آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
نوجوان آبادی: پاکستان کے روشن مستقبل کی ضامن

پاکستان ایک نوجوان آبادی پر مشتمل، وسائل سے مالامال اور ترقی کے وسیع تر مواقع رکھنے والا ملک ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے، جہاں نوجوان بڑی تعداد میں  موجود ہیں۔ یہ نوجوان طبقہ ، پاکستان کے آج، کل اور مستقبل کے لیے ایک اثاثہ ثابت ہوسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونائیٹڈ نیشن ڈیویلپمنٹ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے جبکہ بے روزگاری کی شرح 9اعشاریہ 1فیصد ہوگئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں نوجوان مردوں اورخواتین کی شرح برابر ہے جبکہ 70 فیصد نوجوان پڑھے لکھے ہیں۔ پاکستان کی آبادی کا 64 فیصد 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے جبکہ 29 فیصد کی عمر 15 سے 29 سال کے درمیان ہے۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستانی نوجوانوں میں سیاسی شعور بھی بڑھ رہا ہے۔ 2013ءکے عام انتخابات میں نوجوان رجسٹرڈ ووٹرزکی 80 فیصد تعداد نے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق صرف 24 فیصد نوجوانوں کو سیاست دانوں پر اعتماد ہے۔ اس کے باوجود 90 فیصد لڑکوں اور 55 فیصد لڑکیوں کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں ووٹ ڈالیں گے۔64فیصد نوجوان شہروں میں آباد ہیں جبکہ48 فیصد نوجوانوں کا خیال ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔رپورٹ میں کھیلوں کے مواقع کی عدم دستیابی، پاکستانی نوجوانوں کے ایک بڑے مسئلےکے طور پر سامنے آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق، صرف 7 فیصد پاکستانی نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولتیں حاصل ہیں۔

روزگار کے مواقع

اقوامِ متحدہ کے ادارے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں صرف 39 فیصد نوجوانوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہیں۔ دو فیصد مردوں اور خواتین کو روزگار کی تلاش ہے جبکہ 57 فیصد بے روزگاروں کو ملازمت کی تلاش ہی نہیں۔ پاکستان میں 77 فیصد نوجوان روزگار کی خاطر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔15 سے 29 سال کی آبادی ملک کی مجموعی لیبر فورس کا 41اعشاریہ 6فیصد ہے جبکہ 40 لاکھ نوجوان ہرسال جاب مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بے روزگاری کی بلند شرح میں کمی اور بتدریج خاتمے کے لیے پاکستان کو ہر سال 10 لاکھ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔

ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس

انسانی ترقی کے پیمانے (ایچ ڈی آئی) میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، ملک کے دیگر شہروں میں سب سے آگے ہے۔ کاروبار، تعلیم اورملازمت کے مواقع شہرِاقتدار میں سب سے زیادہ ہیں۔ اسلام آباد کا ایچ ڈی آئی صفراعشاریہ آٹھ سات پانچ (0.875) ہے۔ اس کے بعد آزاد کشمیرمیں مواقع سب سے زیادہ ہیں، جہاں انڈیکس صفراعشاریہ سات تین چار(0.734) ہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 77 فیصد نوجوان ذاتی سواری سے محروم ہیں۔ صرف 12 فیصد کے پاس اپنی سواری ہے، جبکہ محض ایک فیصد افراد ذاتی کار کے مالک ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی کے لوگ چِنگ جی رکشوں، بوسیدہ اورخستہ حال بسوں میں سفرکرنے پر مجبور ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے پنجاب حکومت نے کچھ کام کیا ہے۔ ملتان، لاہوراور راولپنڈی میں میٹرو بس منصوبے مکمل کیے گئے، جبکہ اورنج ٹرین منصوبہ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ کے پی حکومت نے بھی پشاورمیں میٹروبس منصوبہ شروع کر رکھا ہے، جو فی الوقت زیرِ تعمیر ہے۔ کراچی میں آنے والے دنوں میں پبلک ٹرانسپورٹ میں کچھ بہتری کی امید کی جاسکتی ہے جہاںگرین لائن منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے، تاہم اس پر پیش رفت کافی سست ہے۔ سندھ حکومت، اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ کے مزید دو منصوبے شہر کراچی میں شروع کرنے کا اعلان بھی کرچکی ہے۔

سماجی ترقی

تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کے لیے پاکستان کو ابھی طویل اور پیچیدہ سفر طے کرنا ہوگا۔جنوبی پنجاب میں تعلیم اور صحت سے متعلق محرومیاں ختم نہیں ہوسکیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، پنجاب میں سب سے کم ترقی یافتہ علاقوں میں جنوبی پنجاب کے شہر شامل ہیں۔ پنجاب کے ترقی یافتہ شہروں میں لاہور اور راولپنڈی شامل ہیں لیکن ڈی جی خان ، راجن پور اور مظفرگڑھ کا شمارہیومن انڈیکس میں سب سے نچلی سطح پر ہوتا ہے۔ تعلیم کے حوالے سے لاہوراور راولپنڈی میں شرح تعلیم بلند اور رحیم یارخان، مظفرگڑھ اورراجن پور کی پست ترین ہے۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں ترقی کی شرح میانوالی، ڈی جی خان اور بھکر میں کم ترین ہے۔ رہن سہن کی ترقی میں لاہور پہلے نمبر پر ہے، جبکہ جنوبی پنجاب کے علاقے راجن پور، مظفر گڑھ اور ڈی جی خان میں معیار زندگی سب سے نچلی سطح پر ہے۔

تعلیمی مواقع کی بات کریں تو، 1سے 5سال کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم کے 16فیصد، 6 سے 10 سال کی عمر تک 40 فیصد ، 11 سے 12 سال کی عمر کےلیے 9 فیصد اور 12 سال سے زائد عمر کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے صرف 6 فیصد مواقع حاصل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ، تعلیم کے میدان میں پائیدار ترقی کے ہدف2030ءکو حاصل کرنے کے لیے( تمام بچوں کو اسکول بھیجنے کا ہدف) اِنرولمنٹ کی شرح3 اعشاریہ 8فیصد سالانہ بڑھانی ہوگی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں