آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لو جی طیفا آگیا!

پاکستانی فلمی صنعت سے وابستہ کئی فنکاروں نے اپنے فن کے ذریعے سے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، اگر پچھلے ستر برسوں کے دوران اپنا نام اور مقام بنانے کے حوالے سے فنکاروں کا ذکر کیا جائے تو ایک طویل فہرست بنتی دکھائی دیتی ہے۔ ان فنکاروں میں گلوکار، موسیقار اور اداکار شامل ہیں۔ اس فہرست میں نازیہ حسن، محمد علی، سلمیٰ آغا، نصرت فتح علی خان، راحت فتح علی خان، محسن حسن خان، فواد خان، ماہرہ خان اور علی ظفر قابل ذکر ہیں۔ اس حوالے سے یہ پہلو اہم ہے کہ بیرون ملک خاص طور پر بھارت کی فلمی صنعت میں پرفارم کرنا پاکستانی فنکاروں کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ بھارتی سرزمین پر نہ صرف فنکاروں کو اپنی صلاحیتوں کو منوانا ہوتا ہے بلکہ ہر قدم پر اس بات کا خصوصی دھیان بھی رکھنا ہوتا ہے کہ کہیں کسی قدم سے ملک کی نیک نامی پر کوئی آنچ نہ آجائے۔ حالیہ برسوں کے دوران بالی ووڈ میں پرفارم کرنے والے تمام فنکاروں نے ان امور کا خصوصاً خیال رکھا اور اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے بالی ووڈ کے ناقدین کو خاصا متاثر کیا۔ 

ان فنکاروں کی فہرست میں سے اگر علی ظفر کا ذکر کیا جائے تو اس ہونہار اور قابل فنکار نے اپنی اداکاری، گلوکاری اور اپنی شخصیت کے اثرات سے پاکستان کا مثبت امیج بالی ووڈ میں اجاگر کیا۔علی ظفر کا بالی ووڈ میں اداکاری کا سفر نہایت کامیاب رہا۔ علی ظفر نے بالی ووڈ میں اپنی کامیابی کا آغاز 2010میں ریلیز ہونے والی فلم تیرے بن لادن سے کیا۔ علی کی اداکاری کو بہت زیادہ سراہا گیا۔ علی ظفر کو فلم فئیر ایوارڈز میں بیسٹ ڈیبیوٹ میل ایکٹر کے طور پر نامزد بھی کیا گیا۔ 2011میں علی نے ادیتیہ چوپڑا کی پروڈکشن میں بننے والی فلم میرے برادر کی دلہن میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ فلم میں عمران خان اور کترینہ کیف نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ فلم کی کہانی اور اداکاری کو خاصی پذیرائی ملی۔ 2012 میں علی ظفر نے فلم لندن، پیرس اور نیویارک میں اداکارہ ادیتی رائو ہیدری کے مقابل مرکزی کردار ادا کیا۔ فلم میں علی ظفر نے گلوکاری کے جوہر بھی دکھائے۔ 2014میں علی نے بالی ووڈ کی دو فلموں میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔ کل دل اور ٹوٹل سیاپا علی کے فنی سفر کی اہم فلمیں ہیں۔2016 میں علی ظفر نے فلم ڈئیر زندگی میں اداکاری کی۔ فلم کی کاسٹ میں عالیہ بھٹ اور شاہ رخ خان شامل تھے، اگر علی ظفر کے فنی سفر کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ علی ظفر کا فنی سفر ایک ایسے شخص کا سفر ہے جو کہ محنتی ہے اور فنون لطیفہ کے اہم ترین رموز سے بخوبی آگاہ ہے۔ علی ظفر اداکاری، گلوکاری، موسیقاری اور رقص کے علاوہ فن مصوری پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ علی ظفر کے فنی سفر کا گراف ہمیشہ اوپر ہی گیا ہے۔ 

لو جی طیفا آگیا!

علی ظفر کے مداحوں کی کثیر تعداد پاکستان اور بیرون ملک میں موجود ہے۔ اس ضمن میں اہم امر یہ ہے کہ علی ظفر نے وقت کے ساتھ ذہنی سطح پر بھی نمو پائی ہے۔ علی کی میڈیا اور سوشل لائف کے دوران ہونے والی گفتگو اس امر کو واضح کرتی ہے۔ علی نوجوان نسل کے ہیرو کے طور پر ابھرے ہیں اور وہ اس بات کا خصوصی خیال رکھتے ہیں کہ ان کی گفتگو اور عمل میں نوجوان نسل کے لیے مثبت پیغامات موجود ہوں۔ کچھ ماہ قبل علی ظفر کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے ان پر الزامات بھی لگائے گئے لیکن اس تمام تر مشکل صورت حال سے علی ظفر نہایت زیرک مندی سے نبرد آزما ہوئے اور ان کے مداحوں کا ان پر اعتماد قائم ہے۔ 20جولائی کو علی ظفر کی پہلی پاکستانی فلم طیفا ان ٹربل ریلیز ہوگی۔ فلم کو علی ظفر نے پروڈیوس کیا ہے۔ فلم میں مرکزی کردار علی ظفر اور مایا علی نے ادا کیا ہے۔ فلم کی کاسٹ میں جاوید شیخ، فیصل قریشی، محمود اسلم، سیمی راحیل، نئیر اعجاز، ماہ نور اور اسما عباسی شامل ہیں۔ فلم کی کہانی ایک غنڈہ طیفا کے گرد گھومتی ہے۔ طیفا کو لاہور میں بسنے والا بدمعاش بٹ صاحب اپنے بیٹے کی شادی کے لیے اپنے سابقہ دوست بونزو کی بیٹی آنیا کو اغوا کرنے کا ٹاسک دیتا ہے۔ بونزو نے بٹ کے بیٹے سے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے انکار کیا ہوتا ہے۔ بونزو کا کردار جاوید شیخ نے نبھایا ہے جبکہ بٹ صاحب کی اداکاری محمود اسلم نے کی ہے۔ بٹ صاحب طیفا کو آنیا کے اغوا کے لیے پولینڈ بھیجتا ہے۔ فلم کی کہانی یوں آگے بڑھتی ہے اور اس رومانٹک، ایکشن اور کامیڈی سے بھرپور فلم میں نئے اور اچھوتے موڑ آتے ہیں۔ فلم کا ٹریلر، ریلیز ہونے والے گانے اور ان کی ویڈیوز نے عوام میں مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کر دیے ہیں۔ فلمی شائقین اور ناقدین کو فلم کی ریلیز کا شدت سے انتظار ہے۔ فلم کی ہدایتکاری احسن رحیم نے کی ہے۔ احسن رحیم پاکستان ویڈیو اور کمرشل میکنگ انڈسٹری کا ایک بڑا نام ہے جو کہ پچھلے بیس برس سے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کر رہا ہے۔ 

احسن رحیم کی ہدایتکاری کے حوالے سے علی ظفر کا کہنا ہے کہ احسن رحیم کے ساتھ ان کا پرانا تعلق ہے اور بطور ٹیم احسن کے ساتھ کام کرنا نہ صرف آسان ہوتا ہے بلکہ احسن کے ساتھ کام کرتے ہوئے وہ اپنے آپ کو تخلیقی طور پر زیادہ توانا محسوس کرتے ہیں۔ علی کا کہنا ہے کہ ان کی ہمیشہ سے ہی یہ خواہش تھی کہ وہ ایک ایسی فلم سے لولی وڈ میں اپنے سفر کا آغاز کریں جس کو دیکھ کر فلم بین حقیقی طور پر محظوظ ہوسکیں اور جس میں فلم کا حقیقی سکیل فلم بینوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ علی ظفر کا کہنا ہے کہ طیفا ان ٹربل میں ایکشن، لوکیشنز، رقص، اداکاری اور پروڈکشن کے حوالے سے کئی نئے تجربات کیے گئے ہیں۔ طیفا ان ٹربل کا ایکشن دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ان ایکشن مناظر کو فلمبند کرانے کے لیے علی ظفر نے خصوصی ٹریننگ حاصل کی۔ ان ایکشن مناظر کو علی ظفر نے خود فلمبند کرایا ہے۔ علی کا کہنا ہے کہ وہ لولی وڈ میں ایکشن مناظر کے حوالے سے نئی روایت کی ابتداء کرنا چاہتے ہیں۔ فلم کی ہیروئن مایا علی کا کہنا ہے کہ علی ظفر کی فلم میں کام کرنا ان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔ مایا کا کہنا

ہے کہ طیفا ان ٹربل ایک مکمل فیملی فلم ہے۔ اس فلم میں تفریح کے تمام لوازمات موجو د ہیں۔ اس کی کامیڈی ایک صافٖ ستھری کامیڈی ہے جس میں ذومعنی جملوں اور فقروں سے اجتناب کیا گیا ہے۔ مایا علی نے فلم کی شوٹنگ کے لیے خاصی محنت کی ہے۔ مایا نے کئی ایکشن مناظر کو خود پرفارم کیا ہے۔ فلم کی موسیقی میں تازہ پن موجود ہے۔ گلوکاری علی ظفر اور آئما بیگ نے کی ہے۔ گانوں کی فلمبندی تازگی، سینما کی خوبصورتی اور حس جمالیات کو اجاگر کرتی ہے۔ فلم کے کرداروں کے حوالے سے علی ظفر کا کہنا ہے کہ فلم کا ہر کردار ایک مکمل اور بھرپور زندگی رکھتا ہے۔ فلم میں جاوید شیخ، محمود اسلم اور فیصل قریشی کی اداکاری دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ فلم کی ہیروئن مایا علی کا کردار ہیرو کے ہم پلہ ہے اور دونوں کی کیمسٹری سکرین پر بخوبی دکھائی دیتی ہے۔ فلم میں پاکستان اور پولینڈ کی مختلف لوکیشنز کو سینما ٹوگرافی کے ذریعے سے بخوبی فلمبند کیا گیا ہے۔ طیفا ان ٹربل کو جیو فلمز کے تعاون سے 20جولائی کو ملک بھر میں ریلیز کیا جائے گا جبکہ یش راج فلمز اس کو دنیا بھر میں ریلیز کرے گی۔ فلمی شائقین کو طیفا ان ٹربل کی ریلیز کا شدت سے انتظار ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں