آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
شہباز کرے پرواز؟

ہوشیار! خبردار! تحریک ِ انصاف والو جاگو، شہباز شریف میدان میں آچکا ہے۔ پنجاب حکومت مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں ہے۔ وفاقی حکومت اس کے پیچھے کھڑی ہے۔ مقتدر قوتوں کےلئے بھی وہ نسبتاً قابل قبول ہے۔ الیکشن سے پہلے پہلے وہ اپنا نیا صلح جُو بیانیہ سامنے لائے گا جس میں عدلیہ اور مقتدر قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے بلکہ ان کے اعلیٰ مقاصدکے حصول کے لئے اپنی آمادگی کا اظہارکرے گا۔ یوں وہ آئندہ کے منظرنامے میں اپنی جگہ بنائے گا۔ وہ ن لیگ کو پی ٹی آئی کی جگہ فٹ کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کرچکا ہے۔ پی ٹی آئی والو جاگو! ’’سسّیے بے خبرے نی، تیرا لٹیا شہر بھنبھور‘‘
شہبازی بڑے عملیت پسند ہوتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مقتدر قوتوں کا سیاسی آپریشن مکمل ہوچکا ہے۔ مقتدر حلقوں کا اختلاف صرف نواز شریف اور ان کے بیانیے سے ہے۔ شہباز شریف کا بیانیہ انہیں اچھا لگتا ہے۔ ایک شہبازی نے کہاکہ اگر نواز شریف شروع میں خود ہی شہباز شریف کو آگےلے آتے تو جوکچھ ہوا یہ سب بھی نہ ہوتا۔ نہ احتساب عدالتوں کے چکرلگانا پڑتے اور نہ اپنے مخالف گواہوں کو سننا پڑتا۔ بہتر ہوتا کہ بڑے میاںصاحب بیرون ملک ہی

رہتے۔ اب بھی بہتر یہی ہوگا کہ بیگم کلثوم نواز کی نگہداشت کے لئے بڑے میاں صاحب اورصاحبزادی صاحبہ باہر چلے جائیں۔ ان پر اور ان کی جماعت پر سے بہت سی بلائیں ٹل جائیں گی۔ بڑے ایوان کے اس شہبازی کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ن پر سے مشکل وقت گزر چکا۔ توازن قائم رکھنے کے لئے تھوڑا بہت احتساب تو ہوتارہے گا مگر اب ن لیگ کی قیادت کے خلاف کسی بڑی کارروائی کا امکان نہیں رہا۔
شہبازی مکتب ِ فکر کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کو برسراقتدار لانے کے لئے بہت بڑی سیاسی لابنگ اورانتخابی انجینئرنگ کی ضرورت ہوگی جبکہ شہباز شریف کے زیرقیادت ن لیگ کوصرف بڑے دربارکی نظرکرم کی ضرورت ہوگی۔ شہبازشریف کا ٹریک ریکارڈ گواہ ہےکہ وہ’’مختلف‘‘ ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کرکام کرنے کو تیار ہے۔ وہ اپنے بڑے بھائی کا تابع فرمان بھی ہے اور اس نے اس وقت تک پارٹی امور میں دخل اندازی نہیں کی جب تک عدالت نے نواز شریف کو صدارت سے ہٹا نہیں دیا اورشہبازشریف کو خود پارٹی کی صدارت دے نہیںدی گئی۔ اب پہلی بار شہباز شریف اپنے نظریے اور فلسفے کے ساتھ باہر آئیں گے اور اپنا نیا راستہ خود بنائیں گے۔
میرا اسی شہبازی دوست سے مکالمہ ہوا۔میں نےکہاکہ اگر شہبازاتنے ہی پسندیدہ ہیں تو پھرحدیبیہ کا معاملہ کیوں اٹھا؟ اور اگراتنے ہی قریب ہیں تو ان کے خلاف لاہور میں دھرنے کیوں ہوئے؟لاہورمیں مشترکہ جلسے اور قصاص کے مطالبے کیوں؟ شہبازی نے مسکرا کر کہا’’ اب حدیبیہ کہاں ہے؟ اوردھرنوں کاانجام کیا ہوا؟ قصاص مانگنےوالے طویل عرصے کے لئے منظر سے غائب ہو گئے۔ بنیادی طور پر تو ان تمام معاملات سے شہباز شریف کوبرّی قرار دلوا دیا گیاہے۔‘‘ میں کب ہار ماننے والا تھا، فوراً سوال داغ دیا’’نیب نے احد چیمہ پرہاتھ ہی اسی لئے ڈالا کہ شہباز شریف کے گریبان تک پہنچ سکے۔‘‘ شہبازی مسکرایا اورکہنے لگا ’’یہ چھوٹی موٹی بات ہے۔ یہ توپیغام تھا کہ پنجاب میں بھی احتساب ہو رہا ہے۔ اب آگے کچھ بھی نہیں ہوگا۔ اب اگلے دنوں میں تو اورنج ٹرین کا افتتاح ہوگا، فیتے کٹیںگے، تالیاں بجیںگی اور شہبازشریف کے نعرے لگیں گے۔‘‘ میں نے پینترا بدل کرکہا ’’سیاسی بیانیہ تو نواز شریف کا مقبول ہے اور یہ سراسر مزاحمتی بیانیہ ہے۔ شہبازشریف کامفاہمتی بیانیہ مقبول نہیں ہے پھر وہ کس طرح ان دو متضاد سوچوں کو لے کرچلیں گے۔‘‘ شہبازی نے زوردار قہقہہ لگایا اورکہا’’وہ دو شادیاں کامیابی سے چلا سکتے ہیں تو دو نقطہ ہائے نظر کو ساتھ چلانا ان کے لئے کیا مشکل ہے۔ ان میں اتنی گہرائی ہے کہ وہ بڑے بھائی کی بات بھی سنتے ہیں اور فوج کی بھی اور دونوں فریقوں کا اب بھی شہباز شریف پرمکمل اعتماد ہے۔ اور تو اور چوہدری نثار علی خان بھی ان پراعتمادکرتے ہیں اور میاںنوازشریف بھی۔ حالانکہ دونوں ایک دوسرے کے سخت مخالف ہوچکے ہیں۔‘‘ میں کہاں ہار ماننے والا تھا، اس لئے آخری مہلک وار کرتےہوئے کہا ’’شہباز شریف کا سب سے بڑا بحران تو تب ہوگا جب میاں نواز شریف جیل میں ہوں گے اور وہ مقتدر حلقوں کے ساتھ ہاتھ ملاکر چل رہے ہوں گے؟ ‘‘شہبازی میرے وارپر گھبرایا، نظریں جھکائیں اور کہا ’’یہی تو وہ بات ہے جس نے شہبازشریف کو پریشان کیا ہوا ہے۔ مگر وہ اس بحران میں سے بھی راستہ بنانے پرغور کر رہے ہیں۔ چوہدری نثار بھی ان کے ساتھ سیاسی مسئلے کے حل کے لئے تعاون کررہے ہیں۔‘‘ شہبازی نے کہا ’’اب شہباز پرواز کے لئے تیار ہے۔‘‘
اس مکالمے کے پیش نظر تحریک ِ انصاف کی قیادت کوجوابی حکمت ِ عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر دو جماعتیں ہم پلہ نہ ہوئیں تو سیاست اور جمہوریت کمزور ہوگی۔ پی ٹی آئی میں عامر لیاقت حسین اور ایکٹر عابد علی کے علاوہ انتخابی گھوڑے رضاحیات ہراج، میاں طارق محمود، محبوب سلطان،چوہدری نثار جٹ اور چوہدری نصراللہ رضا گھمن شامل ہوئے ہیں لیکن پنجاب میں طاقت کا توازن اب بھی تحریک ِ انصاف کے حق میں نہیں ہوا۔ جب تک عمران خان کی مقبولیت کی تیزہوا نہیںچلتی سیاسی سرحدوں پر بیٹھے پرندے اڑ کر تحریک ِ انصاف کے آشیانے میں نہیں آئیں گے یا پھرعتاب اور احتساب کا ڈنڈا یوں چلتا نظر آئے کہ ان کی بزدل فاختائیں قہر سے بچنے کے لئےتحریک ِ انصاف کے سایہ ٔ عاطفت میں پناہ لیں۔ تحریک ِ انصاف کو فوراً ایسی حکمت ِ عملی بنانی چاہئے کہ شہباز شریف کا توڑ ہوسکے۔ جہانگیر ترین کی انتخابی دانش، علیم خان کی بندوں کی ناپ تول کی مہارت، شفقت محمود کا انتظامی و وزارتی تجربہ، شاہ محمود قریشی کی عظیم روحانی وراثت اور چوہدری فواد کی برجستگی اور ذہانت کب کام آئے گی؟ وقت گزرتا جارہا ہے۔ نہ پرکشش انتخابی منشور سامنے آیاہے نہ روٹی کپڑا مکان جیسا معاشی نعرہ سامنے آیا اور نہ ہی گونگا صالح پاکپتن سے ہماری بھابی بشریٰ کوئیقا وٹو کی روحانی برکات کا نزول ہوا ہے۔ فوری ضرورت ہے شہباز کوپرواز سے روکنا ہے تو عمرانی ٹیم پوری حکمت ِ عملی سے میدان میں اترے وگرنہ شہباز بازی لے جائے گا۔ عمران کےپاس یہ آخری چانس ہے۔ اگر پانچ سال مزید گزر گئے تو جسمانی اور ذہنی طاقت اتنی نہیں رہے گی کہ کوئی بڑی لڑائی لڑی جاسکے۔
آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ باجوہ ڈاکٹرائن کے دور میں عدالت سے تصدیق یافتہ صادق اور امین عمران خان یا پھر عدالت ہی سے سند یافتہ شہباز شریف میں سے کون سرکار دربار میں فضیلت پاتا ہے اور کون عوامی میدان میں اپنی دھاک بٹھاتا ہے؟ مقابلہ جاری ہے مگر ابھی نواز شریف کے مقدمات اور ان کی سیاست کا دور ختم نہیں ہوا۔ مستقبل میں نواز شریف کے ساتھ کیا ہوگا؟ اس کااثر انتخابی سیاست پربھی پڑے گا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں