکائونٹ پر جائیں تو بہت سی خواتین بھی فرینڈزلسٹ میں ملیں گی جو کہ کردار کے اس غازی کی دیدہ دلیری کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔احمد نورانی کے جرائم کی فہرست تو بہت طویل ہے۔لیکن یہ سب اس زمانے کا ذکر ہے کہ جب احمد نورانی ایک لفافہ صحافی نہیں بنا تھا۔ جب اس کے اکائونٹ میں اربوں ڈالر اور ہر ہائوسنگ سوسائٹی میں اس کے پاس پانچ سو گز کا پلاٹ نہیں تھا۔
اب جو ہوا ہے وہی ہونا چاہئے تھے۔ برے کاموں کا برا نتیجہ ہی ہوتا ہے۔اس وضاحتی تحریر کا مقصد عوام الناس کو یہ بتانا تھا کہ جو کچھ ہوا یہ احمد نورانی کی حرکتوں کا شاخسانہ تھا۔ماضی میں جید صحافیوں حامد میر، عمر چیمہ اور مطیع اللہ جان پر بھی آزادی اظہار کا الزام لگا لیکن تحقیق نے نتائج کچھ اور ثابت کئے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان واقعات کا جمہوریت سے ، اداروں کی جنگ سے، عوام کے حق حاکمیت سے، آزادی صحافت وغیرہ وغیرہ سے کوئی دور پار کا بھی تعلق نہیں ہے۔ مزید یہ کہ سچ لکھنے کی خواہش، حق کا علم اٹھانے کے نظریئے، حقائق کے بیان سے ان واقعات کا رشتہ جوڑنا بھی غلط ہے۔ یہ بے پر کی دشمنوں نے اڑائی ہے۔ بات سامنے کی ہے۔ احمد نورانی لڑکیوں کو چھیڑتا ہے اور ایسے ناہنجاروں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں