آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ادب پارے....چراغ حسن حسرت

چراغ حسن حسرت کھانے سے زیادہ پینے کے قائل تھے، تاہم ادب کی طرح کھانے کا بھی بڑا ہی کلاسیکی مذاق رکھتے تھے۔ ذائقہ تو بعد کی بات تھی، کھانے کی صورت بری ہوتی تو اس پر بھڑک اُٹھتے، طبیعت خراب ہوجاتی، اشتہا مرجاتی، کھانا کھانے کے بجائے کھانا نہ کھانے کے حق میں تقریر کرتے۔ 

تو ابان اودھ، سلاطین کشمیر اور قطب شاہی علی قلی خانوں کے مطنجوں، دسترخوانوں کے متعلق وہ جو وسیع ذاتی معلومات رکھتے تھے۔ ان معلومات نے مرشد کو اس ضمن میں کچھ اور بھی مشکل پسند بنادیا تھا۔ ذائقے اور تنوع کے لحاظ سے کشمیری کھانے کو کھانوں کا بادشاہ مانتے تھے۔

شب دیگ، گوشابہ، کیخوانہ، آفتابہ وغیرہ۔ کشمیری کھانوں کی ایک طویل فہرست تھی، جو ہمیں ہر کھانے پر سننا پڑتی۔ ایک چینی لکھ پتی کی دعوت پر جب کوئی پچاس کو رسوں کے ڈنر سے سابقہ پڑا، جس میں چینی باورچیوں نے چڑیا کی ایک چونچ میں ترش، نمکین شیریں مچھلی تل کر سامنے رکھ دی تھی تو مرشد چینیوں کی عظمت کے بھی قائل ہوگئے تھے، مگر قیادت کا جھنڈا پھر بھی کشمیر میں لہراتا رہا۔

کسی مشاعرے میں حفیظ جالندھری اپنی غزل سناتے سناتے، چراغ حسن حسرت سے مخاطب ہوکر بولے: ’’حسرت صاحب! ملاحطہ فرمائیے، مصرعہ عرض کیا ہے۔‘‘ حسرت صاحب، حفیظ صاحب کا مصرعہ سننے سے پہلے ہی نہایت بے چارگی سے کہنے لگے:’’فرمائیے حضرت ! شوق سے فرمائیے، اپنی تو عمر ہی غزلوں کے مصرعے اٹھانے اور مردوں کو کندھا دینے میں کٹ گئی ہے۔‘‘

……O……

کسی نے چراغ حسن حسرت سے کہا: ’’منٹو نے آپ کے بارے میں لکھا ہے، آپ تو محض ایک لغت ہیں، جس میں مشکل الفاظ کے معنی دیکھے جاسکے ہیں۔‘‘ حسرت نے تلملا کر جواب دیا: ’’اور منٹو ایک فحش ناول ہے، جس کے مطالعہ سے جنسی یتیم اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔‘‘

……O……

مولانا چراغ حسن حسرت، فوج میں کپتانی کے منصب پر فائز تھے، لیکن ڈسپلن کے پابند نہیں تھے۔ سنگاپور میں تعیناتی کے زمانے میں جب کرنل مجید ملک نے جو خود بھی شاعر تھے، کسی معاملے میں مولانا سے تحریری باز پرس کی تو اُنہوں نے فائل پر یہ شعر لکھ کر بھیج دیا:

جرمنی بھی ختم، اس کے بعد جاپانی بھی ختم

تیری کرنیلی بھی ختم اور میری کپتانی بھی ختم

……O……

چراغ حسن حسرت کا قد لمبا تھا، ایک روز بازار گئے، آموں کا موسم تھا۔ ایک دکان دار سے بھائو پوچھا۔ دکان دار نے کہا: ’’پانچ آنے سیر۔‘‘ حسرت نے کہا: ’’میاں آم تو بہت چھوٹے ہیں۔‘‘ دکان دار نے کہا: میاں نیچے بیٹھ کر دیکھو آم چھوٹے ہیں یا بڑے۔ قطب مینار سے تو بڑی شے چھوٹی نظر آتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں