آپ آف لائن ہیں
اتوار 8؍ذوالقعدہ1439ھ 22؍ جولائی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
2013کی انتخابی مہم کے ایک ماہ کے دوران 300افراد جاں بحق ہوئے

ملک میں قیام امن کی کوششوں کے باوجود انتخابی مہم کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی اور پرتشدد واقعات میںدو امیدواروں سمیت 100 سے زائد افراد کا جانی نقصان ہوچکا ہے۔

تاریخ پر نظر ڈالیں تو سال 2013 کی انتخابی مہم کے دوران بھی ایسے واقعات تسلسل کے ساتھ ہورہے تھے۔ پانچ سال قبل کی اس الیکشن مہم کے ایک ماہ کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں بم دھماکوں، خودکش حملوں اور دہشت گردی کے 100 سے زائد بڑے واقعات میں 300 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 600 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

انتخابات میں خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور کراچی دہشت گردوں کے نشانے پر رہا۔ ان واقعات میں کالعدم تحریک طالبان اور ملک کے خلاف سرگرم دیگر مزاحمت کاروں کو ذمہ دار ٹہرایا گیا تھا۔

سن 2013 کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی سب سے زیادہ نشانے پر رہی، انتخابی مہم کے دوران اےاین پی پر 40 سے زائد دہشت گرد حملے ہوئے جن میں اے این پی کے 110 کارکن جاں بحق تھے۔ 11 اپریل کو حیدرآباد میں متحدہ امیدوار کو قتل کیا گیا جبکہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں 11 افراد قتل کئے گئے۔ 13 اپریل کو پشاور میں مسافر وین میں بم دھماکہ میں نو افراد ہلاک ہوئے جبکہ میراں شاہ میں انتخابی دفتر اڑا دیا گیا۔ 14 اپریل کو سوات اور چارسدہ میں بم حملوں میں اے این پی کے مقامی رہنما مکرم خان جاں بحق جبکہ انتخابی امیدوار سمیت 6 افراد زخمی ہوئے۔

اس کے اگلے روز ڈیرہ اسماعیل خان میں امیدوار کی گاڑی پر فائرنگ سے ان کے دو حامی جاں بحق جبکہ 3 افراد زخمی ہوئے۔ سولہ اپریل کو پشاور کے علاقے یکہ توت میں غلام احمد بلور کے انتخابی جلسے میں خودکش حملے میں 15 افراد جاں بحق 50 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس روز کوئٹہ میں جے یو آئی کے رہنماء عبدالرحمان کھیتران اور پشاور میں پیپلز پارٹی کی امیدوار پر بم سے حملہ کیا گیا۔

خضدار میں ثنا اللہ زہری کے قافلے پر بم حملے میں ان کے بیٹے بھائی بھتیجے سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے۔ 19 اپریل کو وانا میں امیدوار نصیراللہ کے انتخابی جلسے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا جس میں 4 افراد جاں بحق 7 زخمی ہوئے۔ 23 اپریل کو کوئٹہ میں یکے بعد دیگرے تین بم دھماکوں اور خودکش حملے میں 6 افراد ہلاک ہوئے اس روز کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں بھی انتخابی کیمپ کے قریب بم دھماکے میں 4 افراد جاں بحق 23 زخمی ہوئے۔ 24 اپریل کو ڈیرہ اسماعیل خان، مردان، پشاور، سوات اور لاڑکانہ میں بم دھماکے ہوئے۔

25 اپریل کو کراچی کے علاقے نصرت بھٹو کالونی میں متحدہ کے دفتر پر بم حملے میں 6 افرادجاں بحق 10 زخمی ہوئے اس روز نوشکی پشاور اور پاراچنار میں بھی دھماکوں کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق 5 زخمی ہوئے۔ 26 اپریل کو کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں عوامی نیشنل پارٹی کے دفتر پر بم حملے کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق 50 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس کے اگلے روز 28 اپریل کو کراچی کے علاقے قصبہ کالونی اور لیاری میں 3 بم دھماکوں کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق 6 زخمی ہوئے۔ 28 اپریل کو پشاور کوہاٹ صوابی اور کوئٹہ میں انتخابی دفاتر اور جلسوں میں مزید بم دھماکوں کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق 44 زخمی ہوئے۔ 29 اپریل کو پشاور کے علاقے ارباب روڈ پر خودکش دھماکا 10 افراد جاں بحق 45 زخمی ہوگئے۔

اسی روز نوشہرہ، چارسدہ اور مردان میں بھی عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں اور دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔ 30 اپریل کو دہشت گردی کے واقعات میں کراچی میں 14 افراد کو قتل کیا گیا جبکہ جھل مگسی میں آزاد امیدوار سمیت دو افراد کو قتل کر دیا گیا۔

یکم مئی کو پشاور سوات کوئٹہ شکارپور اور ملتان میں انتخابی امیدواروں کے دفاتر اور جلسوں میں راکٹوں اور بموں سے حملے کیے گئے۔ اس روز کراچی میں 11 افراد کو قتل کیا گیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں