آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


بہترین اداکاری اورخوبصورتی کے باعث بالی ووڈ کے ساتھ ساتھ ہالی ووڈ میں بھی اپنا سکہ جمانے والی ناموراداکارہ دپیکا پڈوکون ماضی میں ڈپریشن کا شکار رہ چکی ہیں ۔جب دپیکا نے 2015 میں پہلی بار اپنےڈپریشن اور ذہنی صحت کے ساتھ اپنی جدوجہد کے بارے میں بات کی تو اس بات نے سب کو حیران کردیا۔دپیکا کا کہنا تھا کہ ڈپریشن کی وجہ سے وہ اکثر بیٹھےبیٹھے رونے لگتی تھیں اور کام پر بھی توجہ نہیں دے پا تی تھیں لہٰذاجب صورتحال بہت زیادہ خراب ہوگئی تو انہوں نے ڈاکٹر سے مشورہ لینے کا فیصلہ کیااوراپنی بیماری پرقابوپانے کے لیے علاج کرایا تھا ۔

ڈپریشن کی شکار دپیکا

دپیکا کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ جب میں خود ڈپریشن کا شکار ہوئی تھی اورجب میں نے اس کا علاج کرایا تھا تبھی میں نےسوچ لیا تھا کہ اپنے جیسے باقی ڈپریشن کے شکار لوگوں کی اس مہلک بیماری سے نکلنے میں مدد کرونگی ‘‘اور پھر انہوں نے لیو، لو اینڈ لاف نامی ایک فائونڈیشن بنائی جس میں ڈپریشن کے مرض میں مبتلا لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

لیو، لو اینڈ لاف فائونڈیشن کے ایک سروے کے دوران پتا لگا کہ بھارت میں 47 پرسنٹ لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔


بالی ووڈ اداکارہ دپیکا کا ڈپریشن کے بارے میں کہنا تھا کہ بھارتی عوام ذہنی بیماری سے آگہی کے متعلق بہت کم جانتی ہے اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اس بارے میں بات بھی نہیں کرتے ۔

دپیکا کا مزید کہنا تھاکہ بنیادی تعلیمی ادارے یعنی اسکولوں میں بھی طالب علموں کو ذہنی بیماری سے متعلق آگاہ کرنا چاہئے۔اس کے علاوہ وہ تمام افراد جو کام کے دوران کسی بھی قسم کا ذہنی تنائومحسوس کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ اس بارے میں بغیر کسی ڈر اور خوف کے کھلے عام بات کریں۔

ڈپریشن سے نکلنے کے بعد دپیکا نے کہا کہ اب میں یہ کبھی نہیں سوچتی کہ لو گ کیا کہیں گے ،یا پھر مجھے فلموں کی پیشکش ہوگی یا نہیںمیں ہر طرح سے خوش رہتی ہو‘‘

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں