آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سپریم کورٹ اور سیاسی معاملات

نیب آرڈیننس ختم نہیں ہونا چاہئے۔یہ ادارہ پیپلزپارٹی کے احتساب کے لئے استعمال ہوگا۔ڈاکٹر عاصم پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنا درست ہے،کیونکہ زرداری کو سبق سکھانے کا اس سے بہتر طریقہ نہیں ہوسکتا۔آرٹیکل 62اور63کو ختم نہیں کرنا چاہئے۔ان شقوں کا نشانہ پیپلزپارٹی بنے گی۔پاناما معاملے کو پارلیمنٹ میں لے کر آنا ٹھیک نہیں،کیونکہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے عزت میں کمی ہوسکتی ہے مگر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا ٹھیک ہے۔جب ہم دوہرے معیار رکھتے ہیں تو پھر وہی ہوتا ہے جو آج پاناما کیس میں ہورہا ہے۔مجھے یاد ہے کہ جب ڈاکٹر عاصم کو رینجرز حکام نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت گرفتار کیا اور پورے ملک میں تاثر دیا گیا کہ شاید سندھ کا سب سے بڑا دہشت گرد اداروں کی حراست میں آچکا ہے ۔تب اس خاکسار نے مسلم لیگ ن کے ایک سینئر رہنما کو کہا کہ یہ وقت اسحاق ڈار پر بھی آسکتا ہے۔ڈاکٹر عاصم کا پی پی پی میں وہی مقام ہے جو اسحاق ڈار کا مسلم لیگ ن میں ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے میری بات نظر انداز کردی۔جس کے بعد میں نے متعدد کالمز میں لکھا کہ ڈاکٹر عاصم کو کرپشن کے الزام میں

گرفتار کرنا درست ہے مگر دہشت گرد قرار دینا مناسب نہیں۔مگر اس وقت سابق وزیر داخلہ پی پی پی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے سب کچھ کررہے تھے ۔سابق وزیراعظم نوازشریف کو تاثر دیا جاتا تھا کہ رینجرز کی سندھ میں کارروائیاں پی پی پی کے خلاف ہیں اور آئندہ سندھ میں بھی ہمیں موقع دیا جائے گا۔ایان علی سمیت تمام مقدمات کے متعلق رائے دی جاتی تھی کہ ان اقدامات سے پی پی پی اسٹیبلشمنٹ سے دور ہوجائے گی اور ہم اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہوجائیں گے۔پانچ سال کا اقتدار ملتے ہی آئندہ پانچ سال کی تیاری شروع کردی گئی تھی۔مگر ہر منصوبہ بندی سے آپ اسٹیبلشمنٹ سے دور ہوگئے اور پی پی پی اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہوگئی۔میں تاریخ کا طالبعلم ہوں اور ہمیشہ دو سبق سیکھے ہیں۔تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ہے اور تاریخ کا سبق ہے کہ کوئی تاریخ سے نہیں سیکھتا۔
مجھے یاد ہے کہ دو سال قبل پی پی پی نے حکمران جماعت کی منتیں کیں کہ نیب آرڈیننس ختم کردیا جائے ،اگر ختم کرنا ممکن نہیں ہے تو کم از کم اس میں سے صوبے اور بلدیاتی اداروں کا لفظ نکال دیا جائے۔مگر اس وقت اسحاق ڈار نے رائے دی کہ نہیں نیب آرڈیننس کو کمزور نہیں کرنا ۔اسی طرح سے 18ویں آئینی ترمیم میں رضاربانی منتیں کرتے رہے کہ آئین سے 62,63کو نکال دیا جائے مگر ہم نے سمجھا کہ بددیانت تو صرف پی پی پی والے ہیں اور اس کا شکار بھی وہی ہونگے۔
آصف زرداری نے اداروں کے حوالے سے سخت تقریر کی۔اگلے روز نوازشریف سے ملاقات طے تھی مگر نوازشریف صاحب نے ملاقات منسوخ کردی۔بتایا گیا کہ کوئی ناراض ہوجائے گا۔یوں آصف علی زرداری دبئی چلے گئے اور فریال تالپور کے ذریعے اسلام آباد کے مقتدد حلقوں سے ڈیل کرکے واپس آئے۔جب تک سیاست میں اصول نہیں ہوگا۔سیاستدان یونہی بدنام ہوتے رہیں گے۔سول عسکری تعلقات کے حوالے سے ہمیشہ سویلین بالادستی کا قائل رہا ہوں۔مگر 70سالہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ کبھی بھی کسی غیر آئینی اقدام کو تحفظ کسی ڈکٹیٹر نے نہیں دیا بلکہ اس کام کے لئے سیاستدانوں نے اپنی خدمات پیش کیں۔زرداری جو کچھ کررہے ہیں،اس سے شدید اختلاف ہے مگر ہم نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے۔سیاسی مسائل کا حل ہمیشہ سیاسی ہوتا ہے۔جب آپ نے ایک جماعت کو دیوار سے لگانے کے لئے اقدامات کئے اور اس جماعت کا تاثر دیا کہ یہ ہم نہیں کررہے بلکہ وزارت داخلہ کے ذریعے ہم سے کروایا جارہا ہے تو پھر انہو ں نے انہی سے بات کی ،جن سے متعلق آپ تاثر دے رہے تھے۔میں تحریک انصاف کو سیاسی جماعت نہیں سمجھتا،ملک میں آج بھی دو سیاسی جماعتوں کا مستقبل ہے ۔مسلم لیگ ن اور پی پی پی نے کسی نہ کسی شکل میں قائم رہنا ہے۔آج ان دو جماعتوں کو طے کرنا ہوگا کہ انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف آلہ کار بننا ہے یا نہیں۔آج جو کچھ زرداری کررہے ہیں،کل وہی کچھ ہم کرتے رہے ہیں۔اس لئے مکافات عمل بہت سخت ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے۔دل سے اس کا احترام کرتا ہوں۔کچھ فیصلوں سے البتہ اختلاف ہے۔جوڈیشل ایکٹوزم کا باقاعدہ آغاز سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں ہوا۔آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے شاید افتخار محمد چوہدری کی خدمات بھلائی نہ جاسکیں۔بڑے سے بڑے ادارے کو اس شخص نے کورٹ روم نمبر ایک میں طلب کیا۔مگر ایگزیکٹو کے معاملات میں عدالتی مداخلت کا آغاز بھی اسی دور میں ہوا۔مسلم لیگ ن کو بطور سیاسی جماعت اس حوالے سے پی پی پی کا ساتھ دینا چاہئے تھا اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو منوانا چاہئے تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔اسی طرح پاناما کیس میں خود سپریم کورٹ میں معاملہ لےجایا گیا اور پھر نتیجہ سب کے سامنے ہے۔عدالتیں کبھی سیاسی نہیں ہوتیں بلکہ انہیں سیاسی بنانے کے لئے سیاستدان ہی کردار ادا کرتے ہیں۔اگر آج مختلف معاملات میں عدالتیں ایگزیکٹو کے کام میں مداخلت کررہی ہیں تو یہ راستہ بھی ہم نے خود ہموار کیا ہے۔جب تک ہمارے رویوں میں منافقت موجود رہے گی اور ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے کی روایت نہیں ٹوٹے گی ۔معاملات یونہی چلتے رہیں گے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کاا صول برقرار رہے گا۔ اداروںکو سیاسی معاملات سے دور رکھنے کا واحد طریقہ ہے کہ سیاستدان پہلے اپنا قبلہ خود درست کریں اور ایک دوسرے کے خلاف سہولت کار کا کردار ادا نہ کریں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں