• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صحافت ،ماس کمیونیکیشن اور میڈیا سائنسز ،بطور کیریئر

صحافت ،ماس کمیونیکیشن اور میڈیا سائنسز ،بطور کیریئر

جنگ کا سماں ہو یا رحمت خداوندی سے ہوتی برسات،عید ہو یا ہڑتال ،دھوپ کی تپش ہو یا رات کا اندھیرا ،سیاستدانوں کے پیچھےمائیک لئے بھاگنا ہو یامظلوموںکے مسائل اجاگر کرنا جو شخص معلومات کا خزانہ، مسائل کی حقیقت ،جھوٹ سے بلا خوف وخطر پردہ اٹھاتا اپنی سب سے عزیز شے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے موت کے کنویں میں بھی جانے سے گریز نہ کرے سمجھ جائیے کہ وہ ایک صحافی ہے۔

صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جس کا کردار صحت مند معاشرے کی تعمیرمیں روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔تحریک پاکستان کے مقاصدہوں یا اک آزاد مملکت کے حصول کا مشن تاریخ میں بھی شعبہ صحافت کا کردارہمیشہ ایک درخشاں باب کی صورت میں محفوظ رہے گا۔آج کے اس برق رفتار عہد میں اس شعبہ کی اہمیت و افادیت سے کسی بھی صورت انکار ممکن نہیں۔ صحافت کا شعبہ انسانی اقدار کے تحفظ کا ضامن اورمظلوم و مجبور عوام کے جذبات و احساسات کا ترجمان ہوتا ہے۔ 

آج کے اس دور میں، جہاں بیشتر ممالک میں جمہوری حکومتیں ہیں، وہاںاس شعبے کی اہمیت دگنی ہوجاتی ہےکیوں کہ کسی بھی جمہوری حکومت میںعوام کی تعمیر و ترقی، فلاح و بہبود اور نظم و ضبط کے نفاذ کے لیے تین ادارے ہوتے ہیں: “مقنّنہ”، “انتظامیہ” اور” عدلیہ”۔ ان تینوں اداروں کی سلامتی کے لیے اس شعبے کا وجود ضروری اور لازمی ہے۔اس شعبے کے بغیر مذکورہ اداروں کا جمہوریت پسند ہونا متزلزل اور مشکوک ہوجاتا ہے۔تاہم آج موضوع اس شعبے کی اہمیت اجاگر کرنا نہیں بلکہ صحافت ،ماس کمیونیکیشن یا میڈیا سائنس کے طالبعلم کے کیریئر سے متعلق معلومات فراہم کرنا ہے ۔

صحافت ،ماس کمیونیکشن یا پھر یوں کہیں کہ میڈیاسائنس ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں تاریخ میں جب صحافت کی تربیت کی کوشش محسوس کی گئی تو اس شعبےکو جرنلزم پکارا جانے لگا ۔

بدلتے وقت اورمعاشی، سیاسی، سائنسی ٹیکنالوجی کی ترقی نے اس شعبے کو ماس کمیونیکیشن اور پھر میڈیا سائنس میں تبدیل کردیا ۔صحافت (ذرائع ابلاغ عامہ) یا ماس کمیونیکیشن کے دائرہ مطالعہ میں سب ایڈیٹنگ، رپورٹنگ، انٹرویو، اداریہ، فیچر نگاری، اشتہارات،کالم نگاری ،مضمون نویسی جیسے تمام اہم اور حساس شعبے شامل ہیں ۔

اس شعبے کا شمار پاکستان میں تیزی سے فروغ پاتے ان تمام شعبوں میں کیا جاتا ہے جس کی تعلیم و تربیت کے لئے ملک بھر کی کئی جامعات میں صحافت یا ابلاغِ عامہ، ماس کمیونیکیشن کے شعبے قائم ہیں۔ اب شعبہ ابلاغیات میں طالبات کی علمی و عملی تربیت کے لئے سہولیات کا دائرہ کا ر بڑھا دیا گیا ہے اس سلسلے میں ایف ایم ریڈیو، پروڈکشن ہاؤس، فلم اینڈ تھیٹر سٹڈیز، کمپیوٹر لیب، فوٹو گرافی لیب،ایڈوٹائزنگ لیب ، آؤٔٹ ڈور پروڈکشن وین کے علاوہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لئے ضروری اور اہم کورسز کا بھی اہتمام کیا جانے لگا ہے۔

ماس کیمونیکیشن‘‘ پروگرامز سے متعلق تمام پراجیکٹس و سٹراٹیجکس کی منصوبہ بندی اور ڈیزائننگ، کی نگرانی کرنا اور اُنہیں عملی جامہ پہنانا جیسی خاص مہارتوں کی تعلیم و تربیت بھی ملک کی کئی جامعات میں فراہم کی جانے لگی ہے ۔ ساتھ ہی بطور صحافی فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور دیگر سماجی ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز جیسے اہم ٹولز کا استعمال بھی سکھایا جاتا ہے۔

ان جامعات سے ہر سال بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات بی ایس ، ایم ایس ، ایم فل اور پی ایچ ڈی سے فارغ التحصیل ہوکر شعبہ صحافت میں عملی شمولیت کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔اگر بات کی جائے اس شعبے میںذرائع ابلاغ و ترسیل کے حوالے سے یہ شعبہ تین اقسام میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

مطبوعہ صحافت

(Print Media)

تعارف

“مطبوعہ صحافت” جسے ہم عام طور پر پرنٹ میڈیا (Print Media) کے نام سے جانتے ہیںمطبوعہ صحافت سے مراد چھپنےاور طبع ہونے والے اخبار و رسائل ہیں، جیسے روزنامہ، سہ روزہ، ہفت روزہ اخبارات؛ اسی طرح پندرہ روزہ، ماہ نامہ، سہ ماہی، شش ماہی اور سال نامہ رسائل و جرائد اور مجلّات و ڈائجسٹس بھی مراد ہوتے ہیں؛ کیوں کہ یہ سب بھی چھپائی اور طباعت کے مراحل سے گزرتے ہیں۔

اس فیلڈ کا انتخاب کرتے ہوئے ہمارے طالبعلم اکثروبیشتر کتراتے ہوئے نظر آتے ہیں کیونکہ عام طو پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پرنٹ میڈیا کا عہد ختم ہوچکا اور جلد ہی اس میں ملازمتیں متروک ہوجائیں گی ،دوسری جانب اخباری دنیا میں تنخواہ کم ہونے کے باعث طلبہ اس جانب کم ہی رخ کرنا پسند کرتے ہیں لیکن یہ درست نہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ میں ایک صحافی کی تمام خصوصیات موجود ہیںتو اپنے کیریئر کے ابتدائی دور کے چند سال پرنٹ میڈیا کو دیں یہ عمل آپ کے مستقبل اور آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے میں مدد دے گا۔

برقیاتی صحافت

(Electronic Media )

تعارف :

“برقیاتی صحافت” یا “کہربائی صحافت” جسے ہم عام طور پر الیکٹرانک میڈیا (Electronic Media) سے جانتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا سے مراد وہ تمام ذرائع ابلاغ و ترسیل ہیں جو الیکٹرانکس اور الیکٹرومیکینیکل قوت کے استعمال سے چلتے ہیں۔ اس میں ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے اخبارات و رسائل سبھی شامل ہیں۔

موجودہ زمانے میں تمدنی تبدیلی، سماجی، معاشرتی اور اخلاقی شعور پیدا کرنے میں سب سے بڑا اور مؤثر کردار الیکٹرانک میڈیا ادا کر سکتا ہے۔کیونکہ عصر حاضر میں لوگ اپنی ترجیحات کی تعیین ٹی وی دیکھ کر کرتے ہیں، اپنے کھانے پینے، رہن سہن اور پہناوے تک کا انتخاب سکرین میں دکھائے گئے کرداروں سے مستعار لیتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ تمام چھوٹی بڑی کمپنیاں اپنی پراڈکٹ کی سکرین پر چند سیکنڈ کی ایک جھلک کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے ٹی وی پر نچھاور کرنےمیں خوشی محسوس کرتی ہیں۔

ہمارے طالبعلموں کی بڑی تعداد تعلیم سے فراغت کے بعد الیکٹرنک میڈیا کا رخ کرتی ہے کیونکہ یہ ایسی دنیا ہے جس کا گلیمر خود بخود طلبہ کو اپنی جانب کھینچنے لگتا ہے رپورٹنگ ہو، اینکرنگ یا میزبانی طلبہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار الیکٹرانک میڈیا کے دیے گئے میدان میں کھل کر کرنے لگتے ہیں پھر اچھے معاوضے کا حصول انہیں اس چکاچوند کا حصہ بننے پر مجبو ر کردیتا ہے ۔

اشتہارات

(Advertising)

اسی شعبے سے فارغ التحصیل ہونے والے طالبعلموں کے لئےایک راستہ اشتہاری دنیاکا بھی کھل جاتا ہے جو ہماری ٹوٹی پھوٹی معیشت کی کمزور بنیادہونے کے ساتھ ساتھ اس وقت اشتہاری صنعت سب سے زیادہ مہنگی صنعت قرار دی جا چکی ہے۔ اس دنیا کو جدید اشتہاری عالمگیریت صنعتوں کے فروغ کی اہم علامت تسلیم کیا جاتا ہے۔اب یہ اس شعبے میںتعلیم حاصل کرنے والے طلبہ پر منحصر ہے کہ وہ اپنے شوق کی بدولت یا تو پرنٹ میڈیا کا انتخاب کریں ، الیکٹرونک میڈیا کا یا اشتہاری دنیا کا ۔

اگر آپ کو اس شعبے میں ہی دلچسپی ہے تو پھر چند باتوں کو ذہن نشین کیجیے۔ صحافت کے دو رخ ہیں، ایک عوام کو نظر آتا ہے جس میں گلیمر ہی گلیمر ہے ۔حالات حاضرہ، ملکی و بین الاقوامی ایشوز سے باخبر رہیں۔ 

خبر، فیچر، رپورٹ، کالم لکھنا سیکھیں۔دوران تعلیم اسکول کے بچوں کی طرح نوٹس اور امپورٹنٹ ایونٹ چھوڑ کر وسیع مطالعہ کریں۔ روزانہ اخبارات و رسائل، ادب، سیاست، تاریخ، بین الاقوامی تعلقات و دیگر متعلقہ موضوعات پر گرفت مضبوط کریں۔

نصابی تعلیم کے علاوہ فلم میکنگ ،نیوز ایڈیٹنگ ،نیوز میکنگ ،کاپی رائٹنگ کے لئے مختلف کورسز یا پھر مختلف اداروں سے انٹرن شپ بھی لازمی کریںہ لوگ جو صحافت میں رہنا چاہتے ہیں، انہیںسیکھتے رہنا چاہئے، عمر کی اس سلسلے میں کوئی حد نہیں ہے، کیونکہ صحافی کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔

تازہ ترین