آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں عشروں کے بعد ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی ہوا چلتی تو ہے۔ ملکی بڑی روایتی پارلیمانی قوت، پی پی بطور عوامی جماعت خزاں زدہ ہو کر اب اپنے سیاسی ابلاغ میں ہی وفاقی ہے، حقیقتاً یہ علاقائی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ پوری صوبائی بھی نہیں، سندھ کی سب سے بڑی لیکن فقط دیہی، اس کی اپنی پیچیدگی ہے۔ یہ کراچی والے ہی جانتے ہیں جو پینے کے صاف اور سستے ہی نہیں، کپڑے اور برتن دھونے کے پانی کو بھی ترس گئے۔ انتخابات میں اسے اقتدار کی باری پھر مل گئی جس کا امکان قدرے ہی کم ہے لیکن زیادہ تر ہے۔ ایسے میں گورننس کا عالم یہ ہی رہا جو جاری عشرہ جمہوریت کی دونوں باریوں میں رہا تو پھر غالباً کراچی کوعلیحدہ صوبہ بنانے سے نہیں روکا جاسکے گا، خصوصاً اگر جنوبی پنجاب عمران خان اور ن لیگ کی زور پکڑتی انتخابی مہم کی کمٹمینٹ کے بعد واقعی موجودہ پنجاب دو صوبوں میں بٹ گیا۔ سو، پی پی کے لئے زندہ اپنے اور اپنے وفاقی تشخص کو برقرار رکھنے کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے منشور میں تمام آئینی تقاضوں کے مطابق قومی سطح کے مجوزہ اقدامات پر مشتمل پروگرام کا اعلان کرے اور اپنی گورننس کی کیپسٹی بلڈنگ کے لئے اس نے کیا کرنا ہے؟ اس کا واضح اعلان کرے ۔ پی پی کا بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ ایک تو یہ اسٹیٹس کو میں جکڑی ہوئی، اس میں عوامی انقلابی ہونے کا شائبہ بھی

نہیں، پھر یہ سیاسی وراثت میں بھٹو سے زرداری خاندان میں آگئی اوراس کی موجود قیادت پکی روایتی اور بے کشش تازہ دم قیادت کے ملاپ سے کشمکش میں مبتلا ہے۔ پی پی کے سچے پکے زعماء غور فرمائیں کہ آخر اس مشکل کا کیا کرنا ہے؟ پارٹی کو کسی نظریے اور پروگرام کے تحت چلانا یا خاندانی جکڑ بندی پر ہی گزارا قبول ہے۔
جہاں تک ن لیگ کا تعلق ہے، جس کی روایتی اور مکمل تاجرانہ مزاج کی قیادت گزشتہ دس سال سے مسلم لیگ کی بجائے ن لیگی ہونے پر نازاں رہی، پاناما کے تناظر میں اصلی، یعنی آئینی و قانونی احتسابی عمل میں آگئی ہے، جس کا دائرہ بھی کوئی حکمران شریف خاندان تک محدود نہیں۔ سو یہ نتیجہ خیز ہورہا ہے۔ میاں صاحب کا نیا نظریہ پہلے تو واضح ہی نہیں ہورہا تھا، اب وہ جو کررہے ہیں وہ ان کی مکمل سیاسی تباہی کا سامان لئے ہوئے ہے۔ ان کی موجودہ حالات میں بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ انہیں ’’نادیدہ قوتوں‘‘ نے یقین دلا دیا ہے اور وہ خود بھی اس بڑی خوش فہمی کا شکار ہوگئے کہ وہ احتساب کا کامیاب جو اب بطور سابق وزیراعظم سینے میں موجودہ راز کھولنے کی دھمکیوں سے دے سکتے ہیں، پھر یہ کہ ہر ریاستی ادارے کو مطعون کر کے حریت پسند سمجھے جائیں گے۔ دور دور اس کا کوئی امکان نہیں۔ خسارہ ہوگیا، آگے بھی یہی ہے۔ اس کا اصل تجزیہ اس برے وقت میں انہیں خاصا دکھی کرے گا، جبکہ مقصد انہیں سیدھی راہ دکھانا ہے، بس وہ یہ یقین کرنے کے لئے رات کی تنہائی میں جذبہ ترحم اور بینی فشری خوشامدیوں کے اثر سے آزاد ہو کر دیانت داری سے اپنے سے یہ سوال کریں کہ ’’نوازشریف تمہیں اور تمہارے خاندان کو غریب پاکستان نے کیا دیا اور کہاں پہنچایا ہے؟اور تم نے اس پاکستان کے کروڑوں عوام کو کیا دیا ہے؟ اور اب تم کہاں ہو؟ عدم توازن کتنا ہے؟ اور یہ کہ احتسابی عمل کے دوران آپ نے چبھتے اور قوم کے انتہائی جائز اٹھائے گئے سوالوں پر کتنا سچ بولا ہے؟ اور کیا اٹھائے گئے تمام سوالوں کا جواب دیا ہے؟ یا اپنے میڈیا سیل کے نام نہاد بیانیوں کی گردان سے سادہ عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لئے کتنی محنت کی اور کررہے ہیں۔‘‘ یہ تو درست ہے کہ آپ ہر انتخاب پر ووٹ کی (بظاہر) بہت عزت بھی کرتے ہیں۔ اسے اہمیت میں بھی دیتے ہیں اس پر پورا فوکس کرتے ہیں اور پولنگ ڈے پر اسے جیسے تیسے حاصل کرنے پر بھی مہارت رکھتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آپ ووٹ والے ووٹر کی کتنی عزت کرتے ہیں۔ ووٹ کسی کا بھی ہو، ووٹر کی عزت کا بنیادی تقاضا یہ نہیں؟ کہ اس سے جو وعدے کئے جائیں پورے کئے جائیں یا کرنے کے لئے بنیادی اقدامات تو اٹھائے جائیں، کوئی پالیسی تو لائی جائے، کچھ ماہر تو انگیج کئے جائیں۔ آپ کا عالم تو یہ رہا کہ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کی انتخابی مہم کو تباہ کن کرپشن میں مبتلا ملزمان کے احتساب کا یقین دلایا جو آپ کے پورے اور جاری اقتدا رمیں مکمل جھوٹ ثابت ہوا۔ آپ نے قوم کو کشکول توڑنے کا یقین دلایا اور پاکستانی ووٹرز کو دھوکہ دینے کے لئے خود کو اقبال کا طائر لاہوتی ہونے کا ڈرامہ رچایا، ایسے کہ ’’کم سے کم مدت میں زیادہ سے زیادہ عوام دشمن قرضے‘‘ لینے کا ریکارڈ اقائم کیا اور قائم کرنے والا اپنے اور آل اولاد کے بلاجواز ملکی و غیر ملکی اثاثوں کا حساب مانگنے پر فرار ہو کر اشتہاری قرار پایا۔ حقیقت تو یہ ہے ن لیگی قیادت نے اپنی تاریخ، عوام، ملک و آئین سے بے وفائی کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ جو کیا اور عوام کے ساتھ تادم کررہی ہے، اس میں کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی کہ اس کی جیسی تیسی اصلی اور نقلی قیادت اب اسے گرداب سے نکال سکے۔ فقط اک راہ رہ گئی ہے کہ بدلتے زمانے کے تقاضے زیر عتاب خاندان نہیں پڑھ سکا اور پڑھ پا رہا ہے تو کوئی سنجیدہ اور پرخلوص پارٹی بچانے کے لئے اسے احتسابی عمل میں جکڑی ملزم خاندان سے نجات دلا کر نئی قیادت لے آئے اور پارٹی میں بھی شریف خاندان کا تنظیمی احتساب کرے جس نے کتنے ہی سچے، کھرے اور روایتی مسلم لیگیوں کو ایک ٹوکری میں ڈال کراپنا خاندانی غلام بنا لیا۔ جس قسم کا ابلاغی ن لیگی قیادت اور کہیں اور جگہ نہ پانے والے چاپلوس بینی فشریز کی طرف سے کیا جارہا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ یا تو ن لیگ کے مسلم لیگی، جماعت اپنے ہاتھ میں لے کر اصلی مسلم لیگی قیادت لے آئیں یا اپنے ضمیر کے مطابق ممکنہ بہتر جماعت میں شامل ہو کر ملک سے وفا کا حقیقی دم بھریں۔
یہ جو ملک میں بڑی تبدیلی کی ہوا چلی ہے، اس کے کتنے ہی عوامل ہیں، سب سے بڑا پاناما لیکس، عمران خان کا اسے نتیجہ خیز بنانے کا گرم تعصب اور اسے ڈیل کرتے ہوئے ن لیگی قیادت اور شریف خاندان اور میڈیا سیل کی مت ماری اور مہلک اناڑی پن۔
گمان غالب ہے کہ تیز ہوتی تبدیلی کی ہوا کا رخ تحریک انصاف کی ہی جانب ہے، لیکن اس طرف کے خدشات، خطرات بھی کم نہیں خدانخواستہ حق میں تبدیلی ہوتی ہو ا کو بڑھانے کا فن نہ آیا اور اسے تقاضوں کے مطابق مینج نہ کیا گیا تو خان اعظم کی نیک نیتی اور دیانت داری ہی کوئی معجزہ دکھا دے تو دکھا دے عمومی حالت میں تو ڈیزاسٹر ہی کے امکان زیادہ رہیں گے۔
عمران خان نے اپنی تمام جدوجہد اور تبدیلی مشن کو جدید علوم اور ان کے ماہرین کے ساتھ نہ جوڑا اور پارٹی میں اسٹیٹس کو کی نظر نہ آنے والی خطرناک مداخلت پر الرٹ نہ رہے تو خدشات کا گراف بڑھتا جائے گا۔ لاہور کے جس جلسے سے ہوا چلنا شروع ہوئی وہ بڑی خامیوں کے ساتھ، پھر بھی اس لحاظ سے غیر روایتی ثابت ہوا کہ کم از کم عمران نے اک نا مکمل ہی سہی انتخابی مہم کا آغاز گیارہ نکاتی پروگرام سے کیا ، ناچیز کے حساب سے اسے جلد سے جلد 22نکات تک پہنچانا ہوگا۔ ہر شعبے میں تبدیلی کا باقاعدہ فیزوائز روڈ میپ دینا ہوگا۔ آٹھ دس پروپیپل قوانین سازی کا اعلان کرنا ہوگا اور سمجھانا ہوگا کہ عوام ان کے بینی فشری کتنے، کیسے اور کب تک بنیں گے۔ جدید علوم کو گورننس کے ساتھ جوڑنے کے علاوہ ٹیکنالوجی کی اختیاریت زیادہ سے زیادہ کیسے ہوگی؟ خصوصاً بلیک اینڈ وائٹ میں عوام کو بتانا ہوگا کہ آئندہ پانچ سال میں ای گورننس کس کس شعبے میں کتنے فیصد تک ہو جائے گی اور اس سے عوام کی زندگی آسان اور انتظامی امور کیسے اور کتنے شفاف ہو جائیں گے؟ پالیسی سازی کے حوالے سے کم از کم دس بارہ بڑی پالیسیوں کا بتایا جائے کہ کس کس مقصد کے لئے کس کس شعبے کی پالیسی کس ٹائم فریم میں تیار ہو جائے گی۔ ان سے متعلقہ فیصلہ اور قانون سازی کب تک ہوگی۔ اس کا عوام کو کیا کیا فائدہ ہوگا۔ سب سے بڑھ کر واضح کیا جائے کہ تحریک انصاف کے پاس واٹر مینجمنٹ، پاپولیشن کنٹرول سماجی رویے میں تبدیلی برپا کرنے اور خواتین اور بچوں کی ترقی اور نشوونما کے لئے کیا بنیادی منصوبے ہیں؟
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں