• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رسول کریم کاطریقہ انقلاب قرآن وسنت کی روشنی میں...قاضی حسین احمد

ایک صاحب نے بڑی بے چینی کے عالم میں مجھے ٹیلیفون کیا کہ ایک عیسائی پادری نے قرآن کریم جلانے کی جو شرمناک حرکت کی ہے اس کے مقابلے میں کیا ہمیں جہاد نہیں کرنا چاہیے تو میں نے یہی جواب دیا کہ جہاد کا جوطریقہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیاتھا اسی طریقے پر عمل کرکے دنیا کو اس طرح کی قابل نفرت حرکتوں سے پاک کیا جاسکتاہے۔
ہمیں بنی نوع انسان کے دلوں میں قرآن کی عزت پیدا کرنی ہے توخود اپنے معاشرے کو اس کے مطابق ڈھالنے کے لیے لمبے عرصے کی منصوبہ بندی اور مسلسل محنت کرنی پڑیگی۔امام مالک کا قول ہے۔
لایُصلِحُ آخِرَ ھٰذِہ الاُمةِ الا مااَصلَح اوّلَھا
مجموعہ فتاوی ابن تیمیہ  میں امام مالک کا یہ قول نقل کیاگیاہے۔ اس اُمت کی آخر کی اصلاح بھی اسی طریقہ سے ہی ممکن ہوگی جس نے اس اُمت کے پہلے لوگوں کی ا صلاح کی ۔اُمت کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہترین نمونہ ہیں۔
”یقینا تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کو راضی کرنا چاہتے ہیں اور جو آخرت کی کامیابی کے طلبگار ہیں اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتے ہیں۔“
قرآن کریم کی متعدد آیات میں اُمت مسلمہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ جس طرح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت مسلمہ کی تشکیل کی اور اسلام کے دین کو دوسرے تمام نظاموں کے مقابلے میں بالادست بنایا اسی طرح ان کا بھی فرض ہے کہ پوری انسانیت کو اس دین کے ذریعے آپس میں جوڑ کر عدل وانصاف کابول بالا کردیں۔
”اور ہم نے تمہیں عدل و انصاف کی علمبردار اُمت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بن جاؤ اور حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اوپر گواہ ہوں گے۔“
تمام انبیاء کو اللہ کی طرف سے ایک ہی دین اسلام کی دعوت پر مامور کیا ہے۔ جس کی بنیاد توحید کے عقیدے پر ہے۔
”تمہیں اسی دین کے راستہ پر چلنے کی تلقین کی گئی ہے جس کی وصیت ہم نے نوح علیہ السلام کو کی تھی ۔ اُسی کی وحی تمہیں کی گئی ہے۔ اسی کی وصیت ہم نے ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو کی تھی اور ہم نے یہ تلقین کی ہے کہ دین کو قائم کرو ”اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو“
اُمت مسلمہ کے اسی فریضہ کو ”فریضہ اقامت دین “ کی اصطلاح سے تعبیر کیاگیاہے۔ قرآن کریم میں اسی فریضہ کو ”اعلائے کلمة اللہ “” اظہار دین “اور ”نظام قسط اور عدل“ کی اصطلاحات سے بھی واضح کیاگیاہے۔
قرآن کریم میں اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے :۔
”یقیناہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان بھیجی ”تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوجائیں ۔ “
دورِ حاضر میں علامہ اقبال نے اُمت کو متحدکرنے کے لیے اسے حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے ساتھ جوڑنے کا پیغام دیا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے فرمایا :
دردِلِ مسلم مقامِ مصطفی است
آبروئے مازنامِ مصطفی است
درشبستانِ حراخلوت گزید
قوم وآئین و حکومت آفرید
از کلیدِدین دَرِ دنیا کشاد
ہمچو او بطنِ اُمِ گیتی نزَاد
موٴمنان راگفت آن سلطانِ دین
مسجد من این ہمہ روئے زمین
الامان از گردش نہُ آسمان
مسجد موٴمن بدست دیگران
سخت کوشد موٴمنِ پاکیزہ کیش
تابگیرد مسجدِ مولیٰ ئے خویش
اے کہ از ترک جہان گوئی مگو
ترک این دیرِکہن تسخیرِاو
مسلم کے دل میں مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق بیٹھا ہواہے۔
1۔ ہماری آبرو ان کے نام نامی سے ہے ۔
2۔ انہوں نے حرا کی تاریکیوں میں خلوت اختیار کی ۔
3۔ وہاں سے نکل کر قوم بنائی ،آئین دیا اور حکومت بنائی ۔
4۔موٴمنوں سے اس سلطانِ دین نے کہا کہ میرے لیے پوری روئے زمین مسجد بنا ئی گئی ہے۔
5۔ نو آسمانوں کی گردش سے امان چاہتاہوں کہ اس روئے زمین کی باگ ڈور جو موٴمنون کی مسجد ہے دوسروں کے ہاتھ میں ہے۔
6۔پاکباز موٴمنوں کا فرض ہے کہ انتہائی جدِوجہد اور محنت کریں تاکہ اپنے آقا کی مسجد (روئے زمین )کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں کرلیں ۔
7۔ان لوگوں سے جو ترک ِدنیا کی تعلیم دیتے ہیں کہتاہوں کہ ایسا مت کہو کیونکہ اس دنیا کی تسخیر کے لیے جان لڑانا ہی دراصل اسے ترک کردیناہے ۔
قرآن کریم کے بارے میں علامہ نے کہا
گر تو می خواہی مسلمان زیستن
نیست ممکن جز بہ قرآن زیستن
اگر مسلمان کی طرح زندگی گزارنا چاہتے ہو تو قرآن کی تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزارنے کے سوا کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے۔اُمت مسلمہ کو متحد کرنے کے لیے مولانا مودودی نے نہ صرف اسے اپنی تحریرو تقریر سے اسے قرآن وسنت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی بلکہ اس کے لیے انہوں نے ایک جماعت کی تشکیل کی جس کے سامنے انہوں نے وہی مقاصد رکھے جن کی نشاندہی قرآن وسنت میں کی گئی ہے اور وہی طریقہ اختیار کیا جو خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیاتھا۔
مقاصد کے ذیل میں جماعت اسلامی کے دستور میں واضح کردیا گیاہے کہ خالصتاً اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح ہی اصل مقصد ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وہی طریق کار اختیار کیا جو خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیاتھا۔
حضو رنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی اولین بنیاد یہ ہے کہ دعوت اللہ کی بندگی کی طرف ہوگی نہ کسی شخصیت کی طرف اور نہ کسی جماعت کی طرف قُلْ ھٰذِہ سَبِیْلیْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِی(۱۲:۱۰۸)۔ ”آپ کہیں یہی میراطریقہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت کے ساتھ، میں اور جو میری پیروی کرنے والے ہیں۔ ( جب جماعت کی تشکیل ہو رہی تھی تو ابتدائی مشوروں میں مولانا مودودی کے ساتھ جید علماء بھی شامل تھے اور یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ کہیں ایسا تو نہ ہوگاکہ ہم اُمت کو متحد کرنے کے لئے جماعت بنائیں اور اُمت کو متحد کرنے کی بجائے خود ایک نیا فرقہ بن جائیں تو اس کے جواب میں یہی دلیل دی گئی کہ دعوت چونکہ نہ کسی جماعت کی طرف ہوگی نہ کسی شخصیت کی طرف بلکہ خالص اللہ کی بندگی کی طرف ہوگی اس لیے ہم الگ فرقہ بننے سے بچے رہیں گے۔ دوسری تدبیر یہ اختیار کی گئی کہ ہم یہ دعویٰ نہیں کریں گے کہ صرف ہم ہی حق پر ہیں اور جو ہماری جماعت میں نہیں آتا وہ حق کے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں کیونکہ یہ دعویٰ صرف نبی کرسکتاہے ۔ اُمتیوں نے جو جماعت بنائی ہے وہ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ قرآن و سنت کی روشن تعلیمات کی روشنی میں ہم نے یہ طریقہ بہتر سمجھا ہے لیکن دوسروں کو برسرباطل یا گمراہ یا حق کے راستے سے ہٹا ہوا نہیں کہہ سکتے۔ اس لیے ہم تمام مسلمانوں کے ساتھ محبت رکھیں گے ہر مسجد میں ہر مسلک کے امام پیچھے نماز پڑھیں گے ۔ اس لیے ہم فرقہ بننے سے بچے رہیں گے۔
جماعت نے اپنے دستور میں اپنے عقیدے کی وضاحت کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمارا عقیدہ لالہ الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے اسی کے گرد اُمت کو متحد کیا جاسکتاہے۔ اُمت کو شیعہ ، سنی ، دیوبندی ،بریلوی ،اہلحدیث کی مسلکوں کی طرف بلانے کی بجائے قرآن وسنت کی طرف دعوت دینے کے ذریعے ہی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیاجاسکتا ہے۔ اللہ نے خود قرآن کریم میں ہمارا نام ”مسلم “ رکھاہے۔
ھوسمکم المسلمین من قبل و فی ھذا
ترجمہ:اس نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے پچھلی اُمتوں میں بھی اور اس قرآن میں بھی ۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بندگی کی طرف بلایا اور جن لوگوں نے یہ دعوت قبول کی ان کی تربیت کی انہیں کتاب اللہ کی آیات سنائیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دی ۔ کتاب کے علاوہ حکمت وہ تعلیم وتربیت ہے جو حضور نے اللہ کی وحی کی روشنی میں کی اور جسے سنت کی اصطلاح سے بھی یاد کیا جاتاہے۔
اس طریق کار کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہے :
”یقینا اللہ نے احسان کیا موٴمنین پر جب اس نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور ان کا تزکیہ کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اگرچہ اس سے قبل یہ لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے ۔ “
اقامت دین کا یہی طریقہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونے کے مطابق جماعت اسلامی نے اختیار کیا۔
i)۔اللہ کی طرف دعوت ۔
ii)جو قبول کریں ان کی تعلیم وتربیت کا اہتمام ۔
iii)۔اس تربیت یافتہ گروہ کی تنظیم ۔ان میں سمع وطاعت کا جذبہ پیدا کرنا اور مشاورت سے اپنے اُمور طے کرنے کا عادی بنانا ۔
iv)۔اس گروہ کو حکومت اور معاشرے کی اصلاح کے لیے جدوجہد میں مصروف رکھنا۔
اس چار نکاتی پروگرام کو مختصر طور پر دونکات میں بیان کیا جاسکتاہے ۔
i)۔ دعوت الی اللہ۔ ii)۔جہاد فی سبیل اللہ
مولانا مودودینے جہاد کے وسیع تر معنی سمجھائے کہ اعلائے کلمة اللہ اور اقامت دین کی ہر کوشش چاہے وہ تقریر وتحریر سے ہوچاہے وہ زمین میں چلت پھرت سے ہو اور چاہے اللہ کے دین کے راستے سے رکاوٹیں ہٹا نے کے لیے جنگ سے ہو ”جہاد فی سبیل اللہ “کی تعریف میں آتاہے اس راستے میں جان لڑانا اور مال خرچ کرنا بھی جہاد فی سبیل اللہ ہے لیکن انہوں نے قتال فی سبیل اللہ اور فساد فی الارض کے مابین فرق کو بڑی وضاحت سے سمجھایا اوردعوت کے لیے وہی راستہ اختیار کیا جس کی ملکی دستور اور قانون اجازت دیتاہو ،تا کہ اصلاح کا دعویٰ لے کر اٹھنے والے لوگ اقامت دین اور نظام عدل قائم کرنے کی بجائے زمین میں انتشار اور فساد کا باعث نہ بن جائیں۔
میں یہ، دعویٰ نہیں کرتاکہ جماعت اسلامی اور اس کے کارکنوں نے ان تمام اصولوں کا پوری طرح لحاظ رکھاہے۔ اصولوں اور اس پر عمل کرنے میں کہاں کہاں جھول پیدا ہواہے ۔ اس پرانشاء اللہ کسی اگلی تحریر میں قلم اٹھاؤنگا اس وقت یہ مقصود ہے کہ منہج الرسول صلی اللہ علیہ وسلم یعنی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق کار کی وضاحت ہو اور اس کی روشنی میں مولانا مودودی کی کوششوں کا ذکر ہواور جماعت اسلامی کے اصولی طریق کار کی وضاحت کی جائے۔

تازہ ترین