آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ ہفتے راقم امریکہ اور کینیڈا میں دوستوں سے ملنے گیا ہوا تھا یہ دوست کاروباری اور بینکنگ سیکٹرسے تعلق رکھتے تھے۔ہمارے ایک پاکستانی بینک کی 50سالہ تقریب میں ان کی خصوصی دعوت پر گیا تھا وہاں بینکنگ پر کم اور پاکستان کی سیاست پر زیادہ بات چیت رہی ۔ہمارے یہ پاکستانی گزشتہ 3چار دہائیوں سے وہاں مقیم ہیں ۔جو پی پی پی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی نیشنلائزیشن پالیسیوں کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے ۔آج یہ سب کے سب کامیاب ترین بزنس مینوں میں شمار ہوتے ہیں ۔وہ موجودہ حکومتوں کی کرپشن پالیسیوں پر ناراض تھے اور اب جب نیب اور عدلیہ کرپٹ عناصر کو پکڑنا چاہتے ہیں تو یہ سب ان اداروں کے خلاف ہوکر اس برائی کو ختم نہیں کرنا چاہتے۔ نواز شریف کو ان کے نااہل رفقایہ باور کرارہے ہیں کہ سرجی تسی ڈٹے رہو تسی شیر ہو ۔اس جھنجھلاہٹ میں ان سے ایسے ایسے بیان دلوارہے ہیں کہ خود اُنکی اپنی پارٹی ہی نہیں شہباز شریف بھی پریشان ہیں۔جو ان کا دفاع کرتے کرتے تھک گئے ہیں خصوصاًوہ بیان جو ان کی سیاسی حماقت ہی کہا جاسکتا ہے اور جسے صرف موجودہ وزیراعظم خاقان عباسی Ownکرتے ہوئےیہ کہہ کر جان چھڑا رہے ہیںکہ یہ انڈیا کی شرارت ہے ۔میاں صاحب کی حب الوطنی کے لئے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔جبکہ خود قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ اس کی

تردید کرتا ہے اور وہ نااہل وزیر اعظم کو پاکستان اور افواج پاکستان کو بدنام کرنے کا مرتکب قرار دیتا ہے مگر میاں صاحبان اپنے بیان پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کے رفقا ء ان کا دفاع کرنے پر مجبور ہیں اور یہ کہہ کرکہ یہی باتیں اُس وقت عمران خان سمیت دیگر سیاسی رہنمابھی کہہ چکے ہیں وہ یہ بھول رہے ہیں کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ پاکستان نے ممبئی بلاسٹ کے لئے دہشت گرد بھجوائے تھے ۔خصوصی طور مسلم لیگ ن کے وزراء باربار قوم کو یہ باور کرارہے ہیں کہ وہ شخص جس نے تنہا امریکہ کے صدر بل کلنٹن کا مقابلہ کیا اور نیو کلیئر دھماکہ کرڈالا ،وہ کیسے غدار ہوسکتا ہے ۔اتفاق سے 16مئی کو ڈاکٹر اے کیو خان صاحب ہماری کے این اکیڈمی ملیر کیمپس میں عبدالقدیر خان آڈیٹوریم کے افتتاح کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے،میں نے ان سے پوچھا اس ایٹمی دھماکہ کا کریڈٹ کس کو جاتا ہے تو انہوں نے بڑے دُکھی دل سے بتایا کہ میں اُس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو باربار ایٹمی دھماکہ کرنے کے لئے درخواست کرتا رہا وہ باربار ٹالتے رہے جب میں نے زیادہ دبائو ڈالا تو انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں اخبار والوں سے رائے طلب کی تو نوائے وقت کے مجید نظامی مرحوم کھڑے ہوگئے اور کہا ہم تو خوشخبری سننے کے منتظر تھے آپ ہم سے رائے پوچھ رہے ہیں ۔پھر بھی میاں صاحب جواب گول کرگئے ۔20مئی کو ڈاکٹر صاحب نے ان کو صاف الفاظ میںخط لکھا کہ اگر آپ نے دھماکے کا اعلان نہیں کیا تو وہ اور ان کے تمام رفقا مستعفی ہوجائیں گے اور پریس کانفرنس میں قوم کو بتادیں گے کہ ہمارے ایٹمی دھماکے کے تمام انتظامات مکمل ہیں مگر وزیراعظم نواز شریف ٹال مٹول کررہے ہیں اور یہ خط ریکارڈ پر ہے، تب جاکر انہوں نے ہمت پکڑی پھر بھی دھماکے سے ایک دن قبل جب کلنٹن نے فون پر ایک پیکیج 8ارب ڈالر امداد کا پیش کیا تو اُس وقت کے فارن منسٹر گوہر ایوب خان 27مئی کو صبح وزیراعظم ہائوس آئے اور 28مئی کا پروگرام پوچھا تو میاں شہباز شریف نے گوہر ایوب کو بتایاکہ کلنٹن صاحب کی میاں نوازشریف سے ٹیلیفون پر بات چیت ہورہی ہے، تب گوہر ایوب نے بتایا جناب دھماکہ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور دوسرے مرحلے میں ہم پہنچ چکے ہیں لہٰذا اب یہ ملتوی نہیں ہوسکتا پھر قوم کو کیا جواب دیا جائے گا، تو مجبور ہوکر میاں صاحب نے فیصلہ تبدیل کرکے دھماکہ کرنے کاحکم جاری رکھا ۔ڈاکٹر صاحب نے مزید بتایا نواز شریف صاحب چاغی بھی نہیں آئے ان تمام ثبوتوں کے کلپ انہوں نے شام کو اسلام آباد واپس پہنچتے ہی مجھے بھجوائے ۔یہ جیو TVکے تھے جس میں اینکر طلعت حسین کے سامنے لائیو فارن منسٹر گوہر ایوب تصدیق کرتے ہوئےاس کا سارا کریڈٹ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہی دے رہے تھے ۔سابق وزیراعظم کے دو چہرے کھل کر سامنے آتے جارہے ہیں۔
جب وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے 2لاکھ بہاریوں کو پنجاب لاکر بسانے کا وعدہ کیا تھا مگر جب وزیراعظم بنے تو صرف 350بہاریوں کا ایک جہاز بنگلہ دیش سے لاکر وعدہ بھلادیا اورجس طرح قوم کی مظلوم بیٹی ڈاکٹرعافیہ جو امریکہ کی قید میں ہے آج تک اُس کی بہن ڈاکٹر فوزیہ سے لانے کا وعدہ کرنے کے باوجود ریمنڈ ڈیوس اور اب کرنل جوزف کے بدلے بھی بات نہیں کی اور راتوں رات اُن کی حکومت نے قاتل کرنل کو چھوڑدیا ۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان کے نامزد وزیراعظم خاقان عباسی امریکہ میں پی آئی اے کے روزویلٹ ہوٹل کا سودا 2ارب ڈالر کے بدلے صرف 600ملین ڈالر میں خاموشی سے کر آئے ہیں ۔اب خود پنجاب کے کالم نویس یک زبان آج ان کے ناقد ہیں وہ اپنی ذات کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ وہ عدلیہ،فوج،نیب،ایف آئی اے کو بھی بدنامی میں آخری درجے تک لے جاسکتے ہیں مگر قدرت نے ہرایک کا وقت مقرر کررکھاہے حالات بتارہے ہیں اُن کاانجام اب قریب آپہنچا ہے۔تعجب ہے وہ 3مرتبہ معزول اور اب نااہل ہونے کے باوجو د اپنے آپ کو شیر ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں مگر اب وہ سیاست کے میدان میں بکری بن چکے ہیں اور یہ کارنامہ بھی ان کے خوشامدی ناعاقبت اندیش رفقا نے ہی دیا ہے ۔کا ش وہ اب بھی ہوش کے ناخن لیں اور مزید غلطیاں نہ دہرائیں ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں