آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آئیےآج عبدالسلام ، رفیق الدین احمد ، عبدالبرکات اور عبدالجبار کا تذکرہ کرتے ہیں ، جن کی وجہ سے ہر سال 21 فروری کو مادری زبان کا عالمی دن منایا جاتاہے۔ یہ وہ لوگ ہیں ، جنہیں آج سے64 سال پہلے 21 فروری 1952 ء میں ڈھاکا ہائی کورٹ کے قریب سیکورٹی فورسزنے فائرنگ کرکے شہید کر دیاتھا۔یہ اس مظاہرے میں شامل تھے ، جو یونیورسٹی آف ڈھاکا ، جگن ناتھ یونیورسٹی اور ڈھاکا میڈیکل کالج کے طلبہ کی طرف سے بنگالی کوپاکستان کی دوسری قومی زبان بنانے کےلیے کیا جا رہا تھا ۔ سلام ، رفیق ، برکات اور جبار سمیت متعدد طلبہ شہید و زخمی ہو گئےتھے۔مادری زبان یا ’’ ماء بولی ‘‘ کا عالمی دن اس سال بھی پاکستان سمیت پوری دنیا میں21 فروری کو منایاجا رہاہے ۔ جس طرح محنت کشوں کا عالمی دن شکاگو ( امریکا ) میں 1886 میں مظاہرہ کرنےوالےمحنت کشوں پر فائرنگ کے افسوس ناک واقعہ کی یاد دلاتا ہے ، اسی طرح ماء بولی کے عالمی دن کی نسبت بھی ایک خونریز واقعہ سےہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ شکاگو میں بھی4 مزدور قتل ہوئےتھےاور ڈھاکا میں بھی4 طلبہ کو زندگی سے ہاتھ دھوناپڑاتھا۔ تاریخ میں قتل عام کے بھیانک اور لرزہ خیز واقعات ہوئے ہیں لیکن مذکورہ دونوں واقعات نے انسانوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور تہذیبوں کی بقاء کی جدوجہد کو تاریخ میں ایک نیا رخ دیا ۔ جس طرح یکم مئی کا

دن امریکا کی مزدور دشمنی اور سامراجی کردار کی تاریخی علامت بن گیا ہے ، اس طرح 21 فروری کا دن بھی پاکستان کے بارے میں ایک ایسا تاثر پیدا کرتا ہے ، جو ناقابل فخرہے ۔
پاکستان میںمقامی زبانوںکےلیےآج بھی وہی صورت حال ہے ، جو 1952ء میں تھی ۔ اگر یہ کہا جائےکہ1952 سے بھی بدتر صورت حال ہے تو غلط نہ ہو گا کیونکہ پاکستان میں بولی جانےوالی تقریباً ایک سو زبانوں یا بولیوں میں سے 20زبانیں ایسی ہیں ، جو معدوم ہونےکے خطرات سے دوچار ہو گئی ہیں اور انہیں ان زبانوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے ، جن کے بولنے والوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے ۔ ان میں بدیشی ، باگڑی ، بروشاسکی ، دڑی ، دمیلی ، جگدالی ، شینا ، سندھی بھیل ، لاسی ، سانسی ، ساوی اور دیگر زبانیں شامل ہیں ۔ پاکستان کی بڑی زبانوں پنجابی ، پشتو ، سرائیکی ، سندھی ، بلوچی ، براہوی ، ہندکو ، کشمیری ، گلگتی ، بلتی اور دیگر زبانوںمیں بھی اپنی بقاء کی صلاحیت تیزی سے گھٹتی جا رہی ہے کیونکہ بنگالی کی طرح ان زبانوں کی ترویج اور ترقی کو بھی ’’ ایک زبان ایک قوم ‘‘ کے نظریہ سے متصادم قرار دیا گیا۔ جو قومی سوال1947ء میں پیدا ہوا تھا ، وہ سوال آج بھی جوں کا توں موجود ہے ۔ اس سوال کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی اور یہ بات انتہائی افسوس ناک ہے ۔
21 فروری کا دن لسانی اور ثقافتی تنوع اور کثیر اللسانیت کے تصورات کو فروغ دینے اور اس ضمن میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنےکےلیے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ زبانیں انسان ذات کا سرمایہ ہیں ۔ زیادہ زبانیں بولنے والا زیادہ خوبصورت شخصیت کا مالک ہوتا ہے ۔ کثیر اللسانی معاشروں میں زیادہ ابلاغ اور وسیع تر ہم آہنگی ہوتی ہے ۔ زبان کی بنیاد پر کسی سے نفرت نہیں کی جا سکتی ۔ تمام زبانوں کی ترویج اور ترقی کےلیے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تو پھر کسی زبان کے معدوم ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔21 فروری منانے کا یہ بھی مقصد ہے کہ کوئی زبان برتر یا کم تر نہیں ہوتی ہے اور زبان کی بنیاد پر کسی کو بالادستی حاصل نہیں ہوتی یا کوئی زیردست نہیں ہوتا۔21 فروری کا دن ہر ماء بولی سے محبت کا درس دیتا ہے ۔ زبان کا کوئی مسلک یا مذہب نہیں ہوتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کسی زبان کو مرنا نہیں چاہیے۔زبان توکیا، الفاظ کوبھی موت نہیںآنی چاہیے۔ یہ شاید 1950 وء کے عشرے کی بات ہے ۔ امریکا کے قدیم ریڈ انڈین قبیلے کی ایک زبان کا آخری آدمی بھی مرجاتاہے ۔ مرنےسےپہلے وہ اپنی زبان میں کچھ باتیں کرتاہے ، جو ریکارڈ کر لی جاتی ہیں ۔ یہ باتیں کرتے ہوئے کبھی وہ ہنستا ہے ، کبھی وہ روتا ہے ۔ اب کسی کو بھی نہیں پتہ کہ اس نے کیا کہا ۔ اس کرب نے امریکا کے کئی دانشوروں اور تخلیق کاروں کو ناول تحریر کرنے اور فلمیں بنانے پر مجبور کیا ، جن میں ایک زبان کی موت کے نوحےتھے۔ زبانوں اور الفاظ کی موت کا نوحہ انسانوں کی موت سے زیادہ درد ناک ہوتاہے۔ 21فروری اس بات کا احساس دلاتا ہے ۔ اب وقت آگیاہے کہ پاکستان میں ہر زبان کی ترویج اور ترقی کےلیے کام کیاجائے۔ پاکستان کی بڑی زبانوں کو قومی زبانیں تسلیم کرلیا جائے اور ان کے اکثریتی علاقوں میں انہیں سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے ، جیسا کہ دنیا کے اکثر ممالک میں ہوا ہے ۔ بھارت میں 22 قومی اور سرکاری زبانیں ہیں ۔ سندھ اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی بھی پاکستان کی بڑی زبانوں کو قومی زبانیں قرار دینےکےلیے قرار دادیں منظور کر چکی ہیں ۔ پاکستان کی تمام زبانوں کی ان کے متعلقہ علاقوں میں کم از کم پرائمری تک تعلیم دی جائے اور مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے ہر بچےکے حق کو تسلیم کیا جائے ۔ آج ہمارے حکمراں بنگلہ دیش جا کر ڈھاکا میڈیکل کالج کے سامنے شہید مینار پر حاضری دیتے ہیں اور پھول چڑھاتے ہیں لیکن انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ سلام ، رفیق ، برکات اور جبار نے قربانی کیوں دی تھی ۔ پاکستان کی موجودہ جمہوری حکومت کو ’’ ایک قوم کئی زبانیں ‘‘ کے نظریہ پر کام کرتے ہوئے 21فروری کے دن یہ عہد کرناچاہیے کہ قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کےلیے وہ تمام زبانوں کی ترقی اور ترویج کےلیے اقدامات کرے گی ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں