مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر زیر گردش ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے گھر پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ان کے بھائی ہلاک جبکہ اسرائیلی انتہا پسند وزیر ایتمار بن گویر زخمی ہوگئے۔
سوشل میڈیا پر زیر گردش تمام دعویٰ جھوٹے ہیں اور اس حوالے سے کسی آفیشلز نے کی تصدیق نہیں کی۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تصادم کے دوران سوشل میڈیا پر جعلی معلومات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تازہ وائرل دعوے اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بھائی ایڈو نیتن یاہو کے بارے میں ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ تل ابیب میں ایرانی فضائی حملے میں ایڈو نیتن یاہو ہلاک اور اسرائیل کے وزیر ایتمار بن گویر زخمی ہو گئے ہیں۔
آن لائن گردش کرتی ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بھائی ایڈو نیتن یاہو کا گھر ایرانی میزائل سے جل گیا۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر اس وقت وائرل ہوئی جب کئی پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایڈو نیتن یاہو ہلاک ہوگئے۔
ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بنجمن نیتن یاہو کے بھائی ایڈو نیتن یاہو کی المناک موت ہوگئی ہے، انہیں ان کے گھر میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ ایران نے براہ راست نیتن یاہو کے گھر پر بیلسٹک میزائل کے ذریعے حملہ کیا ہے۔
فیکٹ چیک کرنے والی ویب سائٹ لیڈ اسٹوری نے واضح کیا ہے کہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی تمام پوسٹس جعلی اور جھوٹ پر مبنی ہے۔
بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں کہا گیا کہ اسرائیلی میڈیا نے ایڈو نیتن یاہو کی موت کو چھپانے کے لیے اسے کار حادثے میں زخمی ظاہر کیا گیا، لیکن حقیقت میں کوئی ایسا واقعہ حال ہی میں پیش نہیں آیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ ویڈیو 28 فروری 2026ء کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر ہونے والے حملوں سے کئی ہفتے پہلے اپلوڈ کی گئی تھی۔
ریورس امیج سرچ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وائرل ویڈیو 9 فروری 2026ء کو اٹلانٹک کاؤنٹی فائر فائٹرز ایسوسی ایشن کے فوٹوگرافر نے فیس بک پر شیئر کی تھی۔
مقامی میڈیا نے ایک رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ آگ امریکا کی ریاست نیو جرسی میں لگی تھی اور اس کے نتیجے میں جانی نقصان کے دعوے غلط ہیں۔
درحقیقت ایڈو نیتن یاہو کی گاڑی کو آخری بار اپریل 2024ء میں اسرائیل کے علاقے رملے میں حادثے پیش آیا تھا۔ ان کی گاڑی اس وقت سگنل توڑ کر ایک دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی تھی۔ اس حادثے میں ایڈو نیتن یاہو، ان کی بیٹی اور ڈرائیور معمولی زخمی ہوئے تھے۔
49 سالہ ایڈو نیتن یاہو حالیہ حادثے یا ایرانی حملے میں شامل نہیں تھے۔
28 فروری تا 9 مارچ 2026ء کے دوران بڑے نیوز اداروں میں کوئی قابل اعتماد رپورٹ موجود نہیں کہ ایڈو نیتن یاہو کو کوئی نقصان پہنچا ہو۔ اس طرح آن لائن پھیلائی جانے والی ویڈیو اور دعوے غلط اور دھوکا دہی پر مبنی ہیں۔