آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
موجودہ حکومت اور فلمی صنعت کے حوالے سے خصوصی تحریر

موجودہ حکومت کی مدت آنے والے چند ہفتوں میں مکمل ہو جائے گی۔ ایک جمہوری حکومت کا اپنا دورانیہ مکمل کرنا ملک و قوم کے لیے خوش آئند ہے۔ ملک میں جمہوری حکومتوں کا تسلسل معاشرے کے تمام شعبہ جات کے لیے تعمیر و ترقی کی نوید لے کر آئے گا۔ ثقافت بھی معاشرے کی ایک اہم اکائی ہے۔ اقوام اور ممالک ثقافتی تشخص کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ ثقافتی تشخص کے مظاہر میں فلم ایک اہم ترین مظہر ہے۔ فلم ثقافت کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ 

وہ ممالک جن کی حکومتوں اور عوام نے اس حقیقت کو جانا، پہچانا اور اس کے فروغ کے لیے مناسب حکمت عملی تیار کی وہ اقوام دنیا میں آج اپنی ثقافتی اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ فلم کی ترقی حکومتی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ حکومتیں فلم کی ترقی اور فروغ کے لیے سازگار ماحول مہیا کرتی ہیں۔ سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے ایسی پالیسیوں کو وضع کرنا پڑتا ہے جو کہ فلم کے انفراسٹرکچر اور دیگر وسائل کی دستیابی کو یقینی بنائے۔ علاوہ ازیں ان پالیسیوں کا مقصد فلم بنانے کے لیے موضوعات کی آزادی بھی مہیا کرنا ہے۔ 

تخلیقی اذہان کو فکری آزادی نصیب ہو تو وہ ایسے شاہکار تخلیق کرتے ہیں جو کہ اپنی صنف میں نئے رجحانات قائم کرتے ہیں۔ حکومتوں کی پالیسیوں کے باعث ہی فلم اور ثقافت کے دوسرے میڈیم کی ترقی کے لیے معاشرتی فضا سازگار ہوتی ہے۔ حکومتوں کا کام محض فلم کے حوالے سے پالیسی سازی کرنا نہیں ہے بلکہ ایسی فضا قائم کرنا ہے جس میں ثقافت کی نشوونما ممکن ہو سکے۔ ثقافت کے تمام مظاہر بشمول فلم صرف ایک ایسی فضا میں پروان چڑھ سکتے ہیں جس میں خوف اور ڈر کی آمیزش نہ ہو اور اس فضا میں تخلیق کار معاشرے کی نبض کو محسوس کرتے ہوئے بھرپور طریقے سے ایسے شاہکار تخلیق کریں جو کہ نئی سوچ کے ترجمان ہوں۔

پاکستانی فلمی صنعت اپنے قیام سے لے کر آج تک حکومتی سرپرستی سے محروم رہی ہے۔ ریاست نے کبھی بھی فنکاروں اور تخلیق کاروں کو وہ مقام نہیں دیا جو کہ ان کا حق ہے۔ حکومتیں معاشرے کی تفریحی ضروریات کو سمجھنے سے قاصر رہی ہیں۔ حکومتوں کو اپنے دیگر مسائل سے کبھی بھی اتنی فرصت میسر نہیں آئی کہ وہ تفریح جیسے اہم معاملے کو سمجھ سکیں اور اس تک رسائی کا خاطر خواہ انتظام کر سکیں۔

تفریح کے تمام ذرائع میں سے فلم خاص طور پر حکومتی عدم توجہگی کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ فلم کا میڈیم کیوں حکومتی توجہ حاصل نہیں کر پایا؟ اور پاکستانی معاشرہ اس اہم میڈیم کو کیونکر فروغ دینے سے قاصر رہا ہے؟ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ اس کی سب سے اہم وجہ جمہوری حکومتوں کا عدم تسلسل ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان زیادہ عرصہ آمریت کا شکار رہا ہے۔ آمریت کے دور حکومت نے معاشرے میں ثقافت کے فروغ کو کاری ضرب پہنچائی۔ آمریت آزاد سوچ اور تخلیقی فکر کی دشمن ہوتی ہے۔ 

موجودہ حکومت اور فلمی صنعت کے حوالے سے خصوصی تحریر

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں آمرانہ دور حکومتوں میں ثقافت دبائو کا شکار رہی۔ فلم کا شعبہ بھی انہی آمرانہ پالیسیوں کا نشانہ بنا۔ اگرچہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں جمہوری حکومتوں کی پالیسیاں بھی ثقافت دوست نہیں رہیں البتہ جمہوری حکومتوں کے دور میں ثقافت نے نسبتاً زیادہ ترقی کی ہے۔ ثقافت کے فروغ یا تنزلی کے باعث فلم کا شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔ 

اس لیے تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ جمہوری فضا فلم کے فروغ کے لیے سازگار رہتی ہے اور غیر جمہوری فضا سے فلم کے میڈیم کی ترقی متاثر ہوتی ہے۔ فلم کے میڈیم کی جانب حکومتی عدم توجہگی کی دوسری اہم وجہ وہ سیاسی، اقتصادی اور سماجی مسائل ہیں جنہوں نے حکومتوں کو اس قدر الجھا دیا ہے کہ وہ فلم کے میڈیم کی جانب بالکل بھی توجہ نہ دے سکیں۔

موجودہ حکومت کی فلم کے میڈیم کے حوالے سے کارکردگی دیگر حکومتوں سے مختلف دکھائی نہیں دیتی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت روز اول سے ہی ایسے سیاسی مسائل کا شکار رہی ہے جس نے حکومت کو کئی اہم شعبہ جات کی جانب توجہ نہیں دینے دی۔ 2013 کے الیکشن کے نتائج کے بعد دھرنا، احتجاج اور پھر پانامہ لیکس نے حکومت کو اس قدر مصروف رکھا کہ وہ فلم اور دیگر ثقافتی شعبوں کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دے سکی۔ 

موجودہ حکومت نے کلچر اور فلم پالیسی کے حوالے سے کچھ کام ضرور کیا ہے۔ اس حوالے سے کی جانے والی کاوشیں اور اقدامات بلاشبہ قابل تحسین ہیں۔ اس حوالے سے دستاویزات کی تیاری بھی عمل میں لائی گئی ہے اور ان کوششوں میں ثقافت کے مختلف شعبہ جات سے وابستہ افراد کو شامل بھی کیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے حوالے سے سب سے اہم سوال ان اقدامات کے بارے میں ہے جو اس پالیسی کا نفاذ یقینی بنا سکیں گے۔ 

ان تجاویز کے حوالے سے اہم ترین رکاوٹ فلمی صنعت میں ایسی نمائندہ قیادت کا فقدان ہے جو کہ فلم کے شعبہ سے وابستہ تمام نمائندہ افراد اور گروہوں کو اکٹھا کر کے حکومتی تجاویز کو عملی جامہ پہنا سکے۔ دوسری جانب حکومت کی مدت پوری ہونے میں صرف چند ہفتے ہی باقی رہ گئے ہیں۔ اس لیے حکومتی حلقوں کی جانب سے کی جانے والی مثبت کوششیں بھی ادھوری رہ جانے کا سو فیصد امکان ہے۔

2018کے انتخابات کے نتائج کس جماعت کی حکومت قائم کرتے ہیں اور اس کا موجودہ حکومت کی فلمی پالیسی اور تجاویز پر کیا ردعمل ہوتا ہے یہ بھی ایک اہم چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ حکومت نے ملک میں غیر ملکی فلموں کی نمائش کے حوالے سے کسی بھی فریم ورک یا پالیسی کا اعلان نہیں کیا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کے سینما گھروں میں غیر ملکی فلموں کا راج ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں