• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ملتان حلقہ 155: ن لیگ کا ٹکٹ جاوید ہاشمی کو ملے گا یا گورنر کے بیٹے کو؟

ملتان حلقہ 155: ن لیگ کا ٹکٹ جاوید ہاشمی کو ملے گا یا گورنر کے بیٹے کو؟

ملتان کی سیاست میں ابھی کتنے دائو پیچ آزمائے جانے ہیں فی الوقت کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ خاص طور پر مسلم لیگ ن کے اندر آنے والے دنوں میں یہاں کیا سیاسی کھچڑی پکتی ہے وہ ابھی پردہ راز میں ہے۔ ملتان شہر کی قومی اسمبلی کی دو نشستیں ایسی ہیں جن پر مسلم لیگ ن کے امیدواروں کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا جبکہ متوقع امیدواروں کی ایک بڑی تعداد میدان عمل میں نظر آتی ہے۔ سیاسی ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں ایک ایسی پیش رفت ہوئی ہے جس نے مستقبل کے سیاسی نقشہ کو کسی حد تک واضح کردیا ہے۔ اس کے پیچھے کہانی یہ ہے کہ ملتان میں نااہل ہونے والے ایک سابق وزیر عبدالوحید ارائیں نے اپنے چھوٹے بھائی نوید ارائیں کو ملتان کا میئر بنوایا لیکن اختیارات اپنے پاس رکھے جس پر ایک مزاحتمی گروپ سامنے آیا جس نے میئر کے خلاف ایک بڑا محاذ کھڑا کردیا۔ ’’ملتان ڈویلپمنٹ گروپ‘‘ کے نام سے بلدیاتی چیئرمینوں کی ایک بڑی تعداد متحرک ہوئی تو عبدالوحید ارائیں گروپ نے اس کے پس پردہ ہاتھ تلاش کرنے کی کوششیں شروع کیں اور شبہ یہ ظاہر کیا کہ گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ اپنے بیٹے آصف رجوانہ کیلئے سیاسی حمایت حاصل کرنے کے واسطے مبینہ طور پر اس ’’ڈویلپمنٹ گروپ‘‘ کو سپورٹ کر رہے ہیں جبکہ وہ خود اس کی تردید کرتے رہے مگر ایک کشیدگی درمیان میں موجود رہی اور عبدالوحید ارائیں کھلے طور پر یہ کہتے پائے گئے کہ گورنر پنجاب نے میئر کے انتخاب پر بھی ہماری مخالفت کی تھی اور اب بھی یہ ساری مہم انہی کے ایما پر چل رہی ہے۔ پچھلے ہفتہ یہ خبریں سننے میں آئیں کہ عبدالوحید ارائیں اور گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ کے درمیان موجود غلط فہمیاں رفع دفع ہوگئی ہیں اور دونوں میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے بھی معاملات طے پاگئے ہیں جن کے مطابق رانا محمود الحسن کے سینیٹر بننے کی وجہ سے قومی حلقہ 156 کی خالی ہونے والی نشست پر ارائیں گروپ کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی۔ یاد رہے کہ اسی قومی اسمبلی کے حلقہ میں موجود صوبائی اسمبلی کی نشست پر عبدالوحید ارائیں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور اب اگر نااہلی برقرار نہ رہی تو وہ خود یا پھر ان کا بھائی یا اہلیہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری طرف گورنر ملک رفیق رجوانہ کے بیٹے آصف رجوانہ کو شہر کی نشست قومی حلقہ 155 سے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ دلوا کر الیکشن لڑانے کا دونوں گروپوں میں معاہدہ طے پا گیا ہے مگر پیچیدگی یہ ہے کہ معاملہ صرف ان دونوں گروپوں تک ہی محدود نہیں بلکہ کچھ اور ایسی بڑی سیاسی شخصیات بھی ہیں جو ’’رنگ میں بھنگ‘‘ ڈال سکتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم شخصیت مخدوم جاوید ہاشمی ہیں جو حلقہ 155 سے انتخاب لڑنے کا پکا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ میاں نواز شریف نے ان کو یہ واضح یقین دہانی کرادی ہے کہ جس حلقے سے وہ انتخاب لڑنا چاہیں گے وہاں مسلم لیگ ن کا امیدوار کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ چوتھا فریق سابق ایم این اے طارق رشید ہیں جو بڑی سرگرمی سے اپنی انتخابی مہم چلائے ہوئے ہیں اور جب انہیں یہ بھنک پڑی کہ ارائیں گروپ اور گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ کے درمیان اس حلقہ کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے پا گیا ہے تو انہوں نے حلقہ سے تعلق رکھنے والے یونین چیئرمینوں کا اجلاس بلا کر ان کی طرف سے یہ بیان جاری کیا کہ اگر اس حلقہ سے طارق رشید کو ٹکٹ نہ دیا گیا تو وہ کسی دوسرے امیدوار کی حمایت نہیں کریں گے۔ گویا ملتان کی سیاست کے یہ دونوں بڑے انتخابی حلقے مسلم لیگی قیادت کیلئے درد سر بنے ہوئے ہیں اور ابھی تک کسی امیدوار کے بارے میں بھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔

سیاست میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے کس قسم کے حربے آزمائے جاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اس وقت ملتان میں دیکھنے میں آئی جب مسلم لیگ ن خواتین ونگ کی جانب سے رکنیت سازی کیلئے کیمپ لگایا گیا۔ یاد رہے کہ صرف کچھ دن پہلے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان رکنیت سازی مہم کیلئے ملتان آئے تھے اور انہوںنے شہر میں مختلف جگہوں پر کیمپوں کا دورہ اور متعدد اجتماعات سے خطاب بھی کیا تھا۔ اس دوران خواتین کی ممبر شپ کیلئے بھی کیمپ لگائے مگر ان میں کوئی خاطر خواہ ریسپانس دیکھنے میں نہ آیا مگر مسلم لیگ ن کی ایم پی اے سلطانہ شاہین اور ایم این اے شاہین شفیق نے جو رکنیت سازی کیمپ لگایا ان میں ہزاروں خواتین رکنیت سازی کیلئے پہنچ گئیں۔ بعد میں عقدہ یہ کھلا کہ اندرون شہر کے گنجان آباد علاقوں میں گھر گھر یہ پیغام پہنچایا گیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کارڈ دینے کیلئے ممبر سازی کی جا رہی ہے ۔ اس طرح پیپلزپارٹی کے اقلیتی ونگ کے سابق ایم پی اے نوید عامر جیوا کی جانب سے جو ممبر سازی کیمپ لگایا گیا اس کے بارے میں بھی اس قسم کی اطلاعات سامنے آئیں۔

پیپلزپارٹی ملتان میں بلاول بھٹو زرداری کی آمد کا بے چینی سے انتظار کر رہی ہے کیونکہ اس وقت ملتان میں پارٹی پر جو جمود طاری ہے اس کا خاتمہ بلاول بھٹو کی آمد سے ہی ہوسکتا ہے کیونکہ پیپلزپارٹی کی مقامی قیادت فی الوقت ایسا کوئی قدم اٹھانے سے قاصر نظر آتی ہے جو مقامی سطح پر پارٹی کے تن مردہ میں جان ڈال دے۔ بلاول بھٹو کے آنے سے جہاں کارکن یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ پارٹی متحرک ہوگی وہیں وہ لیڈر جو ازخود پارٹی کیلئے کوئی بڑی مہم چلانے سے قاصر ہیں۔ بلاول بھٹو کے آنے سے متوقع عوامی حمایت کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی ایک بار پھر بلاول بھٹو کے دورے کو ایک بڑا ایونٹ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے جو پریس کانفرنس کی اس میں بھی بلاول بھٹو کے دورے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ بلاول بھٹو زرداری کا یہ دورہ جنوبی پنجاب کی سیاست کیلئے ایک بڑا بریک تھرو ثابت ہوگا۔ ا نہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگانے والوں کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ پیپلزپارٹی نے سینٹ کے انتخابات میں توقع سے بڑھ کر کامیابی کیسے حاصل کی۔ اس قسم کا ’’معجزہ‘‘ پیپلزپارٹی عام انتخابات میں بھی دکھائے گی ۔ 

تازہ ترین
تازہ ترین