آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر3؍ربیع الاوّل 1440ھ 12؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ٹرمپ کا گیس غبارہ

 تحریر:ٹام ہیرس

ہجو آمیزمذمت یا تنقیدجدید سیاسی بحث کا ایک اہم حصہ ہے۔1980کی دہائی میں’’کسی شخص یا شے کا ہوبہونقل بنانا‘‘،ووٹرزکی جانب سے اپنی حکومت پر تنقیدکرنے پر توجہ مرکوزرکھنے کا غیر متوقع طورپر ایک موثرہتھیار بن گیاتھا ۔

بطورایک وزیر،اوراس شوکو ختم ہوئے کئی سال بعد،میں مارگریٹ تھیچر(سابق برطانوی وزیراعظم) کے سابق ایمپلائنمنٹ سیکرٹری (وزیر)، ٹام(اب لارڈ) کنگ (جنہوں نے شمالی آئرلینڈ اوردفاع کے لئے بھی خدمات انجام دی ہیں)وہ واقعی اس وقت خوشی سے سرشارہوئے جب میں نے انتہائی شوخی کے ساتھ ان کی کٹھ پتلی کو یاددلایا جو ایک گانا گاتا اوررقص کرتا اور’’غیر مرئی انسان‘‘کہلاتا تھا۔وہ کہتاتھا ’’آئیم گوئنگ ٹو ٹیک دوزتھری پوائنٹ نائن،اینڈگیو دیم فیسزجسٹ ،لائیک مائن۔۔‘‘

اورابھی تک،جب یہ مضحکہ خیز شواپنے عروج پر تھا،اس کے لکھنے والوں کے ابتدائی اہداف ،مسزتھیچر اوران کی پارٹی تھے،جو تین بار عام انتخابات کو بھاری اکثریت سے جیت چکی تھی۔ سادہ لفظوں میں جس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ حتیٰ کہ جب ہم اپنے رہنماؤں کاتمسخر اڑانے سے جی بہلاتے ہیں ،یہاں تک کہ جب ہم سوچتے ہیں کہ وہ ہمارے اس مذاق اڑانے کے لائق ہیں،ووٹ دینے کی ہماری اصل ترجیحات نقصان سے دوچارہونے کے اس قدرخطرات کی زدپر نہیں ہوتے جتنا کہ شاطرمصنفین نے ممکنہ طورپر سوچ رکھا ہوتا ہے۔

’’کسی شخص کی ہوبہو صورت گری ‘‘کرنے کا ایک اوراہم ہدف، جب اسے پہلی بار شروع کیاگیا،(امریکی) صدررونالڈریگن تھا۔’’اس صدرکا دماغ غائب ہے‘‘نامی مزاحیہ خاکہ ہفتہ وار جزوقتی قسط بن گیاجس میں اس ملک کے خفیہ ادارے ولن کے طورپرریگن کے غائب دماغ کا پتہ لگاتے تھے جب وہ(صدر)بذات خود دماغ سے خالی کئی ایسے کام سرانجام دیتے تھے جیسا کہ سوویت یونین کا سامنا کرنا اورتھیچر(برطانوی خاتون وزیراعظم )کا قریبی دوست ہونا ۔

آج کے سیاستدانوں کا مزاحیہ شوکیا ہوگا،خاص کر اس45ویں (امریکی) صدرکا؟اس بارے میں ہم صرف قیاس آرائی ہی کرسکتے ہیں،لیکن ڈونلڈٹرمپ پہلے ہی بی بی سی کے ریڈیو 4146 کے پروگرام ’’ڈیڈرینگرز‘‘ اورکامیڈین میٹ فورڈ کی جانب سے اعلیٰ معیار کے بھرپور تمسخر اور مذاق کی زد میں آچکے ہیں، شاطرانہ، برجستہ،کاٹ دار، متعلقہ، بات یا کردار، اگرآپ کو ہنسنے پر مجبورکردیتا ہے،تو یہ آپ کو سوچنے پر مجبورکرسکتا ہے،کم ازکم مجھے لگتا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ نقالی یا بہروپیا پن کس طرح کام کرجاتاہے۔

اوراس طرح ہم لندن کے میئر صادق خان کے اس بڑے روتے چیختے ہوئے بچے (ٹرمپ کی نقالی )کی جانب آتے ہیں۔ایسا کرنا قدرے غیر منصفانہ ہوسکتا ہے ، جبکہ یہ درحقیقت کراؤڈ فنڈنگ مہم کا نتیجہ ہے،لیکن خان کے لئے، ان کی جانب سے زبان بندی/انوکھی چال/ بیان(جوچاہے ، لیجئے)دیا گیا ہے کہ وہ ہی ہیں جو یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ آیا امریکی صدر کو آئندہ ہفتے برطانوی دارالحکومت کے دورے کے دوران لندن کی فضاؤں سے پروازکرنے دیا جائے یا نہیں، اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونا ناممکن ہوگا۔

ٹرمپ،یقیناً،امریکامخالف بائیں بازو(اینٹی امریکن لیفٹ) کو بڑے وسیع پیمانے پر فروغ دیتا رہا ہے جس کی پہلے سے موجود پوزیشن اس آزادسرزمین پر موجود ہر اس چیز سے نفرت کرنا ہے جس کی یہ حمایت یا نمائندگی کرتی ہے۔حتیٰ کہ (صدر)نیکسن کے دورسے لیکر اب تک،دی وہائٹ ہاؤس(امریکی ایوان صدر)نے ورلڈزکارپوریٹ گریڈ(عالمی تجارتی ہوس)اورفوجی طاقت سے مرعوب یا خوفزدہ کرنے تک کے ہر عمل کو بدصورتی کے طورپر پیش کیا ہے۔ریگن اور دونوں بشز(امریکی صدور) کے دوراقتدارمیں،امریکی بائیں بازوسے تعلق رکھنے والے افراد بدی کی اس بادشاہت کے خلاف شدید تنقید کے ذریعے اپنے دلوں کی بھڑاس نکال سکے تھے(ریگن مبینہ طورپر اسے سمجھنے میں غلطی کرگئے تھے)۔

ایسے افرادتعدادمیں کم تھے،بلکہ بہت ہم کم تھے،کلنٹن اوراوباما کے دوراقتدارمیں نسبتاًزیادہ خاموشی رہی،لیکن ڈیموکریٹس ہونے کے باوجود ،صدورنمبر42اور44 نے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس فروخت کرنے میں مددکی،اس طرح انہوں نے ہمیشہ کیلئے مایوس ہوجانے والے بائیں بازوکو اپنا امریکا مخالف تعصب برقراررکھنے کا موقع فراہم کیا گیا۔

ان کے بعدٹرمپ ،جن کے نسل پرستانہ ،خواتین سے متعلق نفرت اور حقیر جاننے کے احساسات پر مبنی نقطہ نظراوران کی ناقص اور ناقابل دفاع سرحدی پالیسیوں کے باعث ان کے انتخابی حلقے میں اشتعال انگیزی کو روکنے کے لئے کمسن بچوں کو ہدف بنایا گیا اور وہ غیر منصفانہ سلوک کا شکار ہوئے۔ امریکا مخالف جذبات اس سے پہلے کبھی اتنے پرکشش نہیں رہے،جونہ صرف روایتی بائیں بازوتک محدود رہے ،بلکہ ایک وسیع ترنفرت پر مبنی لہر کی صورت یہ اعتدال پسند خیالات رکھنے والوں تک پھیل گئے۔

اوریہاں تک کہ اعتدال پسند بائیں بازوکے افرادنے کس طرح اس پراپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے؟کسی بحث کی صورت؟کسی تجزیے کے طورپر؟ہمارے سیاسی مباحثے میں اعتدال پسندی اوراحترام کے کسی نئے پیغام کے ساتھ؟ایسا کچھ بھی نہیں،صرف ایک دیو ہیکل غبارے کی صورت جو ایک لنگوٹ میں چڑچڑے مزاج والے امریکی صدرکی تصویرکشی کرتاہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ٹرمپ کی وجہ سے ،ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ ایسے کسی مباحثے کی ایک وسیع تر پیمانے پرکبھی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ہے تاکہ ایک قدم پچھے چلتے ہوئے اوراحترام سے بھرپورمباحثے اورعدم اتفاق کی پرانی روایات کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے۔ جب کبھی بھی میں ٹرمپ کو ’’

ہیلری کے جھوٹ‘‘کا حوالہ دیتے ہوئے سنتا ہوں تو انتہائی شرمندہ ہوجاتا ہوں۔اورٹی وی پر میراپہلا ردعمل کچھ اسی قدرٹرمپ کے متعلق جارحانہ اورغیر منصفانہ ہوتا ہے۔اوربعض اوقات میں ایساکرتا ہوں۔

لیکن یہ طفلانہ حرکت ہمیں کہاں لے جاتی ہے؟اس سے کیا حاصل ہوتا ہے بجز ہمارے اپنے اخلاقی امتیاز سے ماوراایک بے مقصد اورمعاشرتی اقدارسے آزاداحساس کے ؟یہ دیوہیکل بے بی ٹرمپ نامی غبارہ چند لمحوں کے لئے ایک تفریح طبع شے ہے لیکن بالاخراس کا مقصد سادہ لفظوں میں کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا اورکھلکھلاہٹ پیدا کرنا ہے۔کیا اب جدید سیاست یہ بن گئی ہے کہ کسی مقابلے میں یہ دیکھا جائے کہ آپ اپنے مخالفین کو پریشان کرکے کس قدرقہقہے پیدا کرسکتے ہیں؟

انٹرنیٹ کے زمانے میں،شاید خان جیسے سیاستدانوں کے پاس کوئی ایسا متبادل راستہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ اپنے انتخابی حلقے پر توجہ دیں۔اگروہ اس سے بلندترطریق اپنالیتے،وہ اس (دیوہیکل بے بی ٹرمپ)غبارے کو ہوامیں اڑانے کے خواہش مند ہزاروں افرادکو ایسا کرنے سے منع کردیتے ،تو ممکنہ طورپر وہ ادھر ادھر چند ووٹ کھوسکتے تھے۔اورہوسکتا ہے کہ درحقیقت یہ ان کے نزدیک بڑھیا قیمت ہو۔ایک بہت بڑھیا قیمت ،شاید ، برطانیہ امریکا تجارتی معاہدے سے بھی زیادہ۔

ظاہر ہے کہ،لندن مستقل مزاجی کے طورپر ایک ایسا باقی ماندہ شہر ہے جس کے زیادہ تر شہری غالباًاس طرح کے کسی بھی ایسے معاہدے کے تصورکو حقارت کی نظرسے دیکھتے ہیں(درحقیقت،غالباًوہ یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی ملک اپنی تجارتی پالیسی کا نظریہ رکھتاہے جوکہ صرف گزشتہ صدی تک ہے،)جوامریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات کو کمزورکرتا ہے ،اوراسے بطورویلکم (استقبالیہ)بونس کے طورپر دیکھا جاتا ہے،جو اس اعلیٰ معیار کے مسخرہ پن کو، کریلا اوروہ بھی نیم چڑھا، بنا دیتا ہے۔

ہجو یا تمسخراڑانے کا کردارکسی طاقتورکو کمزور ،ان کے اعتمادکو متزلزل اوران کی خودبینی یا زعم باطل میں چھیدکرنےکا ہوتا ہے۔(لندن میں امریکی صدرٹرمپ کی آمد پر)یہ بڑا (گیس بھرے )غبارہ ان تینوں کرداروں میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے۔تاحال ،تمام غباروں کی طرح،یہ(بڑاغبارہ بھی)اس گرم موسم میں بچوں کا دل بہلاتا رہے گا ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں