آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انتخاب 2018ء کی مہمات کے دوران ملک بھر میں وہ گہماگہمی نظر نہیں آرہی جس کا مشاہدہ 70،77 اور85کے بعد ہونے والے عام انتخابات میں ہوتا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ 2013ء کے انتخابات کے بعد بھی ملک کا ماحول ایسا بنا رہا جیسے کوئی انتخابی مہم چل رہی ہو۔ پورے پانچ سال دھرنے، جلسے، ریلیاں، مخالف و متحارب سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سینئر رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات و جوابی الزامات جاری رہے۔ اکثر لوگ ایسی باتیں سن سن کر تنگ آگئے۔ سڑکوں، گلی محلے میں گہماگہمی نہ ہونے کی ایک وجہ الیکٹرانک میڈیا پر شام سے رات گئے تک جاری رہنے والے سیاسی پروگرامز بھی ہیں۔ پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ آمنے سامنے ہونے والی گفتگو کے ان پروگراموں میں قوم کو درپیش کئی انتہائی اہم مسائل غیر ضروری اور غیر مقبول موضوعات سمجھے گئے۔ ایسے مباحثے زیادہ تر’’ آج کی بڑی خبر‘‘ پر ہی ہوتے رہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ .... قرضوں میں جکڑے ہوئے، تعلیم صحت کے شعبوں میں انتہائی کم درجہ رکھنے والے، عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر بہت آگے رہنے والے ملک کے میڈیا میں کن خبروں کو ’’بڑی خبروں ‘‘کا درجہ دیا گیا۔
عمران کی ریحام کے ساتھ شادی پھر طلاق، بشریٰ بی بی کی اپنے شوہر سے طلاق اور عمران سے شادی، نواز شریف کی

بیماری اور لندن کے اسپتال میں ان کے دل کا علاج، کلثوم نواز کی بیماری، ان کا لندن میں علاج۔ اربوں روپے کرپشن میں مبینہ طور پر ملوث سیاست دانوں کے بیانات، سندھ اور پنجاب میں NAB اور FIAکی سرگرمیاں ، شریف خاندان پر قائم مقدمات وغیرہ جیسے موضوعات پر مشتمل خبریں ہی زیادہ تر بڑی خبروں کا درجہ پاتی رہیں۔ غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کسی غریب ماں کی خودکشی ، دو وقت کی روٹی سے محروم ننھے بچوں کے مرجھائے ہوئے چہرے، دس بارہ ہزار روپے ماہانہ کمانے والے مزدور کی بے بسی، غریب کسان کی زندگی میں روزبروز زیادہ ہوتی پریشانیوں، عورتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی خبروں کو ہمارے میڈیا اور پارلیمنٹ کے اراکین نے کسی بڑی خبر یا اہم خبر کا درجہ دیا ہی نہیں۔پاکستانی روپے کی روزبروز گرتی ہوئی قدر، پاکستان میں پانی کی قلت، بجلی کی ناکافی پیداوار اور ترسیل کی کم استعداد، آلودگی میں اضافہ، زیر زمین پانی کی سطح میں تیزی سے کمی، ملک کے ہر حصے میں بیماریوں میں اضافہ اور دیگر کئی کوتاہیاں بھی میڈیا اور ارکان پارلیمنٹ کی توجہ نہ پاسکیں۔ پولیس کو سیاسی مداخلت سے محفوظ کردینے، ملک میں خود مختار بلدیاتی نظام کے قیام پر اصرار کرتے رہنا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا۔ کئی ارکان پارلیمنٹ یا وزیر و مشیر اکثر اپنے استحقاق کے بارے میں فکر مند رہے ہیں۔ قومی خزانے سے بے تحاشا مراعات حاصل کرنا بھی اس استحقاق میں شامل ہے۔
دنیا کے مہذب ملکوں میں جھوٹ بولنا سب سے بڑی برائی سمجھی جاتی ہے۔ قانون کی خلاف ورزی تو بہت ہی مشکل ہے وہاں اخلاقی اقدار کو نظر انداز کر دینا بھی قبول نہیں ہے۔ برطانیہ میں ایک وزیر لارڈ بیٹس نے محض اس لیے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا کہ اپنی وزارت سے متعلق ایک سوال کے جواب کے لیے مقررہ وقت پر ایوان میں پہنچ نہیں پائے تھے۔ قانون کی خلاف ورزی پر وزیراعظم ہونے کے باوجود ٹونی بلیئر اور ان کی اہلیہ کو پولیس اسٹیشن میں پیش ہونا پڑا تھا۔ ہمارے وطن میں تو جھوٹ پر مبنی بیانات کو سیاسی بیانات کہہ کر ہنسی مذاق میں اُڑا یا جاتا رہا ہے۔ پاکستانی عوام اس دن کے منتظر ہیں جب یہاں قانون کی بالادستی ہوگی اور اسلامی تعلیمات اور صدیوں پر مشتمل تہذیبی ورثے سے حاصل ہونے والی اعلیٰ اخلاقیات پر عمل ہوگا۔
عام تاثر یہ ہے کہ ملک کی اشرافیہ ہو یا اس اشرافیہ میں شامل ہونے کے امیدوار سیاست دان، اپنے مفادات کی تکمیل کرتے رہنے کے لیے پاکستان میں ایڈہاک ازم برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اہل سیاست ملک کو پیش اہم ترین مسائل کے بجائے نسلی، لسانی، قبیلہ اور برادری کی وابستگیوں کو اہمیت دیتے آئے ہیں۔ سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم کی جانب سے پہلے مہاجر شناخت پر زور اور اب کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کی باتیں بھی اس طرز فکر کی آئینہ دار لگتی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ چند لیڈر لسانی سیاست یا کراچی صوبے کی باتیں زیادہ تر الیکشن کے سال میں کرتے ہیں۔ 80کی دہائی میں بننے والے ایم کیو ایم کے ووٹ بینک کی بنیادی وجہ سندھ کے شہری عوام میں پایا جانے والا احساس محرومی تھا۔ اس احساس محرومی کی چند واقعاتی وجوہات تھیں ، اسے کچھ تقویت پروپیگنڈے کے ذریعے فراہم کی گئی۔ کئی لیڈرز سمجھتے تھے کہ مہاجر نعرے کی کشش سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک برقرار رکھے گی۔ 2013ء کے انتخابات میں کراچی سے ایم کیو ایم کے مدمقابل تحریک انصاف کے حق میں پڑنے والے ووٹ نے اس یقین کو شدید دھچکا پہنچایا۔ کراچی اور حیدرآباد کے بعض حلقوں میں ایم کیو ایم کو کھلا میدان ملنے کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ مرکز اور سندھ میں برسراقتدار رہنے والی جماعتوں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے روایتی حلقوں میں اپنی اپنی جماعتوں کے لیے کبھی کوئی خاص کام نہ کیے۔ 2013-18 کے آخری دو برسوں میں مسلم لیگ کی وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے کراچی کے ترقیاتی کاموں میں کچھ دلچسپی ظاہر کی لیکن پاکستان کو سب سے زیادہ ریونیو اور ملک بھر سے آنیوالے لوگوں کو سب سے زیادہ روزگار دینے والے کراچی کو درپیش بڑے بڑے مسائل ابھی تک حکمرانوں کی توجہ کے منتظر ہیں۔ ایم کیو ایم کا میئر ہونے، سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف کی قیادت ایم کیو ایم کے پاس ہونے کے باوجود کراچی اور سندھ کے کئی شہروں میں عوام شدید مشکلات اور تکالیف میں ہیں۔ تیس سال سے کراچی کی نمائندگی کا اعزاز رکھنے والی جماعت ایم کیو ایم کو اب خالد مقبول صدیقی، فاروق ستّار اور دیگر سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں سخت انتخابی مقابلے اور ووٹرز کے چبھتے ہوئے سوالات کا سامنا ہے۔اس پس منظر میں ووٹر سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کئی فہمیدہ افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ایم کیو ایم کی طرف سے مہاجر کارڈ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ کی تقسیم نہ ہونے دینے کے نعرے دراصل صرف انتخابی نعرے ہیں۔ ان نعروںکے ذریعے دونوں جماعتیں ووٹرز کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں اور محض جذبات کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوتی رہی ہیں۔ مشاہدہ ہورہا ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کے نوجوان ووٹرز میں ایسے نعرے اپنی کشش کھو چکے ہیں۔ خود ایم کیو ایم سے وابستہ رہنے والوں کا ایک بڑا طبقہ مصطفی کمال کی پی ایس پی کے پلیٹ فارم سے مہاجر سیاست پر اصرار کو شہری علاقوں کے عوام کے لیے مضر قرار دے رہا ہے۔
سندھ کے شہری او ردیہی علاقوں میں رہنے والے کئی اصحاب دانش یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت سندھ کی تقسیم اور کراچی صوبے کے مطالبات مناسب نہیں ہیں۔ اس کے بجائے کراچی میں رہنے والے ملک کے خوش حال ترین طبقے کو سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ اندرون سندھ پائی جانے والی شدید غربت میں کمی لانے، بیماریوں کے علاج اور ناخواندگی کو علم کی روشنی میں تبدیل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ قومی اتحاد کے استحکام اور یکجہتی کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ بڑے بڑے فیصلے اتفاقِ رائے سے کیے جائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نئے صوبے بنانے کے بجائے صوبوں کے ماتحت آبادی کی بنیاد پر نئے انتظامی یونٹ بنانا موجودہ حالات میں وقت کے تقاضوں کے مطابق ایک درست فیصلہ ہوگا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں