آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
 دو دلچسپ واقعات

سیاست اور کرکٹ اور عوام کی کسمپرسی نے آجکل تمام ذرائع ابلاغ کو یرغمال بنا لیا ہے۔ آئیے کچھ دوسرے دلچسپ واقعات کا تذکرہ کرتے ہیں۔ کم از کم ان سے آپ کی معلومات میں اضافہ تو ہوگا۔
(1) پہلا نہایت دلچسپ واقعہ حجرِاسود کا ہے۔ آپ کو علم ہے نا کہ یہ سیاہ پتھر چاندی کے ایک فریم میں خانہ کعبہ میں نصب ہے۔ طواف (عمرہ یا حج) کے دوران ہم اس کو بوسہ دیتے ہیں۔ یہ روایت بہت پرانی ہے اور ہمارے پیارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو بوسہ دیا تھا اور جب حضرت عمرؓ طواف کررہے تھے تو آپ نے حجر اسود کو بوسہ دینے سے پہلے فرمایا تھا کہ انھیں علم تھا کہ وہ صرف ایک پتھر ہے اور کچھ نہیں مگر چونکہ رسول ؐنے بوسہ دیا تھا صرف اس وجہ سے وہ بھی اس کو بوسہ دے رہے ہیں۔
حجر اسود کی واپسی ۔ ایک تاریخی واقعہ۔
ذی الحجہ 317 ھ کو بحرین کے حاکم ابو طاہر سلیمان قرامطی نے مکہ معظمہ پر قبضہ کرلیا۔ خوف و ہراس کا یہ عالم تھا کہ اس سال حج بیت اللہ نہ ہوسکا، کوئی بھی شخص عرفات نہ جاسکا۔ یہ اسلام میں پہلا ایسا موقع تھا کہ حج بیت اللہ موقوف ہوگیا، اسی ابوطاہر قرامطی نے حجر اسود کو بیت اللہ سے نکالا اور اپنے

ساتھ بحرین لے گیا۔ پھر بنو عباس کے خلیفہ مقتدر باللہ نے ابوطاہر کے ساتھ معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا اور تیس ہزار دینار دیئے اور حجر اسود خانہ کعبہ کو واپس کیا گیا۔ یہ واپسی 339 ھ کو ہوئی، گویا بائیس سال تک خانہ کعبہ حجر اسود سے خالی رہا۔ جب فیصلہ ہوا کہ حجراسود کو واپس کیا جائے گا تو اس سلسلے میں خلیفہ وقت نے ایک بڑے عالم محدث عبداللہ کو حجراسود کی وصولی کے لئے ایک وفد کے ساتھ بحرین بھجوایا۔ یہ واقعہ علامہ سیوطی کی روایت سے اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ جب شیخ عبداللہ بحرین پہنچے تو بحرین کے حاکم نے ایک تقریب کا اہتمام کیا جہاں حجر اسود کو اُن کے حوالہ کیا جائے گا۔ اب انہوں نے ایک پتھر جو خوشبودار تھا ، خوبصورت غلاف سے نکالا کہ یہ حجر اسود ہے اسے لے جائیں۔ محدث عبداللہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ حجر اسود میں دو نشانیاں ہیں اگر اس میں یہ نشانیاں پائی جائیں تو یہ حجر اسود ہوگا ورنہ نہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ ڈوبتا نہیں ہے، دوسری یہ کہ آگ سے بھی گرم نہیں ہوتا۔ اس پتھر کو جب پانی میں ڈالا گیا تو ڈوب گیا پھر آگ میں اسے ڈالا گیا تو سخت گرم ہوگیا یہاں تک کہ پھٹ گیا۔ محدث عبداللہ نے فرمایا یہ ہمارا حجر اسود نہیں ۔ پھر دوسرا پتھر لایا گیا اس کے ساتھ بھی یہی عمل ہوا اور وہ پانی میں ڈوب گیا اور آگ پر گرم ہوگیا، فرمایا کہ ہم اصل حجر اسود ہی لیں گے۔ پھر اصل حجراسود لایا گیا اور آگ میں ڈالا گیا تو ٹھنڈا نکلا پھر پانی میں ڈالا گیا تو وہ پھول کی طرح پانی کے اوپر تیرنے لگا تو محدث عبداللہ نے فرمایا ، ’’یہی ہمارا حجراسود ہے اوریہی خانہ کعبہ کی زینت ہے اور یہی جنت والا پتھر ہے‘‘۔ اس وقت ابوطاہر قرامطی نے تعجب کیا اور پوچھا کہ یہ باتیں آپ کو کہاں سے ملی ہیں ؟تو محدث عبداللہ نے فرمایا: یہ باتیں ہمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی ہیں کہ حجر اسود پانی میں ڈوبے گا نہیں اور آگ سے گرم نہیں ہوگا۔ ابوطاہر نے کہا کہ یہ دین روایات سے بڑا مضبوط ہے۔ جب حجر اسود مسلمانوں کو مل گیا تو اسے ایک کمزور اونٹنی کے اوپر لادا گیا جس نے تیز رفتاری کے ساتھ اسے خانہ کعبہ پہنچا یا، اس اونٹنی میں زبردست قوّت آگئی اس لئے کہ حجراسود اپنے مرکز (بیت اللہ) کی طرف جارہا تھا لیکن جب اسے خانہ کعبہ سے نکالا گیا تھا اور بحرین لے جارہے تھے تو جس اونٹ پر لادا جاتا وہ مرجاتا حتیٰ کہ بحرین پہنچنے تک چالیس اونٹ اس کے نیچے مرگئے۔‘‘ (تاریخ مکہ للطبری) (بشکریہ : مولانا یاسر حبیب صاحب)
(2) دوسرا نہایت دلچسپ و اہم واقعہ مشہور امریکن ٹینس کھلاڑی آرتھر ایش (Arthur Ashe)کا ہے۔ یہ افریقن، امریکی نژاد تھے۔ ان کو آپریشن کے دوران جو خون دیا گیا وہ کسی ایڈز (Aids) کے مریض کا تھا اور اس طرح آرتھر ایش اس ناقابل علاج بیماری کا شکار ہوگئے اور 6 جنوری 1993 کو ان کا انتقال ہوگیا۔ یہ 10 جولائی 1943 کو پیدا ہوئے تھے۔ آرتھر ایش پہلے افریقن،امریکی تھے جنھوں نے ڈیوس کپ میں امریکہ کی نمائندگی کی تھی اور وہ پہلے سیاہ فام تھے جنھوں نے یو ایس اوپن اور وِمبلڈن کپ (1975) جیتے تھے اور وہ پہلے سیاہ فام امریکی تھے جو دنیا میں پہلے نمبر کے کھلاڑی بنے تھے۔آرتھر ایش جب اسپتال میں بیمارتھے اور ان کو ایڈز کی بیماری کی تشخیص ہوگئی تو پورے ملک میں ان کے لئے ہمدردی کے جذبات اُبل پڑے تھے اور لوگ ہر موقع اور ہر جگہ اس کا اظہار کررہے تھے ان کو ہزاروں خطوط بھیجے گئے اور ہمدردی اور دعائوں کا اظہار کیا گیا۔ ایک خط میں ان سے ایک سوال کیا گیا۔ ’’اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہی کیوں اس موذی بیماری کے لئے چنا؟‘‘۔ اس کا جواب جو آرتھر ایش نے دیا وہ نہایت قابل غور ہے۔ ’’میری وجہ سے 50 ملین (5 کروڑ) بچوں نے ٹینس کھیلنا شروع کردیا۔ 5 ملین نے ٹینس کھیلنا اچھی طرح سیکھ لیا۔ 5 لاکھ نے پیشہ ورانہ ٹینس کھیلنا شروع کردیا۔ 50 ہزار ٹورنامنٹس میں حصّہ لینے لگے۔ 5 ہزار بڑے مقابلوں میں حصّہ لے سکے۔ 50 نے اتنی مہارت حاصل کی کہ وہ ومبلڈن میں حصّہ لے سکے۔ 4 سیمی فائنل تک پہنچ گئے۔ 2 نے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ جب میں نے ومبلڈن ٹورنامنٹ جیتا اور کپ لئے فاتحانہ انداز میں کھڑا تھا اس وقت میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ سوال نہیں کیا کہ اس نے مجھے کیوں اس اعزاز سے نوازا؟ اور اب جبکہ بیمار ہوں اور تکلیف میں ہوں میں کس منہ سے اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کروں کہ اس نے کیوں مجھے یہ مہلک بیماری دی؟ یاد رکھیں کہ خوشی آپ کو خوش مزاج رکھتی ہے۔ مشکلات و تکالیف آپ کو مضبوط بناتی ہیں۔ غم و رنج آپ کو انسانیت سکھاتے ہیں۔ شکست آپ کو انکساری سکھاتی ہے۔ کامیابی آپ کو خوداعتمادی دیتی ہے لیکن صرف ایمان ہی آپ کو تمام حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ بعض اوقات آپ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں ہوتے مگر لاتعداد آپ کی زندگی کو حسد کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اپنانا چاہتے ہیں۔ایک بچہ دیہات میں کھڑا اُڑتا جہاز دیکھتا ہے تو اس کی خواہش اُڑنے کی ہوتی ہے مگر جب ایک پائلٹ اپنے جہاز سے نیچے مکانات، باغات دیکھتا ہے تو اسے اپنے گھر کی یاد ستانے لگتی ہے۔ یہی زندگی ہے۔ آپ کوشش کریں کہ زندگی سے پوری طرح لطف اندوز ہو۔ اگر دولت انسان کو خوش کرسکتی تو مالدار لوگ سڑکوں پر چلتے پھرتے ناچ رہے ہوتے۔ لیکن آپ کو علم ہے کہ یہ مزا صرف غریب بچّے ہی اُڑاتے ہیں۔ اگر قوّت و دولت حفاظت دیتی تو تمام اہم اور بااختیار لوگ بغیر محافظوں کے کھلے عام پھرتے نظر آتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام سیدھے سادھے انسان بہت پرسکون اور گہری نیند سوتے ہیں۔ اسی طرح اگر خوبصورتی اور شہرت مثالی رشتہ قائم کرسکتے تو تمام شہرت یافتہ اور مشہور لوگوں کی مثالی شادیاں ہوتیں (جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے)۔‘‘
یہ دو نہایت دلچسپ اور مفید معلومات سے پُر واقعات آپ کی خدمت میں پیش کئے ہیں اُمید ہے کہ آپ ان معلومات سے بہت کچھ سیکھ گئے ہونگے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں