آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالم اسلام اس وقت جن مسائل اور مصائب کا شکار ہے ان کا بنیادی سبب انتہاپسندی ، دہشت گردی ، فرقہ وارانہ تشدد اور اسلامی عرب ممالک میں بیرونی مداخلتوں کو سمجھا جا رہا ہے ،اور یہی وجہ ہے کہ روز و شب عالم اسلام کے مستحکم ممالک کمزور ہو رہے ہیں اور انتہا پسنداور دہشت گرد گروہ مستحکم اسلامی ممالک پر حملہ آور ہیں۔ عالم اسلام کی وحدت اور اتحاد کا مرکز مقدسات اسلامیہ ہیں اور حرمین الشریفین اور الاقصیٰ اسلامی وحدت اور اخوت کی بنیاد ہیں۔ گزشتہ تین سالوں سے پاکستان علماکونسل کی یہ کوشش رہی ہے کہ عالم اسلام کے تمام طبقات میں بالعموم اور علما ، مفکرین اور دانشوروں کے طبقے میں بالخصوص اس بات کو عام کیا جائے کہ عالم اسلام کے مسائل کے حل کیلئے اور اسلامی مقدسات کے تحفظ بقاء اور سلامتی کیلئے امت میں اختلافی مسائل کی بجائے وحدت اور اتحاد کو فروغ دیا جائے ۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مسلم ممالک کو کمزور کرنے کیلئے فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ تشدد کا جو راستہ اختیار کیا گیا ہے اس نے شام ، عراق اور یمن کو ہی تباہ نہیں کیا بلکہ عالم اسلام کے ان ممالک کو جو بہت مستحکم اور طاقتور تھے کو بھی کمزور کیا ہے ۔ ایک طرف فلسطین اور الاقصیٰ کا معاملہ ہے جس کے خلاف اسرائیل اور امریکہ بھرپور جارحیت کر رہے ہیں اور کوئی

پرسان حال نہیں ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کی وحدت اور اتحاد کے مرکز حرمین الشریفین پر مسلسل حملے کئےجا رہے ہیں اور ارض الحرمین الشریفین کو غیر محفوظ کرنے کیلئے عالمی قوتیں حوثی باغیوں کی سرپرستی کر رہی ہیں۔ مملکت سعودی عرب جو عالم اسلام کی مضبوط ترین قوت اور مسلمانوں کے مقدسات کا مرکز ہے وہ گزشتہ دو سالوں سے حوثی باغیوں کے حملوں کی زد میں ہے ۔حتیٰ کہ رمضان المبارک کے مقدس ایام میں گزشتہ دو سالوں کے دوران چار مرتبہ سے زائد میزائل حملے اور خود کش حملے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر کئے جا چکے ہیں۔
اسلامی سربراہی کانفرنس ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بے بس نظر آتی ہیں ، پاکستان علماء کونسل نے انتہاء پسندی ، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف اور ارض الحرمین الشریفین کے دفاع ،سلامتی اور استحکام کیلئے اور الاقصیٰ کی آزادی اور بڑھتے ہوئے اسرائیلی مظالم کے خلاف 20 رمضان المبارک سے 30 رمضان المبارک تک ’’عشرہ تحفظ ارض الحرمین الشریفین والاقصیٰ ‘‘ منانے کا فیصلہ کیا ، جس کا بنیادی مقصد پوری امت کی طرف سے متفقہ طور پر الاقصیٰ اور حرمین الشریفین کی دشمن قوتوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ مسلم امۃ کسی بھی صورت اپنے مقدسات کے دفاع اور سلامتی کو نہیں بھول سکتی اور اسی طرح فلسطین سے لے کر کشمیر تک اور شام سے لے کر یمن تک مظلوم مسلمانوں کو بھی پیغام دینا ہے کہ آپ تنہا نہیں ہیں ، پوری مسلم امۃ تمام تر کوتاہیوں کے باوجود آپ کے ساتھ ہے اور ان شاء اللہ وہ دن قریب آ رہا ہے جب مظلوم کشمیریوں ، فلسطینیوں اور شامیوں کو ان کا حق ملے گا اور عالم اسلام میں انتشار پھیلانے والی قوتیں ناکام ہوں گی اور اتفاق اور اتحاد سے مسلم امۃ اپنے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو گی ۔
یہ بات حقیقت ہے اور اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مسلم امۃ کے مسائل میں شب و روز جو اضافہ ہو رہا ہے اس کے اسباب میں سے بنیادی سبب عرب اسلامی ممالک میں بیرونی مداخلت سے قائم ہونے والی وہ ملیشیائیں ، گروہ اور جماعتیں ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف انتشار پھیلانا اور مسلم امۃ کو کمزور کرنا ہے ۔ ان ملیشیائوں نے نفرتوں کو پھیلانے میں جو کردار ادا کیا ہے اور جس انداز سے تشدد کا راستہ اختیار کر کے عالم اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے اس کی مثال تاریخ کے اوراق میں خوارج اور منافقین کے علاوہ کہیں نہیں ملتی ۔
مسلم امۃ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم تحفظ ارض الحرمین الشریفین والاقصیٰ کے طور پر منا تی ہے اور یہ ایک درست سمت قدم ہے جس کا بنیادی مقصد حرمین الشریفین اور الاقصیٰ کے ساتھ نہ صرف اپنی محبت اور یکجہتی کا اظہار ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو یہ پیغام بھی دینا ہے کہ مسلم امہ فلسطین ، کشمیر اور عالم اسلام کے دیگر مسائل سے غافل نہیں ہے ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عالم اسلام کے مسائل کی وجہ آپس کی نا اتفاقی اور بیرونی مداخلت ہے ۔ آج قطر اور دیگر عرب ممالک کے درمیان جو صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور شب و روز جو انتشار بڑھ رہا ہے اس کا سبب عرب ممالک اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج اور اس کے بعد قطر اور عرب ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعہ میں قطر کا ایران کی طرف رحجان ہے جو کہ بعض عرب ممالک کو قبول نہیں ہے ۔ اسی طرح فلسطین کے مسئلہ پر کچھ اسلامی ممالک کا دہرا کردار بھی سوالیہ نشان پیدا کرتا ہے اور فلسطین دشمن قوتوں کو مضبوط کرتا ہے ۔ الحمدللہ پاکستان اور سعودی عرب دو اسلامی ممالک میں سے مستحکم ملک ہیں جن کا اسرائیل کے ساتھ کوئی تجارتی ، سفارتی رابطہ نہیں ہے اور جنہوں نے ہمیشہ فلسطینیوں کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ چند ماہ قبل فلسطین کے صدر سے مصر میں جامعہ الازہر کی طرف سے بلائی جانے والی عالمی القدس کانفرنس میں ایک ملاقات میں واضح طور پر یہ بات سننے کو ملی کہ سعودی عرب کے فرما نروا شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ان کے ولی عہد امیر محمد بن سلمان نے ان کو یقین دلایا ہے کہ مملکت سعودی عرب کوئی بھی فیصلہ فلسطین کی حکومت اور عوام کی مرضی اور منشاء کے خلاف نہیں کرے گی اور پھر دو ماہ بعد عرب سربراہ کانفرنس کو جس طرح القدس کا نام دیا گیا اور سعودی عرب کی طرف سے کروڑوں ڈالر کی امداد اہل فلسطین کیلئے دی گئی ا س سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر سعودی عرب کا مؤقف نہ ہی تبدیل ہوا ہے اور نہ ہی کسی تبدیلی کی توقع کی جانی چاہئے۔
عالم اسلام اس وقت مصائب اور مسائل کا شکار ہے اور ان مصائب اور مسائل سے نکلنے کا راستہ بے بنیاد پروپیگنڈہ نہیں بلکہ سر جوڑ کر بیٹھ کر عملی اقدامات کرنا ہے اور ان عملی اقدامات کیلئے سب سے پہلا قدم باہمی اتحاد سے مسائل کے حل کی طرف توجہ کرنا ہوگا۔ سعودی عرب کے خلاف مسلسل حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملے اور فلسطینی عوام پر اسرائیلی جارحیت اور القدس میں امریکی سفارتخانے کا منتقل کیا جانا ، یہ تمام چیزیں مسلم امہ کو دعوت دیتی ہیں کہ سرجوڑ کر ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جس سے مسلمانوں کے مقدسات محفوظ ہوں ۔ انتہاء پسندی اور دہشت گردی پھیلانے والی تنظیموںا ور تحریکوں کا سد باب کیا جائے ، نوجوان نسل کو اسلام اور جہاد کے نام پر دہشت گردی کی طرف راغب کرنے والی قوتوں کے سامنے باہمی اتحاد سے مقابلہ کرنے کیلئے کھڑا کیا جائے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ وہ قوتیں جو آج شام ، عراق ، یمن میں تباہی پھیلا چکی ہیں وہ مسلمانوں کے مقدسات کے امن و امان سے کھیلنے سے گریز نہیں کریں گی اور سعودی عرب پر مسلسل میزائل حملوں کا مقصد صرف ایک ہی ہے اور وہ مسلمانوں کے مقدسات کے امن سے کھیلنا ہے ، مسلم امہ کو اپنے مقدسات کے تحفظ اور دفاع کیلئے متحد ہونا ہو گا ۔ یہ بات درست ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر جتنی مرتبہ بھی حملے کی کوشش کی گئی سعودی عرب کے سلامتی کے اداروں نے کامیابی کے ساتھ انہیں ناکام بنایا ہے ، لیکن آخر کیسے ممکن ہے کہ ایک چھوٹا سا گروہ گزشتہ تین سال سے مسلسل مسلمانوں کے مرکز پر حملہ آور ہو اور اس کی جارحیت ختم نہ ہو سکے ۔ یہ عمل بھی واضح کرتا ہے کہ مسئلہ حوثی باغیوں کا نہیں ان کی سرپرستی کرنے والوں کا ہے اور مسلم امہ کو تقسیم کرنے اور اسلامی ممالک کو تباہی کے دہانے پر لانے والوں کا مقابلہ تنہا نہیں متحد ہو کر سب کو مل کر کرنا ہو گا اور اس کی عملی اور بہترین مثال یوم تحفظ ارض الحرمین الشریفین والاقصیٰ ہے جس کو پوری دنیا کے اندر مسلمان اپنے اپنے انداز سے مناتے ہیں اور مسلمانوں کے مقدسات پر حملہ آور قوتوں کو پیغام دیتے ہیں کہ ہم کمزور سہی لیکن ہم اپنے مقدسات سے غافل نہیں ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں