آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(آخری قسط)
ان دنوں پختون خطے میں ایک بہت بڑی تحریک برپا ہے، بعض حلقے اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ مبادا یہ غلط سمت پر نہ چلی جائے۔ یوں تو تحریک کے رہنما ہمہ وقت پاکستانی آئین کے مطابق اپنے ایشوز کے حل کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن جیسا کہ راقم نے 8اپریل کے کالم میں عرض کیا تھا کہ بعض عناصر مختلف نعروں جیسے آزادی، پختونستان، گریٹر افغانستان ان سے نتھی کرکے اس تحریک کو اینٹی اسٹیٹ ڈکلیئر کرانے کی تگ و دو میں ہیں۔ہم نے پختونستان کے حوالے سے مستند حوالوں کے علاوہ یہ حوالہ بھی دیا تھا کہ ولی خان صاحب کا کہنا ہے کہ ’’ اس مسئلے کو ہوا مسلم لیگ نے دی اور 1952 میں افغانستان نے مسلم لیگی لیڈروں کی زبان پر چڑھا ہوا لفظ پختونستان اُچک لیا ‘‘۔تاریخ یہ ہے کہ جب تقسیم ہند کے وقت صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کا فیصلہ ہوا، تو باچا خان نے کہا کہ چونکہ تقسیم کا فیصلہ ہوچکا، لہذاہم پاکستان کے ساتھ ہیں، لہذا ریفرنڈم کی ضرورت نہیں۔لیکن جب مسلم لیگ ریفرنڈم پر بضد ہوئی تو9جون 1947کو بنوں میں خدائی خدمتگار تحریک کا اجلاس ہوا، جس میں کہا گیا کہ اگر ریفرنڈم کرانا ہی ہے تو پھر اس میں تیسرا آپشن پختونستان رکھا جائے کہ پاکستان ، ہندوستان اور آزاد پختونستان میں عوام کس کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ اس تجویز کو رد کردیا گیا۔ چنانچہ باچا خان

نے کہا کہ پھر ہم ریفرنڈم کا اس لئے بائیکاٹ کرتے ہیں کہ ہم تو ویسے بھی پاکستان کا حصہ رہیں گے ۔ میاں افتخار الدین کی کتاب ’’ منتخبہ تقاریر و بیانات‘‘ کے مطابق فروری 1948میں پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ قائد اعظم صدارت کررہے تھے ،باچا خان نے حلف لینے کے بعدکہا ’’ہم تقسیم ہند کے خلاف تھے،پاکستان بننے کے بعد اب ہمارا کوئی اختلاف نہیں، یہ ہمارا مشترکہ ملک ہے۔ اس موقع پر نوابزادہ لیاقت علی خان کے استفسار پر باچا خان نےکہا کہ پختونستان سے مراد دیگر صوبوں کی طرح ہمارے صوبے کو یہ نام پختونستان دینا ہے‘‘( صفحہ 414)اب آپ کی توجہ ایک بنیادی اصول کی جانب چاہتے ہیں کہ اگر باچا خان پاکستان کے پختون علاقوں کی افغانستان میں شمولیت کے حامی ہوتے تو وہ یہ نکتہ اٹھاتے کہ یہ علاقے افغانستان کے ہیں لہٰذا ریفرنڈم میں تیسرا آپشن گریٹر افغانستان ہونا چاہیے،لیکن جب ریفرنڈم پر زور دیا گیا تو باچا خان نے ایک آزاد ریاست پختونستان کا آپشن رکھا، جسے حلف کے بعد صوبے کا نام دیا۔ باچا خان نے نہ تو تقسیم ہند سے پہلے نہ ہی اس کے بعد آزاد ریاست یا افغانستان کے ساتھ شمولیت کے لئے کبھی جدوجہد کی۔ باچا خان مولوی فضل محمود مخفی صاحب کی ایک نظم کا حوالے دیتے ہیں اس میں ایک  آرزو ہے،لیکن یہاں نظر آنے والی کوششوں کا تذکرہ مقصود ہے۔ اب جب صوبے کا نام تبدیل ہوگیا تو پختونستان ایشو حل ہوگیا،کیونکہ مطالبہ صوبے کے نام کی تبدیلی کا تھا۔باچا خان کا اصرار صرف پختونستان ہی کے نام پر نہیں تھا افغانیہ اور پختونخوابھی تجاویز کا حصہ تھے ۔ فاٹا اور بلوچستان کے پختونوں کی پختونخوا میں شمولیت سے یہ مسئلہ کلی طورپر حل ہوجائے گا۔ یہ امر بھی نوٹ فرمالیں کہ افغانستان نے اس بنا پر اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت نہیں کی تھی کہ وہ تقسیم کے بعد اپنے علاقے واپس چاہتا تھا۔ بلکہ موقف یہ اختیار کیا کہ پاکستان پختونوں پر ظلم کررہا ہے اور یہ حقیقت بھی تھی کہ خان قیوم خان کے وزیر اعلیٰ بنتے ہی صرف ایک دن میں 610پختون بابڑہ میں شہید کئے گئے تھے۔
9مئی 1950کو لندن میں افغان سفیر شاہ ولی خان نے واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرحد میں توسیع نہیں کرنا چاہتا ۔ 1893میں امیر عبدالرحمن جس نے ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ کیا تھا، سے لے کر ملا عمر تک کوئی بھی حکمران ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے کی اگرجرات نہیں کرسکا ہے تواس کی وجہ افغان سائیکی ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ ظاہر شاہ سے لے کراشرف غنی تک کسی بھی افغان حکمران نے پاکستان کے پختون علاقوں کو واپس لینے کا باضابطہ اظہار بھی نہیں کیا ۔ولی خان صاحب اپنی کتاب باچا خان اورخدائی خدمتگاری جلد دوم صفحہ 614تا 622 شاہ ظاہر شاہ دور کے افغانستان وزارت خارجہ کے اہم کردار روان فرہادی سے عظیم تر افغانستان اورآزاد پختونستان کے ایشو پر طویل مکالمے کے بعد ان سے کہتے ہیں کہ’’ نہ تو آپ کے پاس پختونستان کا کوئی قابل عمل منصوبہ ہے نہ ہی آپ پاکستان سے اپنے علاقے واپس لینے کے لئے حکمت عملی رکھتے ہیں، اور نہ ہی ہمیں پاکستان میں سکون سے رہنے دینا چاہتے ہیں۔ آپ بابڑہ کے شہدا کی یاد میں مشاعرے تو پڑھتے ہیں، لیکن جو ان کے قتل میں ملوث ہیں، ہمارے خلاف آپ ان کی مالی مدد کرتے ہیں ‘‘ راقم دعویٰ سے کہہ سکتا ہے کہ خواہشیں اپنی جگہ،مگر افغان حکومت سمیت برسرزمین کسی کے پاس’ آج ‘ان نعروں کو عملی جامہ پہنانے کا کوئی پروگرام نہیں۔اور نہ ہی آزادی کوئی ایسا کیک ہے جسے پلیٹ میں رکھ کر خواہشمند کو پیش کردیا جائے۔ ہاں’ لراوبرایک افغان‘ (پاکستان اور افغانستان کے پختون ایک ہیں ) نعرہ نہیں ، حقیقت ہے ۔ سورت حجرات آیت 13میں ہے ’’کہ ہم نے تمہارے خاندان اور قبیلے(قومیت) تمہاری شناخت اور پہچان کے لئے بنائے ہیں‘‘ یوں تمام پختونوں کی زبان، ثقافت، تہذیب، تمدن و تاریخ ایک ہے، اورانہی سےان کی شناخت و پہچان ہوتی ہے۔ انہیں اب افغان، پختون، پشتون، پٹھان، روھیلہ، کوہستانی اور سلیمانی،جس نام سے بھی پکارا جائے یہ ہیں ایک ہی نسل کے۔ سوال ہوتا ہے کہ اچھا پختون تودنیابھر میں ہیں ، پھر آپ صر ف دو ممالک کے پختونوں ہی کو ’ایک‘کیو ں کہتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے، جس سے نکتہ دان ریب وتشکیک کے پہاڑ کھڑے کردیتے ہیں۔عرض ہے کہ اس لئےکہتے ہیں کہ دنیا بھر میں جو پختون آباد ہیں ، یہ وہ ہیں،جن کا اپنا، یا آبائو اجداد کا ’خمیر‘انہی دوممالک یعنی افغانستان اور پاکستان کے پختون علاقوں سے اُٹھا ہے۔ یوں افغانستان و پاکستان کے افغان ایک ہیںسے لامحالہ یہ مراد ہوگی کہ دنیا بھر کے پختون یا افغان ایک ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ پختون تحفظ موومنٹ کے تمام مطالبات آئینی ہیںاینٹی اسٹیٹ نہیں، لیکن سرکار کا طرز عمل مثبت نہیں۔ ایسے میں تصادم کے خواہشمند بامراد ہوسکتے ہیں۔ اس لئے ہم ملتمس ہیں کہ قوم پرستی کے دعویدار ،جو کانفرنس بلانے اور لویہ جرگہ بنانے کے اُستاد ہیں،اس مسئلے کے حل کیلئے بھی کوئی قدم اُٹھائیں، یاپھر تحریکی نوجوانوں کی ایسی راہ نمائی فرمائیں کہ مسائل بھی حل ہوجائیں اور بعد ازاں ان نوجوانوں کی زندگی کو بھی عذاب نہ بنایا جائے۔ تاہم افسوس سے مگر یہاں یہ کہنا پڑتاہے کہ’ راہ بری‘ کی گدی پر برا جمان اصحاب کودرباریوں کے لطیفے سننے سے ہی فرصت نہیں۔ یوں اگر خدا نخواستہ ان نوجوانوں کو کوئی نقصان پہنچتا ہےتو جواب سرکار کو نہیں، انہی ’راہ بروں‘ کو دینا ہوگا کہ انہوں نے ’راہ بری ‘کا خلعت فاخرہ زیب تن کرنے کے باوصف کردار ادا کیوں نہیں کیا۔اسی خاطر عرض کرتے ہیں۔
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں
تری رہبری کا سوال ہے
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں