آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
قصہ الیکشن کمیشن کے اخراجات کا،1970 سے 2018تک

دوہزار اٹھارہ کا انتخابی ڈنکا بجنے کے بعد سیاسی جماعتیںاور امیدوار خود کو مضبوط و مقبول ثابت کرنے کی تیاریاں کرتے نظر آرہے ہیں۔

انتخابی اخراجات کے حوالے سے اگر کہا جائے کہ یہ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کےلیے سستا سودا نہیں تو دوسری طرف سرکار کو بھی اس عمل کو کامیابی سے مکمل کرنے کےلیے الیکشن کمیشن کے ذریعے بھاری سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1970 سےاب تک ہونے والے جتنے بھی عام انتخابات ہو ئے وہ ماضی کے مقابلے میں ہمیشہ بھاری ہوتے ہیں،جیسا کہ کہا جارہا ہے کہ اگلے عام انتخابات ملکی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات ہوں گے ۔

الیکشن کمیشن کے مطابق عام انتخابات کے انعقاد پر 20 ارب روپے سے زائد لاگت آنے کا امکان ہے جس میں بیلٹ پیپرز، سیکیورٹی، انتخابی عملے کا معاوضہ، پولنگ مٹیریل، ٹرانسپورٹیشن اور دیگر اخراجات شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ بیلٹ پیپرز کے کاغذ اور چھپائی پر ڈھائی ارب سے زائد اخراجات کا تخمینہ ہے جب کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی پر بھی ایک ارب سے زائد اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

عام انتخابات میں سیکیورٹی کے لیے ایک ارب اور پولنگ مٹیریل پر ایک ارب سے زائد اخراجات آنے کا امکان ہے۔ انتخابی عملے کو معاوضے کی مد میں 6 سے 7 ارب کے اخراجات کا تخمینہ ہے جب کہ ٹرانسپورٹیشن کی مد میں ایک ارب سے زائد اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

دوسر ی طرف امیدواروں کے انتخابی اخراجات کی مد میں اضافہ کیا گیا  ہے۔قومی اسمبلی کے امیدوار کیلئے انتخابی اخراجات کی حد 15 لاکھ روپے سے بڑھا کر 40 لاکھ روپے ،صوبائی اسمبلی کے امیدوار کیلئے انتخابی اخراجات 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہےجبکہ  قومی اسمبلی کے امیدوار کے لیے کاغذات نامزدگی کی فیس چار ہزار روپے سے بڑھا کر 30 ہزار صوبائی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی فیس دو ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار کردی گئی ہے۔

اسی طر ح 1970 سے 2013 تک گزشتہ عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کے اخراجات کچھ یوں رہے۔الیکشن1970فوجی حکومت کے زیرانتظام انیس سو ستر میں ملکی تاریخ کے پہلے عام انتخاب منعقد ہوئے ، اس موقع پر مجموعی طور پر حکومت نے  الیکشن کمیشن کے ذریعے انتخابی  انتظامات پر 5کروڑ صرف کئے تھے۔

انتخاب قومی اور صوبائی دومختلف دنوں میں منعقد ہوئے،الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 56211220 تھی جس میں مشرقی پاکستان میں 31211220 اورمغربی پاکستان میں 25730280رجسٹرڈ تھے۔ملک بھر میں قومی اسمبلی کی300 نشستوں کےلیے 33004065ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا  تھا۔۔انتخابی عمل کےلیے500ریٹرنگ  افسران ،30000 پریزائڈنگ افسران اور تین لاکھ  پولنگ افسران کا تقرر کیے گئے۔

تیرہ کروڑ چھپن لاکھ  بیلٹ پیپر چھاپے گئے۔16ہزار پولنگ اسٹیشن مشرقی اور 14ہزار پولنگ اسٹیشن مغربی پاکستان میں قائم کیے گئے تھے۔انتخاب1977مارچ 1977 میں پہلی بارملک بھر میں جمہوری حکومت کے زیرانتظام دوسرے عام انتخاب منعقد ہوئے۔انتخاب قومی اور صوبائی دومختلف دنوں میں منعقد ہوئے ۔قومی اسمبلی کی 181نشستوں پر امیدوار مدمقابل تھے ۔جس میں الیکشن کمیشن کے مجموعی اخراجات 10کروڑ روپے سے زائد ہوئے۔الیکشن1985ملک کے تیسرے انتخابات فوجی حکومت کی زیرنگرانی غیرجماعتی بنیاد پر منعقد ہوئے۔

فروری 1985 میں ہونے انتخابات قومی اورصوبائی اسمبلی کے دو مختلف دنوں میں ہوئے۔قومی اسمبلی کی 207 نشستوں پر ہونے والے اس انتخاب میں الیکشن کمیشن کے اخراجات بڑھ کر16کروڑ83لاکھ 78ہزار ریکارڈ کیا گیا۔ اس موقع پر امیدواروں کے انتخابی اخراجات  کی مد میں بھی اضافہ کیا گیا تھاجس کے مطابق قومی اسمبلی کے انتخابی اخراجات کی حد 40ہزار اور صوبائی کےلیے25ہزار مقرر کی گئی۔زرضمانت قومی اسمبلی کےلیے 1000 اور صوبائی کےلیے500روپے  ناقابل واپسی مقرر کیا گیا۔

کاغذات نامزدگی فیس قومی اسمبلی ایک ہزار صوبائی کےلیےپانچ سو روپے مقرر کی گئی تھی۔  الیکشن1988نومبر1988 میں ملک کو دوبارہ جمہوری ڈگر پر چلانے کےلیےجماعتی بنیادوں پر چوتھے عام انتخاب قومی اور صوبائی کے دو مختلف دنوں میں منعقد ہوئے۔قومی اسمبلی کی 207 نشستوں کے انتخاب پر الیکشن کمیشن کے اخراجات 31کروڑ 30لاکھ57ہزارروپے صرف ہوئے۔

اس موقع پر قومی اسمبلی کے لیے انتخابی اخراجات40ہزار سے بڑھا کر 5لاکھ اور صوبائی اسمبلی 25ہزار سے بڑھا کرتین لاکھ کردی گئی۔قومی اسمبلی کےلیے کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کرائی جانے والی رقم ایک ہزار سے بڑھا کر چارہزار اور صوبائی اسمبلی اسمبلی کےلیے کاغذات نامزدگی کی رقم 500سے بڑھا کر 2ہزار کردی گئی۔

  الیکشن1990اکتوبر1990 میں نگران حکومت نے پانچویں عام انتخاب منعقد کروائے۔چار کروڑ 86لاکھ سے زیادہ ووٹرز نے 217قومی اسمبلی کے نمائندوں کا انتخاب کیا ۔صوبائی اسمبلی کے انتخاب علیحدہ دن طے تھا ۔اس موقع پر الیکشن کمیشن کے اخراجات36کروڑ 34لاکھ64ہزارتک پہنچ گئے تھے۔الیکشن1993اکتوبر1993 میں نگران حکومت نے چھٹے عام انتخاب منعقد کروائے۔ صوبائی اسمبلی کے انتخاب علیحدہ دن طے تھا ۔قومی اسمبلی کی 217انشستوں پر ہونے والے انتخابی عمل کے موقع پرالیکشن کمیشن  کے اخراجات40کروڑ75لاکھ 62ہزار  تک پہنچ گئے تھے۔

الیکشن1997نگران حکومت کے زیرانتظام ساتویں عام انتخاب منعقد ہوئے ۔پہلا موقع  تھا جب قومی اورصوبائی اسمبلیوں کے انتخاب ایک ہی روز ہوئے۔قومی اسمبلی کی 217انشستوں پر ہونے والے انتخابات کے موقع پرپرکمیشن نے انتخابی اخراجات75کروڑ 25لاکھ 3ہزار خرچ کیے تھے۔۔الیکشن 2002 فوجی حکومت کے زیرنگرانی آٹھویں عام انتخابات منعقد ہوئے۔قومی اسمبلی کی 272 اورصوبائی اسمبلیوں 577نشستوں پر ہونے والے ایک ہی دن کے  انتخاب میں الیکشن کمیشن  نے ایک ارب 45کروڑ39لاکھ30ہزار773روپے خرچ کیے۔

 الیکشن2008نگران حکومت کے زیرانتظام فروری2008 میں ملک میں نئے انتخابات عمل میں آئے، قومی اسمبلی کی 272 اورصوبائی اسمبلیوں 577نشستوں پر ہونے والے ایک ہی دن کے  انتخاب میں الیکشن کمیشن کے اخراجات مزید بڑھے۔اس موقع پرا لیکشن کمیشن  کا خرچ تین ارب سے زائد ریکارڈکیا گیا تھا۔

الیکشن2013نگران حکومت کے زیرنگرانی ملک میں دسویں عام انتخابات منعقد ہوئے ، قومی اسمبلی کی 272 اورصوبائی اسمبلیوں 577نشستوں پر ہونے والے ایک ہی دن کے  انتخاب میں الیکشن کمیشن کے اخراجات مزید بڑھےاس موقع پر پانچ ارب نوے کروڑ خرچ ہوئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں