آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب میں اشرافیہ کی آپس کی جنگ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ میاں نواز شریف عدلیہ سمیت جن دوسرے اداروں سے نبرد آزما ہیں ان کے کلیدی کرداروں کا تعلق بھی پنجاب سے ہے۔ ستر کی دہائی کی مذہبی تحریک جو پنجاب میں احمدیہ مخالف فسادات سے شروع ہوئی تھی آہستہ آہستہ ملک گیر حیثیت اختیار کر گئی تھی۔ عمران خان اور مولانا طاہر القادری کے دھرنے بھی بنیادی طورپر پنجاب کے سیاسی تضادات کاپرتو ہیں۔پہلے کی طرح اب بھی پنجاب یدھ کا میدان ہے اور اس کے جو بھی نتائج برآمد ہوں گے ان کے اثرات سارے پاکستان پرہی نہیں پورے بر صغیرپر مرتب ہوںگے۔ پتھر کے زمانے سے لے کر جدید دور تک پنجاب نئے رجحانات کا رہنما اشارہ ثابت ہوا ہے۔
عصر حاضر کے برصغیر میں مذہبی انتہا پسندی کاجو آغاز ستر کی دہائی میں مشرقی و مغربی پنجاب سے ہوا تھا اس نے اسی اور نوے کی دہائی میں پورے برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مغربی (پاکستان) پنجاب میں جب ذوالفقار علی بھٹو مذہبی دھڑوں کے دباؤ میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے علاوہ دوسرے مذہبی قوانین بنا رہے تھے تو مشرقی پنجاب (ہندوستان) میں خالصتانی تحریک جڑیں پکڑ رہی تھی۔ تب تک نہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) وجود میں آئی تھی اور نہ ہی راشٹریہ سیوک سنگھ کے ہندوتوا کے فلسفے کی کوئی شنوائی تھی۔ پھر جب اسی کی

دہائی میں جنرل ضیا الحق مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلا رہے تھے ، اور مشرقی پنجاب میں خالصتانی شورش میں ہزاروں بے گناہ مارے جا رہے تھے تو 1980میں بی جے پی کی بنیاد رکھی جا رہی تھی: آج ہندوستان میں ہندتوا کو پھیلانے والی بی جے پی کو 1984کے انتخابات میں صرف دو سیٹیں ملی تھیں۔ لیکن اسی دور میں پاکستانی پنجاب سے اٹھنے والی مذہبی تحریک پورے پاکستان پر غالب آچکی تھی اور مشرقی پنجاب میں نہ صرف خالصتانیوں نے خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کی ہوئی تھی بلکہ وہاں کے مرکزی دھارے اور حکومت پر بھی بنیاد پرست سکھ پارٹی ، ’شرومنی اکالی دل، چھائی ہوئی تھی۔ غرضیکہ جو کچھ ستر کی دہائی میں پنجاب (مشرقی و مغربی) میں ہونا شروع ہوا وہ بعد میں پورے برصغیرتک پھیل گیا۔
ستر اور اسی کی دہائی کے پنجاب میں جو سیاسی تبدیلیاں آئیں ، ان کا بدلتی ہوئی معیشت سے گہرا تعلق تھا۔ ہندوستان میں سب سے پہلے مشرقی پنجاب کے زرعی شعبے میں سبز انقلاب آیاجس سے نہ صرف وہ ہندوستان کا امیر ترین صوبہ بن گیا بلکہ وہاں دو ہزار سالوں سے موجود خود کفیل زرعی معاشرے کو مشینی کاشت نے تہہ و بالا کردیا۔اس انقلاب نے جس طرح انسانی رشتوں کو متاثر کیا اس نے ایک سماجی بحران پیدا کردیا اور ایک نظریاتی خلا پیدا ہو گیا۔ اس خلا کو پہلے بائیں بازو کی نکسل باڑی تحریک نے پر کرنے کی ناکام کوشش کی اور اسی کو بعد میں خالصتانی تحریک نے پر کیا۔ ستر کی دہائی میں ہی پاکستانی پنجاب سے بڑی تعداد میں تارکین وطن نے دوسرے ملکوں ، بالخصوص مشرق وسطیٰ کا رخ کیا اور ان کی ترسیلات سے بنیادی معاشی تبدیلی کا آغاز ہوا۔ تھوڑے ہی عرصے میں زرعی شعبے میں مشینوں نے پرانے پیداواری نظام کی جگہ لینا شروع کی ، خود کفیل دیہات کا خاتمہ ہوا، اور ایک نیا معاشرہ وجود میں آنے لگا۔ اس تبدیلی سے مشرقی پنجاب کی طرح کا سماجی اور نظریاتی خلا پیدا ہوا جسے مذہبی تحریکوں نے پر کیا۔یہی عمل باقی ماندہ برصغیر میں چند دہائیوں بعد میں آیا۔
برصغیر کی کئی ہزار سالہ تاریخ میں یعنی پتھر کے زمانے سے پنجاب رہنما اشارے کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سندھ وادی کی تہذیب کا مرکزبھی پنجاب تھا: اس دور کا سب سے بڑا شہر ہڑپہ پنجاب کے وسط میں واقع ہے۔ اس علاقے میں پہلے انسانی بستیوں کا بسنا اس لئے ممکن تھا کہ یہاںباقی برصغیر کی طرح گھنے جنگلات نہیں تھے جن کو صرف لوہے کی ایجاد کے بعد صاف کرکے بسا یاجا سکتا تھا۔ یہاں چھدرے، چھوٹی جھاڑیاں والے غیر آباد علاقوں کو پتھر کے ہتھیاروں سے صاف کیا جا سکتا تھا۔ یہاں چھوٹے دریاؤں کا جال اور نرم مٹی کی وجہ سے لکڑی کے ہل کے ساتھ بھی کھیتی باڑی کی جا سکتی تھی: یہاں ہڑپے جیسے بڑے شہروں کی موجودگی اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ پورے علاقے میں زرعی پیداوار وافر مقدار میں موجود تھی: شہر خود کوئی اجناس پیدا نہیں کرتے اور تب تک شہر آباد نہیں ہو سکتے جب تک اس علاقے میں زرعی پیداوار وافر مقدار میں نہ ہو۔
آریاؤں کی آمد بھی سب سے پہلے اس علاقے میں ہوئی اور ہندو مت کی پہلی مقدس کتاب، رگ وید، بھی یہیں لکھی گئی۔ مہا بھارت کا عظیم یدھ بھی یہیں ہوا اور موریہ سلطنت کی بنیاد بھی یہیں رکھی گئی۔ بدھوں سے وابستہ عظیم کھنڈرات بھی یہیں پائے جاتے ہیں اور شمال سے آنے والے مسلمانوں نے سب سے پہلے پنجاب کو فتح کیا اور اسی علاقے میں مسلمان سب سے پہلے اکثریتی آبادی بن گئے۔ یہ علاقہ تہذیب کے حوالے سے کافی ترقی پسند تھا کیونکہ بارہویں صدی میں محمود غزنوی کے زمانے کے تاریخ دان ابو ریحان البیرونی نے مرکزی ایشیا کا اس سے تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ لوگ اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ یہ ہر کام میں اپنی بیویوں سے مشورہ کرتے ہیں۔ یہیں سب سے پہلے بابا فرید نے مقامی زبان میں لکھا اور یہیں بڑے بڑے صوفیاء شاعر پیدا ہوئے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہیںمہاراجہ رنجیت سنگھ نے پنجابی سلطنت قائم کرکے شمال سے آنے والے حملہ آوروں کا سات صدیوں کے بعد راستہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا۔ مزید برآں پنجاب میں ہی سب سے پہلے مذہبی تفریق میں شدت آئی جب 1930 کی دہائی میں ہندوئوں کی آریہ سماج ، سکھوں کی سنگھ سبھائیں اور مسلمانوں کی انجمنیں قائم ہوئیں۔ ایک لحاظ سے پنجاب ہی ہندوستان کی تقسیم کا باعث بنا اور آج تک پاک ہند تنازع بنیادی طور پر پنجاب کا مسئلہ ہے۔ پنجاب منفی رجحانات میں بھی پیش پیش رہا ہے۔ مشہور تاریخ دان ڈی۔ ڈی۔ کوسامبی کی تحقیق کے مطابق یہ علاقہ ایک زمانے میں یونانی فلسفے کا ہم پلہ تھا لیکن بعد میں حکمرانوں اور پروہتوں ، پنڈتوں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے رسوماتی مذہب کا غلبہ ہو گیا اور علم و تحقیق کے دروازے بند ہوگئے۔ پنجاب کی تاریخ میں رجحان یہ رہا ہے کہ یہاں پیداواری ذرائع اور افکار میں انقلاب برپا ہوتا ہے جس کے بعد حکمرانوں اور مذہبی گروہوں کے گٹھ جوڑ سے تنگ نظری اور علم دشمن فضا قائم ہو جاتی ہے۔ اگر پچھلے پچاس سال کی تاریخ ہی دیکھیں تو بھٹو دور کے بعد حکمرانوں کا مذہبی گروہوں کے ساتھ جو اتحاد قائم ہوا اس سے نظریاتی بیانیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید تنگ نظری کا شکار ہوتا گیاہے: اگر 1977 کی قومی اتحاد کی تحریک کی رہنمائی رجعتی مگرنسبتاً عقلیت پسند مذہبی پارٹیوں (جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام) کے ہاتھ میں تھی تو اب مذہبی بیانیہ فرقہ واریت کے انتہائی پس ماندہ عناصر کا سیاسی ہتھیار بن گیا ہے۔ پنجاب کی موجودہ صورت حال سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ابھی ہندوستان کی تنگ نظری اور مذہبی منافرت میں مزید اضافہ ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں