آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ایتھوپیا اور اریٹیریا دوستی کی راہ پر

ایتھوپیا اور اریٹیریا دو ایسے افریقی ممالک ہیں جو کئی عشروں سے حالتِ جنگ میں تھے۔ یہ دونوں ممالک پہلے ایک ہی ملک ہوتے تھے، یعنی اریٹیریا بھی ایتھوپیا کا حصّہ تھا۔ مگر اریٹیریا کی آزادی کے بعد بھی دونوں ممالک باہم دست و گریباں رہے۔ اب ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد اور اریٹیریا کے صدر عیسائیس نے اس اعلامیےپر د ست خط کر دیے ہیں جس کے تحت دونوں ممالک میں امن بحال ہو جائے گا۔اس سے قبل 20سال پہلے 1998میں ہونے والے سرحدی تنازعےکے خاتمےکے معاہدےپر کبھی عمل نہیں کیا گیا تھا اور اس کے بعد بھی باہمی کشیدگی برقرار رہی تھی ۔ تاہم اب دونوں ممالک نےنہ صرف امن بحال کرنےکا اعلان کیا ہے بلکہ تجارتی و سفارتی تعلقات کے قیام کا بھی عندیہ دیا ہے۔نئے معاہدے کا اعلان ا ر یٹیریا کے دارالحکومت اسمارا میں کیا گیا جہاں 20برس بعد دونوں ممالک کے سربراہوں نے ملاقات کی تھی۔ یہ ممالک اب 9؍جولائی کو ہونے والے معاہدے کے پابند ہوں گے۔

اس نئے معاہدے کے دو اہم ترین نکات یہ ہیں کہ دونوں ممالک نے حالتِ جنگ ختم کرنے کا اعلان کیاہے اور دوستی کےنئے دور کا آغاز کرنےکے ساتھ سیاسی، اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور حفاظتی تعاون کا وعدہ بھی کیاہے ۔ اس طرح ان ممالک نے حالتِ جنگ میں رہنے کاطویل باب بند کر دیا ہے جو دونوں ملکوں کو بہت منہگا پڑ رہا تھا ۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں نے مشرقی افریقا کے پورے خطّے میں امن کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔یاد رہےکہ طویل عرصے تک حالتِ جنگ میں رہنے کی وجہ سے دونوں اطراف کے 70,000سے زاید افراد ہلاک ہوئے اور دسمبر 2000میں ہونے والا امن معاہدہ بھی ناکام ہو گیا تھا، کیوں کہ اس معاہدے کے دو برس بعد ایتھوپیا نے سرحدی کمیشن کے فیصلے ماننےسے انکارکر دیا تھاکیوںکہ کمیشن نےکچھ متنازع رقبہ اریٹیریا کو دے دیا تھا جس میں بادمے (BADME) کا قصبہ بھی شامل تھا۔گو کہ اس کے بعد دونوں ممالک میں جنگ ہوئی اور نہ امن ہوا،پھر بھی دونوں حالتِ جنگ میں رہے۔

اب ایتھوپیا کے وزیرِ اعظم ابی احمد نے اس کمیشن کا فیصلہ ماننے کا اعلان کیا تو برف پگھل گئی۔ابی احمد اپریل 2018میں برسراقتدار آئے تھے۔وہ دوررس تبدیلیاں لا رہے ہیں، بالکل اسی طرح کی تبدیلیاں جس کی کوششیں پاکستان کے سابق وزرائے اعظم، نواز شریف اور بے نظیر بھٹو بارہا کرچکی تھیں کہ ماضی میں ایک ملک رہنے والے پاکستان اور بھارت آپس کے تعلقات بہتر کر لیں ۔مگر اس خطّے میں ان کی کوششیں کام یاب نہیں ہو سکی تھیں۔ایتھوپیا کے نئے وزیراعظم کے اس فیصلے سے قبل یہ بات ناقابل یقین تھی کہ ایتھوپیا متنازع علاقے پر اریٹیریا کا حق تسلیم کرنے پر رضامند ہو جائے گا۔

دنیا کے نقشے پر نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ اریٹیریا، ایتھوپیا کے شمال میں ایک طویل ساحلی پٹّی پر مشتمل ہے جس نے ایتھوپیا کی سمندر تک رسائی ختم کر دی ہے۔ پھر بھی اریٹیریا عالمی قانون کے مطابق ایتھوپیا کو سمندر تک رسائی دینے کا پابند ہے۔ یاد رہے کہ ایتھوپیا چند برسوں میں ترقی تو کرتا رہا ، مگراندرونی طورپر وہ عدم استحکام کا شکار رہا۔تاہم وزیراعظم بننے کے چند ماہ بعد ہی ابی احمد نے نہ صرف ریاستی اہلکاروں کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا بلکہ ماورائے عدالت قتل اور اغواکے واقعات کی روک تھام بھی کی ہے۔انہوںنے ہنگامی حالات بھی ختم کردیے ہیں اور ہزاروں قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔اس کے ساتھ انہوں نے ہزاروں ویب سائٹس اور درجنوں ٹی وی چینلز ،جو عرصے سے بند تھے، کھول دیئے ہیں۔یہ بات اہم ہے کہ ابی احمد ایتھوپیا کے پہلے راہ نما ہیں جن کا تعلق اورومو (OROMO) قبیلے سے ہے۔ یہ لسانی گروہ تین برس سے مسلسل احتجاج کر رہا تھا کہ اسے اس کے حقوق دیے جائیں۔ ان احتجاجی مظاہروں میںسیکڑوں افرادہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ گو کہ اورومو قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد اکثریت میں ہیں پھر بھی انہیں سیاسی و اقتصادی طور پر اقتدار سے الگ رکھا جاتا رہا ہے۔

ابی احمد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں نہ صرف ان کے قبیلے اورومو، بلکہ دیگر لسانی گروہوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔وہ 42 سال کے ہیں اور ایک مخلوط مسلم و عیسا ئی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔اورومو قبیلےکے لوگ ا یتھوپیا کے وسطی اور مغربی علاقوں میں آباد ہیں۔ جب ابی احمد وزیراعظم بنے تو اس وقت ایتھوپیا کی حزب مخا لف نے کہا تھا کہ نئے راہ نما کچھ نہیں کر سکیں گے جب تک انہیں فوج، ریاستی اداروں اور خاص طورپرجاسو س ایجنسیز کی مدد حاصل نہ ہو، کیوں کہ اگر وہ ہی وزیرا عظم کی بات نہ مانیں تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ اگر فوج منتخب وزیراعظم کی آئینی بالادستی قبول نہ کرے تو حکومت ناکام ہو جاتی ہے۔وہاں حال ہی میں ایسی کوششیں بھی کی گئیں جن کے ذریعے نئے وز یر اعظم کو ڈرایا گیا۔ مثلاً ان کے ایک جلسے میں بم کا دھماکا کرایا گیا جس میں دو افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ مگر وزیراعظم بچ گئے اور انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ انہیں ڈرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیںتاکہ وہ پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر نہ کریں۔

اس دھماکے کے بعدسکیورٹی کے مقامی اہل کاروں کو گرفتار کر لیا گیاتھاکیوں کہ انہوں نے اپنی ذمے داری پوری نہیں کی تھی۔ یاد رہے کہ جب سابق وزیراعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو کو جنرل پرویز مشرف کے دور میں شہید کر دیا گیا تھاتواس وقت کسی سکیورٹی اہل کارکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی، بلکہ موقع واردات کو فوری طور پر پانی سے دھو دیا گیا تھا۔

آبادی کے لحاظ سے ایتھوپیابراعظم افریقا کا دوسرا بڑ ا ملک ہے۔سب سے بڑے ملک نائجیریاکی آبادی تقر یباً 20کروڑ ہے جب کہ ایتھوپیا کی 10 کروڑ ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ایتھوپیا اپنی پوری تاریخ میں صرف 5سال اٹلی کے قبضے میں رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ افریقہ کا سب سے قدیم آزاد ملک رہاہے۔یہاں کا ا یتھو پیائی آرتھوڈوکس چرچ دنیا کے قدیم ترین چرچز میں شامل ہے ۔ یہاں بادشاہت کا خاتمہ 1974میں ہوا تھا۔ ایتھو پیا میں قحط بھی پڑتے رہے ہیں اور یہاں خانہ جنگی بھی ہوتی رہی ہے، مگر اب لگتا ہے کہ یہ ملک ترقی کی شاہ راہ پر تیزی سے سفر کرے گا۔

دراصل اریٹیریا پر اٹلی نے 19؍ویں صدی کے او ا خر میں قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد اریٹیریا کی اپنی شناخت رہی، مگر 1962میں ایتھوپیا کے شاہ ہیل سلاسی نے اسے اپنے ملک میں شامل کر کے اسے اپنا صوبہ بنا لیا تھا۔ 1974میں ہیل سلاسی کا تختہ الٹ کر ایک مارکسی حکومت قائم کی گئی اور مینگسٹو ہائلے نے کئی برس تک وہاں آہنی ہا تھ سے حکومت کی۔ 1980کے عشرے میں وہاں کئی قحط پڑے ۔1991میں باغیوں نے ادیس ابابا پر قبضہ کر لیا توہائلے کو بھاگنا پڑا۔ 1993میں ایک ریفرنڈم کے بعد اریٹیریا کو آزاد کر دیا گیا۔ 1994میں ایتھوپیا کو نیاآ ئین دیا گیاجس کے تحت اسے لسانی بنیادوں پر صوبوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ 1995میں میلیس زنیاوی بر سر اقتدار آئے جو 2012میں اپنی موت تک بر سر ا قتد ار رہے۔ اس طرح 1974میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد 17سال تک ہائلےنے حکومت کی( 1991تک) ،پھر میلیس زنیاوی نے 17سال حکومت کی( 1995 سے2012تک)اس طرح 44سال میں صرف دو حکم رانوں نے وہاں 34سال حکومت کی۔

نئے وزیراعظم ابی احمدکےبارےمیں کہا جاتا ہے کہ وہ عوام میں بہت مقبول ہیں۔ انہوں نےپڑوسی مما لک سے تعلقات بہتر کرنے میں زبردست پیش رفت کی ہے اور اس کوشش میں اب تک انہیں فوج کی بھی حمایت حاصل ہے۔دراصل کسی بھی ملک کے لیےپڑوسیوں سے تعلقات ٹھیک رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے اور اس سلسلے میںپرانی روش اور دشمنی کا بیانیہ تبدیل کرناہوتاہے۔ تنا ز عات کے حل کےلیےلچک دار رویّے کی ضرورت ہوتی ہےجو ملکوں کو قریب لانے کا باعث بنتاہے۔ اگرپڑوسی ممالک بہ دستور اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہیں تو عوام کا بہت نقصان ہوتا ہے اور جو وسائل عوام کی فلاح و بہبو د کےلیےاستعمال ہونےچاہئیںوہ اسلحہ اورگولہ با رو د خر ید نے پر خرچ ہو جاتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں