• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لوکی کا جوس طبی اعتبار سے خطرناک یامفید۔۔۔۔۔!

گرمی کے مارے افراد گرمی کے توڑ کیلئے کچھ نہ کچھ اس کا توڑ کرتے ہی رہتے ہیں ، ہلکی اور تازہ غذا کا استعمال کرتے ہیں، سبزی اور پھلوں کے جوس کے استعمال کے علاوہ متعددجتن کرتے ہیں جس کا مقصد گرمی سے محفوظ رہنا یا اسے دوربھگانا ہوتا ہے۔


موسم گرما میں استعمال ہونے والی ایک معروف سبزی لوکی بھی ہے جس کےمتعدد طبی فوائد ہیں،خاص طور پر اس کے جوس کا استعمال نہ صرف وزن کو کم کرنے میںمدد گار ہوتا ہے بلکہ اس کا کولنگ ایجنٹ جسم کے زہریلے اور فاضل مادے کے خاتمے کا بھی باعث ہوتا ہے لیکن کیا آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ لوکی کے جوس کا استعمال بعض اوقات خطرناک بھی ثابت ہواہے؟توکیا ہم اب تک لوکی کے استعمال کے فوائد کے بارے میں غلط فہمی کا شکار تھے یا لوکی کے استعمال سے سامنے آنے والے نقصانات سچ ہیں۔

اس حوالے سے ایک نئی تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ لوکی کے جوس کے استعمال کے بعد کچھ لوگوں نے پیٹ میں شدیددرد کی شکایت کی اور بعض لوگوں کو قے کی شکایت ہوئی اور حیران کن طور پر کچھ لوگوں کی لوکی کاجوس پینے سے موت بھی واقع ہو ئی۔

اس نئی تحقیق کے سامنے آنے کےبعد ایک ماہر غذایات ڈاکٹر روپالی دتہ کا کہنا ہے کہ اب تک یہ بات درست طور پر ثابت نہیں ہو سکی ہے کہ لوکی کے جوس کا استعمال خطرناک ہے یا نہیں۔جوس کے استعمال سے واقع ہونے والی اموات، اور دیگر شکایات کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ لوکی مختلف ادویہ کےچھڑکائو سے زہر آلود ہو گئی ہو یاانجکشن کے ذریعے اسے لگایا جانے والا کیمیکل نقصان کا باعث بنا ہو،کیوں کہ ان ہی ادویہ کے استعمال کے باعث لوکی یا کسی بھی سبزی ،فروٹ میں کچھ ایسے مرکبات بن سکتے ہیں جو نقصان کا باعث ہوں جس میں اسے استعمال کرنے والاالرجی کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔

ماہر غذایات کے مطابق ایسی لوکی جس میں ٹائٹرا سائیکلک،ٹرائٹرپین کی مقدار موجود ہو اور اس کے باعث تلخ ہو گئی ہو ایسی لوکی کا جوس انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور ایسی لوکی کا زیادہ مقدار میں استعمال موت کا بھی باعث بن سکتا ہے۔

ایک اور ماہر غذایات ڈاکٹر شلپا اروڑا اس صورت حال پرکہتی ہیں کہ لوکی یا دیگر سبزیوں کا جوس غذائیت سے بھر پو ر ہوتا ہے البتہ ایسی سبزی خواہ وہ لوکی ہو یا کریلا اس کا کچھ حصہ کڑوایا تلخ ہووہ جسم میں خرابی پیدا کرسکتا ہے اور انتڑیوں میںجلن اورمروڑ پیدا کر سکتا ہے اور نتیجتاً کوئی بڑانقصان سامنے آئے جو موت کی صورت بھی ہو سکتی ہے۔

ایسی صورت حال سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ایسی لوکی یا سبزبیوں کا استعمال کیا جائے جو نامیاتی ہو اور موسم کی سبزی ہو اور اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ لوکی یا سبزی کا وہ حصہ جو کڑوا اور تلخ ہو اسے علیحدہ کردیا جائے۔

ماہرغذایات ڈاکٹر سنگیتا کھنہ اس حوالے سے کہتی ہیں کہ لوکی کا جوس بہت معمولی سا زہررکھتا ہے تاہم یہ مقدار اتنی زیادہ نہیں ہو تی کہ اس سے کسی قسم کی سنجیدہ پیچیدگیاں سامنے آئیں البتہ میں سمجھتی ہوں کہ وزن کم کرنے کیلئے لوکی کے جوس کا استعمال فضول مشق ہے،یہ ایک کولنگ ایجنٹ ہے اسی لئے لوکی کا زیادہ استعمال گرمیوں میں کیا جاتا ہے۔

ماہرین کی رائے سے یہ بات ثابت ہو تی ہے کہ کڑوی یا تلخ لوکی کا جوس خطرناک ہے جس میںایسے اجزاء پیدا ہو جاتے ہیں جو انسانی جسم کےلئے نقصانات کا باعث بنتے ہیں اور جسے معدہ ،آنتیں یا جسم قبول نہیں کرتا،اس لئے ضروری ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ استعمال کرنے کیلئے نامیاتی لوکی یا سبزی کا استعمال کیا جائے اور اس میں دوسری کسی سبزی کا جوس ملاکر استعمال کیا جائے ۔

لوکی طبی اعتبار سے فوائد کی حامل ہے اگر خریدتے وقت اس بات کو یقینی بنایا جائےکہ لوکی یا سبزی نامیاتی ہے اور ہم بلکل درست چیز خرید رہے ہیں

تازہ ترین