• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا اسرائیل اور ایران جنگ سے عالمی کاروبار شدید متاثر

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے عالمی کاروباری ماحول کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اس تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، خام مال کی فراہمی میں رکاوٹ اور عالمی تجارتی راستوں کی سیکیورٹی پر سوالات پیدا ہو گئے ہیں، جس کے اثرات خوراک سے لے کر گاڑیوں کے پرزہ جات تک مختلف صنعتوں پر پڑ رہے ہیں۔

فضائی سفر میں شدید بحران

جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے بڑے حصے کی فضائی حدود بند ہو گئیں جس سے عالمی سفر شدید متاثر ہوا ہے، خطے کے بڑے ہوائی اڈے جیسے دبئی ایئر پورٹ اور حماد ایئر پورٹ شدید متاثر ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق تقریباً 40 ہزار پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جو کورونا کی وباء کے بعد سفر کی صنعت کا سب سے بڑا بحران قرار دیا جا رہا ہے، ہزاروں مسافر مختلف ایئرپورٹس پر پھنس گئے جبکہ کئی افراد خلیجی ممالک سے نکلنے کے لیے لمبے زمینی سفر کر کے ریاض پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایئر لائنز کو بھاری نقصان

خلیج کی فضائی حدود بند ہونے سے عالمی ایئر لائنز کے نیٹ ورک متاثر ہوئے ہیں، یورپ اور ایشیاء کے درمیان پروازوں کے کرائے تیزی سے بڑھ گئے ہیں جبکہ کئی کمپنیوں نے اپنے راستے تبدیل کر دیے ہیں۔

متعدد مشہور ایئر لائنز بھی اس صورتِ حال سے متاثر ہو رہی ہیں، ماہرین کے مطابق جیٹ فیول کی قیمتیں جنگ شروع ہونے کے بعد تقریباً دگنی ہو چکی ہیں۔

دبئی کی سیاحت کو خطرہ

اس تنازع نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک محفوظ سیاحتی مرکز بنانے کے لیے کی گئی اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، دبئی اور ابوظبی جیسے شہروں کی سیاحت سے خطے کو سالانہ تقریباً 367 ارب ڈالرز کی آمدنی ہوتی ہے۔

جنگ کے باعث دبئی کے کئی بڑے شاپنگ سینٹرز اور اسٹورز عارضی طور پر بند یا محدود عملے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

دفاعی صنعت کی سرگرمیاں تیز

جنگ کے دوران امریکا نے ایران کے خلاف جدید ہتھیار استعمال کیے جس میں ٹام ہاک کروز میزائل، اسٹیلتھ جنگی طیارے اور جدید ڈرونز شامل ہیں۔

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے جنگی کارروائیوں کے دوران مصنوعی ذہانت کی خدمات بھی استعمال کیں، جس میں کمپنی انتھروپک کے اے آئی ٹولز شامل تھے۔

خام دھاتوں کی فراہمی متاثر

خلیجی خطہ عالمی ایلومینیئم پیداوار کا تقریباً 8 فیصد فراہم کرتا ہے، لیکن آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث دھاتوں کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔

قطر کے ایلومینیئم پلانٹ نے اپنی پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے جبکہ بحرین نے شپمنٹ روکنے کا اعلان کیا ہے، اس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں ایلومینیئم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

فیشن اور ملبوسات کی صنعت متاثر

جنوبی ایشیاء کے ممالک پاکستان، بھارت اور بنگلادیش عالمی فیشن برانڈز کے لیے بڑے پیداواری مراکز ہیں، لیکن فضائی کارگو میں رکاوٹ کے باعث کئی برانڈز کی سپلائیز متاثر ہو رہی ہیں۔

اسپین کی فیشن کمپنی انڈی ٹیکس (جو Zara کی مالک ہے) سمیت کئی عالمی برانڈز کی کپڑوں کی کھیپ ایئرپورٹس پر رکی ہوئی ہے۔

چِپس اور ٹیکنالوجی پر اثرات

جنوبی کوریا کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو سیمی کنڈکٹرز کی تیاری کے لیے ضروری گیس ہیلیئم کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ڈرون حملوں میں ایمازون کے کچھ ڈیٹا سینٹرز کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جس سے خطے میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سرمایہ کاری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی

ماہرین کے مطابق اگر جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تیل کی قیمتیں، عالمی تجارت، فضائی سفر، ٹیکنالوجی اور فیشن صنعت سمیت کئی شعبے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید