آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان میں براڈ کاسٹنگ اور تعلیم

مشہو ر انگریزی فلم لارنس آف عربیہ میں مرکزی کردار لارنس ایک گھوڑے سُدھانے والے اور جنگ کی تربیت دینے والے سے کہتا ہے کہ تم انہیں جنگ کی تربیت کیوں دیتے ہو ، جنگ تو اچھی چیز نہیں ہے، اس پر گھوڑے والا کہتا ہے کہ لارنس جب تک ساری دنیا تمہارے جیسی باشعور نہیں ہوجاتی مجھے یہ کرنا ہے۔ کہنے کو تو یہ صرف چند ڈائلاگ ہیں لیکن ان کا مقصد پوری دنیا کے انسانوں کو جنگ کے مہلک اثرات سے بچانا اور جنگ سے بچنے کی آگاہی فراہم کرنا ہے۔ 

میری ہی طرح ایسے کئی لوگ ہونگے جن پر ان ڈائلاگ کا اثر ہوا ہوگا۔ یہ ایک بہترین مثال ہے براڈ کاسٹنگ کی طاقت کی۔ فلم چونکہ براڈ کاسٹنگ یا وسیع تر ذرائع ابلاغ کا ہی ایک حصہ ہے چناچہ مجھے لگا کہ آپ کو اس کی اہمیت کا احساس دلائوں۔

براڈ کاسٹنگ کی تعلیم اور اہمیت

پاکستان میں براڈ کاسٹنگ یا وسیع تر ابلاغ ایک کثیر الجہتی شعبہ ہے جو بتدریج ترقی پارہا ہے تاہم اس کی مخصوص تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹیں حائل ہیں۔ خاص طور پر نوجوانوں میں علمی کمی اورجس زبان میں ذریعہ ابلاغ ہونا ہے اُس زبان پر دسترس کا نہ ہونا بھی چند ایسے مسائل ہیں جن کا تدارک وقت کی ضرورت ہے۔

یہ دیکھا گیا ہے کہ ہمارے براڈ کاسٹنگ سے جڑے پروفیشنلز صحافت کے علم سے تو بخوبی واقف ہیں لیکن بہت سی ایسے معاملات جیسے زبان پر دسترس ، ثقافت کی عمومی معلومات اور آواز کا بہتر ہونا ، ہمارے براڈ کاسٹنگ کے شعبے سے غائب ہے۔ لیکن ایک ایسا بھی زمانہ راقم الحروف نے دیکھا ہے جب ریڈیو پاکستان پر بہترین سدا کار اور لسانیات کے ماہرین اپنی آواز کے جادو سے سامعین کو متاثر کرتے تھے اور ایسے ڈرامے بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہیں جو سرحد پار کے لوگ بھی بہت شوق سے سنتے تھے۔ 

ایسا نہیں تھا کہ اُس وقت براڈ کاسٹنگ کی تعلیم دی جاتی ہو لیکن اُس وقت میرٹ پر لوگوں کو موقع دیا جاتا تھا۔ تاہم اب دنیا میں ہر شعبے میں ترقی ہورہی ہے اور اب مخصوص تعلیم حاصل کرنے والوں کو مخصوص فیلڈ میں کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ 

وسیع تر ابلاغ میں اب ایسی تعلیم حاصل کرنے والوں کو دنیا بھر میں فوقیت دی جاتی ہے۔ چناچہ یہ ضروری ہے کہ پاکستان میں بھی ایسی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ ستم ضریفی یہ بھی ہے کہ وسیع تر ابلاغ کے پس پشت مزموم پروپگینڈا بھی کیا جاتا ہے جو اقوام کے درمیان خلیج کا سبب بنتا ہے۔ 

اس لئے آج کی تعلیم میں پروفیشنل ازم پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ تاکہ بولنے والا پروپگینڈا کی اہمیت اور اُس کے مقاصد سے بخوبی واقف ہو اور اُس کو محسوس کرتا ہو اور اسے ایسے انداز میں پیش کرے کہ سننے والا اُس کے سحر کے آثار میں آجائے۔ 

پہلی عالمی جنگ میں امریکہ نے اپنی عوام کو یہ تاثر دیا تھا کہ وہ اس جنگ میںشامل نہیں ہوگا بعد ازاں امریکہ نے اس جنگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ دونوں صورتوں میں انہوں نے جو بیانیہ لاگو کیا اُس پر عام عوام نے بھروسہ کیا۔ یہ براڈ کاسٹنگ کی ہی طاقت تھی جس نے دونو ں صورتوں میں لوگوں کو ایسی تاویلیں دی کہ لوگ جذباتی ہوگئے ۔

لیکن اب ایسے کئی ادارے ابلاغ کی جدید تعلیم فراہم کرنے کے لئے کورسز آفر کررہے ہیں لیکن یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے اور عوام تک ابلاغ کے ذرائع ابھی بھی مکمل حیثیت میں موجود نہیں۔

عوام اور ذرائع ابلاغ

ہر جمہوری معاشرے میں عوام کی شرکت ریاستی امورمیں ضروری ہے اور اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ذرائع ابلاغ تک اُس کی رسائی ہو تاکہ اُسے علم ہو کہ ملک کے وسائل کو کس طرح استعمال میں لایا جارہا ہے اور انسانی ترقی کے لئے ان وسائل سے کس طرح فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ 

اس سلسلے میں ٹیلی وژن اور ریڈیو کا اہم اور کلیدی کردار ہے کیونکہ پاکستان کی عوام کی اکثریت اخبار پڑھ نہیں سکتی ، وہ اپنی معلومات ٹی وی یا ریڈیو سے ہی حاصل کرتے ہیں۔ تاہم اس شعبے کی ترقی میں پرنٹ کا کام بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ بہت سے ایسے بھی پاکستانی ہیں جو لکھ پڑھ سکتے ہیں تاہم معلومات حاصل کرنے کے لئے اُن کے پاس ٹی وی یا ریڈیو کا وقت نہیں ہوتا ، ایسے پاکستان رسائل و جرائد کے ذریعے فارغ وقت میں ملکی امور پر معلومات حاصل کرتے ہیں۔ 

ویسے تو براڈ کاسٹنگ کا پرنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن بلاواسطہ ایک ربط ہے۔ اس لئے براڈ کاسٹنگ کی تعلیم میں ہر طریقے پر توجہ دینی ہوگی تاکہ زیادہ سے زیادہ ذرائع تعلیم میں بطور کورس شامل ہوں۔

براڈ کاسٹنگ کی تعلیمی اور دیگر ضروریات

عام طور پر براڈ کاسٹرز کے لئے گریجویٹ ہونا لازمی ہے پھر اُس کے بعد ریڈیو یا ٹیلی وژن میں مختلف ٹیسٹ لئے جاتے ہیں مثلاً ریڈیو میں زبان پر دسترس تلفظ کا بہترین ہونا اور آواز کا معیار ایسا ہو جو سُننے والے کو اپنی جانب متوجہ کرے۔

اسی طرح ٹیلی وژن میں زبان پر دسترس کے ساتھ ساتھ آواز اور چہرہ بھی جازب نظر ہونا چاہیے جو دیکھنے والے کو بھائے۔ اس کے علاوہ اگر بہترین براڈ کاسٹر بننا ہے تو اُس کے لئے تعلیم کے علاوہ بھی معلومات حاصل کرنا اور مسلسل پڑھنا بہت ضروری ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں