آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پچھلے دنوں جب بھٹوئوں کے ِآبائی لاڑکانہ ضلع کے ایک گائوں کی تقریب کے دوران ایک مقامی خاتون فنکارہ ثمینہ سندھو کوزبردستی کھڑا کرواکرجب وہ گانے لگی تھی تو تین فائر کر کے قتل کردیا گیا۔ سندھو سات ماہ کی حاملہ تھی کھڑے ہو کر گانے سے قاصر تھی جبکہ اوباش تماش بینوں لیکن میزبانوں کیلئے’’معزز مہمانوں‘‘نے ثمینہ سندھو سے فرمائش کی کہ وہ کھڑی ہو کر گائے۔ سندھو کی اس آخری المناک وڈیو کو جنہوں نے بھی دیکھا ہے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ سندھو اٹھنے پر تیار نہیں تھی لیکن اسے زبردستی اٹھایا گیا۔ جب وہ اٹھی اور ابھی وہ مشہور لیکن دل کو نمک ڈلی کرنے والا سندھی صوفیانہ کلام ’’الائجے کنھن میں راضی آ، الائجے کنھن سان راضی آ ‘‘( نہ جانے کس میں راضی ہے، نہ جانے کس سے راضی ہے) گانے ہی لگی تھی ۔ ابھی اس نے رانجھن فقیر کی شاعری کے یہ شروعاتی مصرعے اٹھائے ہی تھے تو تقریب میں تین سیدھے فائر اس غریب خاتون فنکارہ پر ہوئے اور وہ کسی شکار کیے ہوئے پرندے کی طرح آ ن گری۔ اور ایک لحظہ کی خاموشی۔ اور پھر بے حس آواز جس میں بھی گولی کی مار جتنا ہی درد تھا "ارے یہ تو واقعی پوری ہو گئی"۔ ہاں وہ فنکارہ پوری ہو چکی تھی۔ لوگوں نے اس کی آخری پرفارمنس اور اس کے قتل ہونے کی بھی وڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر وائرل کردی۔ اسے بچا نہ پائے ،وڈیو

وائرل کردی۔
یہ کسی ایڈیشنل سیشن جج کے ریڈر کے بیٹوں کے ختنے کی خوشی میں دعوت تھی جس میں اس فنکارہ کو اپنا فن دکھانے کو بلایا گیا تھا۔ یہ غریب فنکارہ اپنے کنبے کا گزر بسر علاقے میں ہونیوالی تقریبات اور فنکشنوں میں گا ناگا کر کیا کرتی تھی۔ اسکے قتل کے وقت مقامی پولیس کا ایس ایچ او تھوڑے فاصلے پر موجود تھا لیکن پولیس نے قاتل کے پیچھے جانے کے بجائے وہاں پہنچ کر فنکارہ کے سازندوں کو حراست میں لیا۔ تھانے لے جاکر ان پر تشدد کیا اور انکی ویل کے پچیس ہزار روپے بھی بقول مقامی صحافیوں اور سازندوں کے پولیس نے چھین لیے۔ قاتل جس نے کسی اور کے پستول سے تین گولیاں فنکارہ پر سیدھی چلائی تھیں آرام سے جا کر گھر سوگیا۔ فنکارہ کے قتل کے دوسرے روز ، اخبارات و دیگر میڈیا میں بس یہ خبر آئی کہ شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ میں ’’فنکارہ ناچنے والی گولی لگنے سے ہلاک‘‘۔ جب سوشل میڈیا پر اصل خبر چل نکلی تو پولیس کے اعلیٰ حکام حرکت میں بمشکل آئے اور فنکارہ کے قتل کا مقدمہ داخل کیا گیا ۔ وہ بھی جب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نوٹس لیا۔ حالانکہ فنکارہ کے اعزا جب اسکے قتل کی ایف آ ئی آر داخل نہ ہونے اور قاتل کی عدم گرفتاری پر مقتول فنکارہ کی لاش لیکر ایس ایس پی ہائوس کے سامنے جاکر دھرنا دیکر بیٹھے تب بھی نہیں۔ نہ جانے کیوں بس اسوقت تھوڑا بہت نوٹس لیا جاتا ہے جب سوشل میڈیا پر معاملہ اٹھتا ہے یا پھر وڈیو وائرل ہوتی ہے۔ وگرنہ سندھ کے اعلیٰ حکام و حکمرانوں کو بے شمار کام ہیں یہ تو انکا ایس ایچ او بھی کرسکتا ہے۔ حالانک سندھ کے وزیر داخلہ کے علاقے میں ایسی دل ہلانے والی واردات ہوئی ہے ۔
اس غریب محنت کش اور سات ماہ کی حاملہ فنکارہ کا قتل کوئی اچانک نہیں ہوا۔ اس کیلئے باقاعدہ ماحول اور موقع بنایا گیا ۔ کچھ دن پہلے ایک مقامی شاعر اور گانے والے کی مقامی کیسٹ کمپنی نے بیہودہ زبان پر مبنی وڈیو جاری کی اور جس میں بغیر نام لیے اس خاتون فنکارہ پر رکیک حملے کیے گئے ہیں۔ اس کے گانا گانے پر باقاعدہ اشتعال دلایا گیا ہے ۔ لوگوں کو براہ راست اس خاتون فنکارہ کو قتل کرنے کی ترغیب دی گئی۔ وہ جو صوفی کلام سندھی کلاسیکل اور جدید شاعری گاتی تھی۔ اس کا گانا ’’انتہائی جرم ‘‘ بناکر اسے متنبہ کیا گیا کہ "تم ماری جائو گی یہ غیرتمند لوگوں کی دھرتی ہے"۔ اک کمزور عورت پر مونچھیں مروڑ کر تشدد کے پرچار سے زیادہ بےغیرتی اور کیا ہو سکتی ہے؟ کہاں وہ "نہ جانے کس میں راضی ہے، نہ جانے کس سے راضی ہے گانے والی یہ معصوم روح فنکارہ اور کہاں وہ مجرمانہ بے تال سازشی نام نہاد سنگیت۔ یہ وہ صوفی سندھ ہے جہاں عورت فنکارہ کو اس طرح قتل کیا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح فنکارائیں صوبہ خیبر پختونخوا میں طالبان ظالمان کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔ جس طرح کوئی بھی بدقماش تماش بین پنجاب میں فنکارائوں کو قتل کرتا ہے۔ یا پھر یہ فلموں میں ہوتا تھا۔ مجھے فرانسیسی فلم ’’بٹر فلائی ‘‘ یاد آتی ہے جس میں اسی طرح قتل کیا گیا۔
اب اس فنکارہ کا شوہر اور اسکے گھر والے عذاب میں ہیں کہ نام نہاد مقامی "معتبر ین" فنکارہ کے لواحقین پر دبائو ڈالنے پہنچے کہ فیصلہ کر کے معاملہ ختم کیا جائے۔ ایسے دبائو میں وہ میزبان بھی شامل ہیں جنہوں نے تقریب برپا کی ۔ماحول بنایا جس میں یہ خاتون فنکارہ نشانہ بنی۔
سندھ اپنی اقدار اور اجتماعی انسانی بنیادی اخلاقیات سے مبرا ہوتا جا رہا ہے۔ آپ تصور ہی نہیں کرسکتے تھے کہ بقول شخصے سندھ میں کسی کو اپنی خوشی کی تقریب میں بلا کر پھر قتل کروایا جائے یا قتل ہونے دیا جائے۔ حاملہ فنکارہ نہیں حاملہ دھرتی قتل ہوئی۔ دوہرا قتل ہوا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب پولیس نے اس کو دوہرا قتل سمجھتے ہوئے مقدمہ داخل کیا ہے کہ نہیں۔ بس ’’دہشت گردی ‘‘ کے قلم لگادئیے گئے ہیں۔ لامحالہ یہ بھی ایک اس دہشتگردی کا تسلسل ہے جو بغیر کسی روک ٹوک کے سندھ میںعورتوں کے خلاف جاری ہے۔ صنفی دہشت گردی۔ حاملہ عورت کے ساتھ اس کا بچہ قتل ہوا۔
جس علاقے میں اس فنکارہ کا قتل ہوا وہ علاقہ موہن جو دڑو سے کوئی بہت دور نہیں ہے جہاں کے آثاروں کی کھدائی میں جو چیزیں دریافت ہوئی تھیں اس میں اس رقاصہ کا مجسمہ بھی تھا جسے سمبارہ کہا گیا تھا۔ وہ تو عورت کی عزت کرنے والا معاشرہ تھا جہاں کام کرتی خود مختار عورت کی بڑی تکریم ہوا کرتی تھی۔ ثمینہ سندھو بھی ایسی لڑکی تھی لیکن موہن جو دڑو کے وارث کہلانے والوں کو کیا ہوا۔ ناچتی دھڑکتی گاتی حاملہ دھرتی اور دھرتی جیسی اس عورت کا قتل کیوں کیا؟ مجھے لگا ایک دفعہ پھر موہن جو دڑو برباد ہوا۔ یہ ایک مردانہ محفل تھی جس میں ثمینہ سندھو شاید واحد عورت تھی، جب بدقماش قاتل نے اس لڑکی پر پستول سے تین فائر کیے تو ان سندھی مردوں کے ہاتھ پائوں کو مہندی لگی ہوئی تھی کہ اسے بچا نہ پائے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں