آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بالی ووڈ کو 100 سال سے ذائد کا عرصہ ہوگیا ہےاور اگر ہندی فلموں کی بات کریں تو ہر دور میں کئی ایسے اداکارہوتے ہیں جو اس وقت لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیںلیکن اس کے علاوہ کچھ فنکار ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے دور کی تقریباً ہر فلم میںکام کرتے ہیں جو نہ ہیرو ہوتے ہیں نہ ولن اور نہ ہی کامیڈين لیکن ان کے بغیر فلم ادھوری سی ہی لگتی ہے۔ ان کو ہم سپورٹنگ رول کرتے اداکار کہتے ہیں۔

آج ہم ایسے ہی اداکاروں کے بارے میں آپ کو بتا تے ہیں

اے کے ہنگل


’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی‘ یہ ڈائیلاگ سنتے ہی شعلے کے رحیم چاچا یعنی اداکار اے کے ہنگل کا چہرہ ابھر آتا ہے۔بوڑھے مہربان انسان کا رول، گاؤں کے اسکول کے ماسٹر جی، گھر کا وفادار نوکر یا مسجد کے خدا ترس امام۔ یہ سب کردار جیسے اے کے ہنگل کے لیے ہی بنے تھے۔

نام چھوٹے ،بڑے کردار

لوگوں نے انہیں ہمیشہ بزرگ کے رول میں ہی دیکھا کیونکہ پہلا کردار انہوں نے 50 سال کی عمر میں کیا۔اس سے پہلے اوتار کرشن ہنگل آزادی کی لڑائی میں شامل رہے۔ شروع میں وہ درزی کا کام کیا کرتے تھے اور پھر تھیٹر کرنے لگے۔ 1966 میںوہ فلمی پردے پر آئے۔ اس کے بعد انہوں نے کئی فلموں میںسپورٹنگ اداکار کی حیثیت سے کام کیا۔ان کی یادگار فلموں میں شعلے، نمک حرام، شوقین، چتچور، شیف، گڈي، لگان، پہیلی وغیرہ شامل ہیں۔

نروپا رائے


’میرے پاس ماں ہے‘ فلم دیوار کا یہ ڈائیلاگ ہندی سنیما کے مشہور ترین ڈائیلاگس میں سے ایک ہے۔ فلم میں امیتابھ بچن کے سوال میں ششی کپور یہ بات اپنی فلمی ماں نروپا رائے کے لیے کہتے ہیں۔نروپا رائے ہندی فلموں کی سب سے مشہور ماؤں میں سے ایک ہیں۔ 70 اور 80 کی دہائی میں وہ اکثر امیتابھ بچن کی فلموں میں نظر آتی تھیں۔ ’’امر اکبر انتھوني‘‘ اور’’ مرد ‘‘جیسی فلموں میں ظلم برداشت کرتی دکھیاری ماں۔

نام چھوٹے ،بڑے کردار

یہاں تک کہ 1999 میں آئی ’لال بادشاہ ‘میں بھی وہ امیتابھ کی ماں بنی تھیں۔کہا جاتا ہے کہ 40 کی دہائی میں نروپا رائے اور ان کے شوہر ایک اشتہار دیکھنے کے بعد فلم کے لیے آڈیشن دینےگئےتھے۔ شوہر کو تو کردار نہیں ملا لیکن نروپا رائے ادھر بیٹھے فلم سازوں کو بھا گئیں۔ 40 اور 50 کی دہائی میں انہوں نے کئی مذہبی فلموں میں اہم کردار ادا کیے اور بعد میں وہ ماں کے کردار میں نظر آنے لگیںاور 2004 میں یہ ماں ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں ۔

افتخار خان


60، 70 یا 80 کی دہائی کی ہندی فلموں میں پولیس افسر کے رول کا تصور کریں تو آنکھ بند کرتے ہی اداکار افتخار خان کا چہرہ ذہن میں آتا ہے۔30 کی دہائی میں اپنے کیریئر کی شروعات کرنے والے افتخار نے پہلے کئی مرکزی کردار کیے

نام چھوٹے ،بڑے کردار

لیکن لوگ ان کے بعد کے دور میں کیریکٹر آرٹسٹ کے طور پر ہی انہیں زیادہ جانتے ہیں مثلا ڈان کا ڈی ایس پی ڈی سلوا یا زنجیر کا پولیس کمشنر۔ بارعب شخصیت، بھاری آواز اور ہاتھ میں سگار۔ فلمی پردے پر ان کا الگ ہی انداز تھا۔کبھی اگر کسی فلم میںوہ پولیس کی وردی میں نہیں ہوتے تھے تو سیاہ کوٹ پہنے وکیل یا جج کی کرسی پر نظر آتے تھے۔ کچھ فلموں میں انہوں نے نیگیٹیو رول بھی کیے۔

ڈیوڈ


’ننھے منے بچے تیری مٹھی میں کیا ہے،مٹھی میں ہے تقدیر ہماری‘ اگر آپ کو یہ گانا یاد ہے تو اداکار ڈیوڈ ابراہم کو ضرور پہچان لیں گے۔ 1954 میں آئی فلم ’’بوٹ پالش ‘‘میں جان چچا کے کردار کے لیے انہیں فلم فیئر ایوارڈبھی ملا تھا اور یہ فلم کانز فسٹیول میں نامزد ہوئی تھی۔ وہ ہندی فلموں میں کام کرنے والے چند یہودی اداکاروں میں شامل ہیں۔چار دہائیوں پر مشتمل کیریئر میں انہوں نے کئی یادگار فلموں میں کام کیا جن میں چپکے چپکے کا ہرپد بھیا ہو یا پھر ڈاکٹر کیدار۔

نام چھوٹے ،بڑے کردار

فلم ناقد جے پرکاش چوسے بتاتے ہیں کہ پہلے فلم فیئر ایوارڈ کی تقریب کے میزبان ڈیوڈ ہی تھے اور اس کے بعد شاید ہی کوئی بڑا پروگرام ہوتا تھا جس کے میزبان ڈیوڈ نہ ہوتے ہوں۔ان کی ہستی کا ایک پہلو اور بھی تھا۔ ڈیوڈ بین الاقوامی سطح پر کشتی کے کھیل میں ریفری بھی تھے۔ جے پرکاش چوسے کے مطابق وہ اولمپکس میں بھی بطور ریفری گئے ہیں۔ ان کا شاعری مجموعہ بھی شائع ہوا تھا۔ان کی اہم فلموں میں باتوں باتوں میں، بوٹ پولش، اپار، غیرت، کھٹی میٹھی، ستيہ كام شامل ہیں۔

للتا پوار


آپ شاید ہی یقین کریں کہ للتا پوار خاموش فلموں کے دور کی مقبول ہیروئن تھیں۔کہا جاتا ہے کہ 40 کی دہائی میں ایک فلم کی شوٹنگ میں شریک اداکار بھگوان دادا نے ان کے چہرے پر اتنی زور سے تھپڑ مارا کہ ان کا چہرہ اور آنکھ خراب ہو گئی لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی اور کریکٹر رول کرنے لگیں، خاص کر منفی کردار۔

نام چھوٹے ،بڑے کردار

اپنے چہرے اور آنکھ کی خرابی کو بھی وہ اپنے اداکاری کا حصہ بنا لیتی تھیں۔راج کپور کے ساتھ آئی فلم اناڑی اور مسٹر 420 میں شوٹنگ کے کچھ مناظر کو ان کے بہترین انداز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اناڑی کے لیے انہیں بہترین کیریکٹر آرٹسٹ کا فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔ پروفیسر میں تو ان کے لیے رومانی ٹریک بھی تھا۔ان کی یادگار فلموں میں’ سجاتا‘،’ ہم دونوں‘، ’پروفیسر‘،’ شری 420‘،’ میم دیدی‘،’ اناڑی‘،’ جنگلی ‘وغیرہ شامل ہیں۔

اوم پرکاش


اوم پرکاش نے 50 سے لے کر 80 کی دہائی تک بہت بہترین سپورٹنگ رول نبھائے۔ وہ اپنی کامک ٹائمنگ کے لیے خاص طور پر جانے جاتے تھے۔ رشی کیش مکھر جی کی ’چپکے چپکے‘ تو ایک طرح سے ان کے اردگرد گھومتی ہے جس میں وہ شرمیلا ٹیگور کے جیجا جی کا کردار ادا کرتے ہیں۔

نام چھوٹے ،بڑے کردار

شرابی میں منشی پھول چند، چنبیلي کی شادی میں مست رام پہلوان یا شراب کی خالی بوتل لے کر گھومتا زنجير کا سلوا ان کے یادگار کرداروں میں سے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی کردار میں تقریباً ہر دوسری فلم میں نظر آیا کرتے تھے۔انہوں نے راج کپور اور دلیپ کمار جیسے بڑے اداکاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔ ان کی معروف فلموں میں ہاوڑا برج، پڑوسن، جولی، نمک حلال، بڈھا مل گیا، شرابی، زنجیر، دس لاکھ، وغیرہ شامل ہیں۔

انوپم کھیر


80 اور 90 کی دہائی آتے آتے انوپم کھیر سپورٹنگ اداکار کے طور پر چھا گئے۔ اگرچہ ان کی پہلی فلم ’’سارانش‘‘ میں وہ انہوں نے اہم کردار کیا لیکن بعد میں کئی فلموں میں انہوں نے سپورٹنگ کردار کیے۔ منفی کرداروں میں فلم ’کرما‘ کا ڈاکٹر ڈینگ سب کو یاد ہے۔

نام چھوٹے ،بڑے کردار

اپنی اداکاری سے انہوں نےسپورٹنگ رول کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ تیزاب، پرندہ، لمحے، چاندنی، ہم آپ کے ہیں کون، دل والے دلہنیا لے جائیں گے، غرض وہ ایک سے ایک ہٹ فلموں کا حصہ بنتے رہے۔چاہے ’ڈیڈی‘ کا شراب کے نشے میں ڈوبا والد ہو یا ڈی ڈی ایل جے کا خوش اور زندہ دل والد،انہوں نے ہر کردار میں اپنا لوہا منوایا ہے۔

پریش راول


گجرات سے تعلق رکھنے والے پریش راول نے اپنے کیرئیر کے آغاز میں  زیادہ تر منفی کردار کیے۔ 90 کی دہائی کی ساری بڑی فلموں کی کاسٹ میں پریش راول کا نام شامل ہوتا تھا۔

نام چھوٹے ،بڑے کردار

ہیرو نمبر ون، چاچی 420، بڑے میاں چھوٹے میاں، تمنا وغیرہ ان کی اہم فلمیں ہیں لیکن ماضی قریب میں انہیں ’ہیرا پھیری‘ کے بابو راؤ کے کردار سے بہت شہرت ملی اور ان کا یہ ڈائیلاگ ’’اے بھگوان اٹھا لے مجھے نہیں اس کو اٹھا لے‘‘ لوگوں بھی لوگوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں لادیتا ہے۔

بومن ایرانی


21 ویں صدی میں اگر کسی ہندی اداکار نے سپورٹنگ کیرکٹر ایکٹنگ پر راج کیا ہے تو وہ ہیں بومن ایرانی۔ بومن پہلے فوٹو گرافر تھے اور بعد میں تھیٹر سے منسلک ہو گئے۔ 2003 میں ڈاکٹر استھانہ کے کردار سے وہ شہ سرخیوں میں آئے۔

نام چھوٹے ،بڑے کردار

اس کے بعد میں ہوں نا، لگے رہو منا بھائی، تھری ایڈیٹس اور ڈان میں ان کی کارکردگی کو سراہا گیا۔کئی لوگ مانتے ہیں فلموں میں بومن کی آمد بہت دیر سے ہوئی تاہم وہ خود ایسا نہیں سمجھتے۔ لندن میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ بطور ہیرو آتے تو سوپر فلاپ ہوتے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید