آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پارلیمانی استحقاق کو بریگزٹ کیخلاف استعمال کرنا طاقت کا بے جا استعمال ہوگا

چارلس مورے

ایسا لگتا ہے کہ ہمیں ’’پارلیمانی استحقاق ‘‘ کےخلاف ہونا چاہیے۔ ہم غالباً اس معاملے کو ان چیزوں کے ساتھ الزامات یا پوری طرح چھان بین سے بچنے کیلئے سیاستدانوں کے خیال سے جوڑتے ہیں۔ محاورے کی تاریخ یہ ظاہرکرتی ہے کہ اس کا مطلب الٹ ہوتا ہے۔

پارلیمانی استحقاق کا مطلب ریاست کی خودمختار طاقت سے اپنے منتخب نمائندوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے جو ہمارے مفاد کے لئے ہی ہے ۔

جب پارلیمنٹ کے اراکین پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہیں تو یہ ان کا ’’استحقاق‘‘ ہے۔اس تقریر کے لیے انہیںگرفتار نہیں کیا جاسکتااور نہ ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیاجاسکتا ہے اور نہ ان کے خلاف کسی قسم کی قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے یاحکومت کی جانب سے ان کو کسی قسم خطرہ لاحق نہیں ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ لوگ انتقامی کارروائیوں سے بے خوف ہوکرکسی پر بھی دھاوا بول سکتے ہیں ۔البتہ میڈیا ان کی حرکتوں کو آزادانہ طور پر رپورٹ کرسکتا ہے۔

جب کوئی بھی ایم پی (رکن پارلیمنٹ) کچھ کہنے کے لیے اس استحقاق کا غلط استعمال کرتا ہے جس میں وہ جھوٹ بولنے یاکسی سے انتقام لینے کیلئے کمزور شواہدپیش کرتا ہے تو وہ اپنے معاملات خود خراب کرلیتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2012میں لیبر پارٹی کے ڈپٹی لیڈر ٹام واٹسن نے ہاؤس آف کامنزسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ٹھوس شواہد یہ انکشاف کرتے ہیں کہ طاقتور پیڈوفائل نیٹ ورک کا پارلیمنٹ اورٹین ڈائوننگ اسٹریٹ یعنی وزیراعظم ہائوس سےتعلق ہے۔‘‘ تاہم اس حوالے سےفوری طور پر کوئی ٹھوس شواہد مل نہیں ملے لیکن اس وقت ڈیوڈ کیمرون کی حکومت سخت کشمکش میں مبتلاتھی۔ بعدازاں اس وقت کی وزیر داخلہ تھریسامے نےبچوں کے ساتھ زیادتی کے الزامات کے بارے میں کبھی نہ ختم ہونے والی اورآزادانہ تحقیقات شروع کیں۔ جس کے بعد کئی لوگ ان جھوٹے الزامات کی زد میں آئے جیسے کہ لارڈ بریٹن اور لاڈر جانر جو اپنے اوپر عائد الزامات سے انکار کرتے رہے اور اس کے بعد ان کے ناموں کو کلیئر قرار دے دیا گیا ۔

گزشتہ ہفتے ہاؤس آف کامنز میں کنزرویٹو پارٹی کے ایک ایم پی باب سیلے نے ایک تھنک ٹینک لیگاتم انسٹیٹوٹ کے بانی اور ٹرسٹی کرسٹوفر چینڈلرکیخلاف پارلیمانی استحقاق کا استعمال کیا۔انہوں نے کرسٹوفر چینڈلر پر الزام عائد کیا کہ مناکو سےموجودہ خفیہ فائلز کے مطابق ان کا تعلق روسی انٹیلی جنس سروسز اور منی لانڈرنگ سے ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اہم ذرائع کا تعلق مناکو سے ہے جو خود کو 001ایجنٹ کے نام سے مشہور کرواناچاہتے ہیں۔

لیبر پارٹی کے ایم پیز لائیم برنے، بین براڈشا اور کرس بارینٹ نے فوراً ی سیلے کی حمایت کردی ۔ سیلے نے دعویٰ کیا کہ کرسٹو چینڈلراپنے اثرورسوخ سے خوفزدہ تھے ۔انہوں نےیہ بھی دعویٰ کیا کہ چینڈلر نے روس کے خلاف تحقیقاتی چھ رکنی پارلیمانی کمیٹی کو شواہددینے کی پیشکش کی تھی۔ جبکہ بئیرنے نےبہترین تجویز دی اور وہ کسی نہ کسی طرح چینڈلر کاسیلسبری پوائزن حملے سےتعلق جوڑنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہاں تک کہ اس قبل وہ چینڈلرکے خلاف الزامات عائد کرکےمکرچکے ہیں۔ سیلے محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والی ان دستاویزات پر اپنی دسترس چاہتے ہیں۔

چلینڈلرکا شمار نیوزی لینڈ کے دولت مند شخصیات میں ہوتا ہے اور اب دبئی میں مقیم ہیں وہ اور ان کے بھائی نے اپنے ملک میں ایک چھوٹی سی دکان سے کاروبار شروع کیا تھا اور اچانک ہانگ کانگ ،برازیل، بھارت اور کوریا کے بہت ہی کامیاب سرمایہ دار بن گئے۔ 15برس قبل روس میں بھی ان کا ابھرتا ہوا مارکیٹ تھا۔ وہ روسی کمپنی گازپروم کے بہت بڑے اسٹیک ہولڈر تھے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ’’ترقی‘‘ کا مطلب نہ صرف مالیاتی طور پر مستحکم ہونا نہیں بلکہ سماجی اقدار کو بھی اہمیت دینا ہے۔ انہوں نے افریقی ممالک میں جلدی امراض جیسے نظرانداز ہونے والی بیماریوں سے لڑنے،جدید غلامی کو روکنے اورتعلیمی شعبے اور انٹرپرینورشپ پروگرام کو بہتر بنانےکیلئےکئی پروجیکٹس شروع کیے۔ جب انہوں نے 10قبل برطانیہ میں لیگاتم انسٹیٹوٹ کی بنیاد رکھی تھی اس کا مقصد اس حوالے سے بڑے پیمانے پر خوشحالی لانا تھا۔ ا تنے اہم اور قیمتی عزائم رکھتے ہوئے ان کو سیاسی طبقات میں تقریبا کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

دریں اثنا لیگاتم کو پہلے ہی سے تجارت کا ایک بہت بڑاایکسپرٹ شنکر سنگھم کی خدمات حاصل تھیں جو بھارت کے تعلقات کے حوالے سے کام کررہا تھا۔یورپی یونین کے ریفرنڈم کے بعد ہماری یورپی یونین کی رکنیت کاسب سے برے پہلو میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارے پالیسی ساز ادارےتقریبا کاروبار کرنے کے فن کو بھول چکے ہیں کیونکہ تجارت قومی مسئلہ نہیں بلکہ یورپی یونین کا ایک ’’کارنامہ‘‘ ہے۔ برطانیہ کی عظیم اختراع میں سے ایک، آزادانہ تجارت تقریبا ایک ہنر بن چکی تھی ۔ جبکہ سنگھم اس موضوع کے اصل ایکسپرٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ان چند لوگوں میں سے ایک تھے جن کے پاس بہترین آئیڈیاز تھےکہ بریگزٹ کے بعدکیسے آزادانہ تجارتی پالیسی ترتیب دی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے لیگاتم کی حمایت کے ساتھ ساتھ ان خیالات کو عوام اور وزراء تک پہنچانا شروع کردیا۔

اس سوچ نے مخالفین کو مزید پرجوش کردیا کیونکہ وہ یہ ظاہر کرسکتے تھے کہ غیر ملکی شخصیات ہمارےسیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہی ہیں۔ جب یورپین کمیشن یا یورپین پارلیمنٹ میں ایساکرتی ہے تو وہ فورا اس کی حمایت کرتے ہیں، وہ لوگ سنگھم کو ٹھڈے مار کر نکالنے کے لیے بھی پرامید ہیں۔یورپی یونین سے علیحدگی کے مخالف کے اہم لیڈر براڈ شا نے فوری طور پر چینڈلر کےخلاف تحقیقات کرنے کامطالبہ کردیا۔

مخالفین کے خیال سے ان تمام صورتحال میں سیلے کی آمد ضرور اہم ہوچکی ہیں۔ان کا تعلق انٹیلی جنس گھرانے سے ہے اور پیوٹن کی حکومت کے سخت ناقد ہیں۔ سیلے بھی بریگزٹ کے حامی ہیں۔

مخالفین کسی بھی معاملےپر ان کا استحصال کرسکتے ہیں وہ شاید چینڈلر اور لیگاتم کواٹھا کر باہر پھیکناا چاہتے ہیں۔

ہمیشہ کی طرح ا س قسم کے الزامات کے حوالے سے سچ کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے لیکن عجیب بات ہے کہ سیلے نے ان معاملات کو سرعام کرنے سے قبل کبھی چینڈلر یا لیگاتھم پرالزامات عائد نہیں کیے جیسے کہ اگر وہ ایک صحافی ہوتے تو وہ ان قوانین کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا کرچکےہوتےہیں۔ جب میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کردیا۔

میں چینڈلر کو نہیں جانتا لیکن میں نے ان سے بات کی ہے اور انہوں نے اپنے دعوؤں کا معقول جواز پیش کیاکہ الزامات بےبنیاد اور جھوٹے ہیں۔اس ضمن میں ایک نکتہ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ان پر جومنی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں ۔فرم نے دعویٰ کیا کہ جیسا کہ ان کا نام ان کی کمپنی سوویرن کپیٹل کے مترادف ہےلیکن درحقیقت کسی قسم کے تعلق کا متحمل نہیں ہوسکتے۔ یہ ایک سادہ سی غلطی کی پہچان ہے۔

ایسا اکثر بہت ہی خوددار انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے

لیگاتم کےملازموں کے مطابق چینڈلر کے بارے میں میرا شک یہ ہے کہ وہ سیاست کےداؤ پیج سے لاعلم ہیں ان کا کبھی جدید سیاسی نکتہ نظر رہا ہے یا انہوں نے کبھی بریگزٹ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو۔ اس بات کا امکان تھا کہ جب سنگھم لیگاتم کے ملازم تھے ان کے عقل و فہم کی بہت اہمیت تھی۔ اب انہوں نے انسٹیٹوٹ آف اکنامکس افئیرز میں سیاسی طور پر ایک ہی کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔لیگاتم کے کام کابریگزٹ کے ساتھ قطعی کوئی تعلق نہیں ہے۔بےچارہ چینڈلر بامشکل ہی اپنی دولت اچھے کاموں میں صرف کرنا چاہتاتھاچا لیکن انہوں نے خود کوسیاسی جنگ میں پھنسالیا۔

مخالفین کیلئے ایسا معاملہ نہیں ہےبریگزٹ کے بارے میں ہیڈلائن لگانے کیلئے اس عظیم لڑائی میں ’’پیوٹن‘‘،’’پلاٹ‘‘ اور ’’ہیج فنڈ‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ (حالانکہ چینڈلر نے کبھی ان سے کسی بھی کو نہیں اپنایا) تاکہ بریگزٹ کے لوگوں کے فیصلوں کو رد کیا جاسکے۔ نکمے چینڈلرکو ضرور یہ ایک چھوٹی سے قربانی لگتی ہوگی۔

لیکن میں اختیارات کے غلط استعمال سے سخت پریشان ہوتا ہوں۔ یہ ایسامعاملہ ہے کہ اگر پارلیمنٹ کی اہم روسی تحقیقات کو متاثرکرتے ہوئے کسی بھی طریقے سے بریگزٹ جنگ میں لڑنے کے لیے تعینات کیاجاتا ہے تو ایم پیز اس کودرست گردانتے ہیں۔لیکن اس کا سراسر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں