• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

احمد شہزاد نے 90 کی دہائی کے کرکٹرز کو پاکستانی کرکٹ کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرا دیا

کرکٹر احمد شہزاد — فائل فوٹو
کرکٹر احمد شہزاد — فائل فوٹو 

کرکٹر احمد شہزاد نے 90 کی دہائی کے کرکٹرز کو پاکستانی کرکٹ کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔

احمد شہزاد نے حال ہی میں’جیو ٹی وی‘ کے اسپیشل پروگرام ’ہارنا منع ہے‘ میں شرکت کی جہاں اُنہوں نے پاکستانی کرکٹ کی حالیہ صورتِ حال کے بارے میں بات کی۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر موقع ملا تو نوے کی دہائی میں واپس جانا چاہوں گا۔ وہ ایسا وقت تھا جب عمران خان نے 1992ء کا ورلڈ کپ جیتا لیکن اس دور کے کرکٹرز ان کی میراث کو برقرار نہیں رکھ سکے۔

کرکٹر نے کہا کہ اچھی قیادت اور ایمانداری کا فقدان ہونے کی وجہ سے کامیابی کا سلسلہ رک گیا، 1992ء کے باقی کھلاڑیوں نے میراث کو برقرار نہیں رکھا، انہوں نے اچھی کرکٹ نہیں کھیلی، مستقبل کے لیے اچھے کھلاڑی نہیں بنائے اور ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر گروپنگ اور بغاوتیں پیدا کیں۔

اُنہوں نے کہا کہ 90 کی دہائی کے کھلاڑی عظیم تو تھے لیکن اچھے انسان نہیں تھے۔ ان سے کرکٹ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ان کے دور میں نظام ناکام ہوا۔ اگر وہ اچھے انسان ہوتے تو پاکستانی کرکٹ کو فائدہ پہنچاتے۔

احمد شہزاد نے کہا کہ 90 کی دہائی کے کرکٹرز نے جانبداری اور اقربا پروری کی، اپنے ہی بچوں کو کرکٹ میں لائے اور نوجوان کھلاڑیوں کے خلاف نفرت پیدا کی۔

اُنہوں نے کہا کہ صورتِ حال یہ ہے کہ اگر کوئی ان کو سلام نہ کرے تو وہ ان کا دشمن ہو جائے گا۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید