امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے گرلز ایلیمنٹری اسکول پر بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ آپ نے کہا تھا ایران کے ہاتھ کسی طرح ٹوماہاک میزائل لگ گیا تھا اور انہوں نے اپنے ہی ایلیمنٹری اسکول پر پہلے دن بم پھینک دیا۔ یہ بات کہنے والے صرف آپ ہی واحد انسان کیوں ہیں؟ جس پر ٹرمپ نے کہا کہ کیونکہ مجھے اس بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔
واضح رہے کہ رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ ان حملوں کے ابتدائی اہداف میں جنوبی شہر منیاب میں واقع ایک گرلز ایلیمنٹری اسکول بھی شامل تھا۔
امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اسکول کو غالباً ٹوماہاک میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا، جو ممکنہ طور پر امریکا کی جانب سے داغا گیا تھا۔ کیونکہ اطلاعات کے مطابق ایران اور اسرائیل کے پاس ٹوماہاک میزائل موجود نہیں ہیں۔
پیر کو پریس کانفرنس کے دوران کے صحافی نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا امریکا اس واقعے کی ذمے داری قبول کرے گا۔
اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا کہ مجھے اس بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ ٹوماہاک ایک بہت طاقتور ہتھیار ہے اور اسے دوسرے ممالک بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ کئی ممالک کو فروخت کیا جاتا ہے۔ ممکن ہے ایران کے پاس بھی کچھ ٹوماہاک ہوں، یہ ایران ہو سکتا ہے یا کوئی اور ملک، لیکن اس معاملے کی فی الحال تحقیقات جاری ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ اسکول کو ممکنہ طور پر امریکی میزائل نے نشانہ بنایا۔ اس حملے میں طالبات اور اساتذہ سمیت کم از کم 175 افراد شہید ہوئے تھے۔