آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناشتہ دن کا سب سے اہم کھانا تصور کیا جاتا ہے، تاہم رات کے کھانے پر چونکہ خاندان کے تمام افراد اکٹھے ہوتے ہیں اسی لئےایک دوسرے سےروزمرہ کے معاملات شیئر کرنے کا موقع ملتا ہےاور دن بھر کی پریشانی اور تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے ۔ دسترخوان پر مل بانٹ کر کھانا کھایا جاتا ہے، بعض مرتبہ تو ایک ہی پلیٹ میں دو تین افرادکھانا کھاتے ہیں، جس سے ایک دوسرے میں پیار محبت بڑھتا ہے ۔یوں رات کے کھانے کی اہمیت بھی کم نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں لوگ اپنی ثقافت کے مطابق رات کے اوقات میں دسترخوان کو مختلف کھانے کی اشیاء سے سجاتے ہیں، جن کی تفصیل قارئین کی نذر ہے۔

بھارت۔

بھارت کی 30سے 40فیصد آبادی سبزیوں کی شوقین ہے۔ وہاں ڈنر میں دالیں، سبزیاں، نان اور روٹی کھائی جاتی ہے۔ کھانا ایک بڑی تھال میں پیش کیا جاتا ہے جس میں چھوٹی چھوٹی پلیٹیں رکھی جاتی ہیں، ہر پلیٹ میں الگ الگ سالن موجود ہوتے ہیں۔ گھر کے افراد اپنی پسند کے مطابق رات کے کھانے بنواتے ہیں۔ چاولوں سے بھی مختلف ڈشز بنائی جاتی ہیں جو بھارتی عوام میں کافی مقبول ہے۔

چین۔

چائنیز ڈشزدنیا کے مقبول ترین پکوانوں میں سے ایک ہیں۔ نوڈلز، چاول اورانڈے چینی کھانوں میں سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ سی فوڈ اور گوشت کی دیگر اقسام بہت شوق سے کھائی جاتی ہیں۔ ہر طرح کے پکوان کے ہمراہ ساس، سرکہ اور چلی آئل پیش کیا جاتا ہے، تاکہ کھانے کا لطف دوبالا ہو۔

انڈونیشیا۔

کہا جاتا ہے کہ انڈونیشیا کے عوام کا پیٹ اس وقت تک نہیں بھرتا جب تک وہ چاول نہ کھالیں۔ یہاں پر چاولوں کے ہمراہ مختلف سالن پیش کئے جاتے ہیں جن کا دارومدارمقامی آبادی کے ٹیسٹ پر ہوتا ہے۔ چکن، ٹوفو اور مچھلی سے مختلف پکوان بنائے جاتے ہیں ،جن میں سبزیوں اور مصالحہ جات کا اضافہ بھی کیا جاتا ہے یہاں پر رات کے کھانے کے بعد کریکر (نمکین بسکٹس) بھی پیش کئے جاتے ہیں۔

امریکہ۔

امریکہ میں ہلکا پھلکا ڈنر کیا جاتا ہے۔ گوشت اور آلو کو برگر، چپس، فرائی چکن کی صورت میں کھایا جاتا ہے۔ جب کہ اس کے ساتھ ساتھ پسے ہوئے آلو بھی رکھے جاتے ہیں جس سے کھانے کا لطف دوبالا ہوتا ہے۔

برازیل۔

برازیل کا قومی پکوان فیجودا (Feijoada) ہے جس کا بنیادی جزو لوبیا ہے اس میں بیف شامل کر کے ڈش مکمل کی جاتی ہے۔ یہاں کے لوگ رات میں شکرقندی کھانا بھی پسند کرتے ہیں۔ کئی افراد ڈنر میں صرف کافی، ڈبل روٹی، پنیر اور گوشت کے قتلے کھاتے ہیں۔

ایران۔

ایرانی کھانوں کی تراکیب چاولوں کے اردگرد گھومتی ہیں جن میں زعفران، خوبانی اور کشمش بھی ڈالی جاتی ہے۔ یہ چاول، مچھلی، کباب اور گوشت کے سالن جن میں خشک میوہ جات کا کافی استعمال ہوتا ہے ،کے ساتھ کھائے جاتے ہیں۔ یہاں پر سوپ سے ملتی جلتی ایک ڈش آش (Aash)کھانے کے ساتھ رکھی جاتی ہے جس میں نوڈلز اور جو شامل کیے جاتی ہے۔ کئی افراد ڈنرمیں صرف ’’آش‘‘ کھانا پسند کرتے ہیں۔

اٹلی۔

اٹلی اپنے دو پکوان پاستا اور پیزا کی وجہ سے کافی مقبول ہے، گوشت، سبزیوں اور مچھلیوں کے مختلف پکوان بھی شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ اینٹی پاستو (Antipasto)کھانے سے پہلے کھایا جاتا ہے جو کہ مختلف سبزیوں اور پھلوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کونٹورنو (Contorno) یعنی سبزیوں کے پلیڑ کوپاستا، سوپ، چاول اور پولینتا (Polenta) کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

جمیکا۔

جمیکاکےپکوان پر اسپین، برطانیہ، افریقہ، بھارت اور چین کے کھانوں کے اثرات ہیں۔ وہاںڈنر میں چاول ضرور کھائے جاتے ہیں جن کے ہمراہ مٹر پکائے جاتے ہیں۔ اکیی (Ackee)اور سالٹ فش (Saltfish)ایک مقبول کھانا ہے جو ناشتے اور ڈنر دونوں میں کھایا جاتا ہے۔ اس میں چاول، مٹر، ڈبل روٹی، کیلا، حلوہ اور سبز ابلے ہوئے کیلے رکھے جاتے ہیں۔ ان سب کے ساتھ مختلف مصالحے رکھے جاتے ہیں۔

روس۔

روس میں اگرچہ دوپہر کے کھانے کو ڈنر پر فوقیت دی جاتی ہے تاہم رات کے کھانے میں بھی لذیذ پکوان شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ رات میں ایپی ٹائیزر یعنی اشتہاآور کھانوں کے ساتھ آلو، گوشت یا مچھلی پیش کی جاتی ہے۔

ڈرینیکی (Draniki)، پیلیمی (Pelemy) (ایک ڈش جس میں گوشت کے ٹکڑے معدے سے ڈھکے ہوتے ہیں) زرکوئی (Zharkoye)(ایک ڈش جس میں ابلا ہوا گوشت سبزیوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے)وہاں کے پسندیدہ ترین پکوان ہیں۔

جاپانی کھانے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں جاپانی کھانے عرصہ دراز سے مقبول ہیں۔ دنیا کے ہر ریسٹورانٹ کی فہرست میں جاپانی کھانے ضرور شامل ہوتے ہیں۔ جاپانی ڈنر، سوپ اور چاولوں کے ہمراہ تین ڈشز پر مشتمل ہوتا ہے۔مین ڈشزمیں ٹیمپورہ (Tempura)گرلڈ فش، برگر سٹیک زیادہ اہم ہیں۔ دوسری ڈشز میں سبزیوں کے پکوان ،سلاد اور ابلی ہوئی سادہ ویجیٹیبلز شامل ہیں۔ ہر کھانا الگ ڈش میں پیش کیا جاتا ہے۔ جاپانی دستر خوان میں کھانوں کی کئی اقسام رکھنے کے عادی ہیں۔ اگر ایک ڈش تلی ہوئی ہے تو دوسری ابلی ، سرکے میں گھلی ہوئی یا گرلڈ ہوسکتی ہے۔ جاپان کی ڈشز کئی اقسام کی ہوتی ہیں جو مختلف سائز، ساخت اورکھانےکی اشیاء سے بنی ہوتی ہیں۔

دنیا میں کھائی جانے والی مشہور ڈشز کی تراکیب قارئین کی نذر ہیں۔

سوبورورائس

اجزاء۔

سوشی چاول(ابال لیں)۔ تین کپ

مچھلی کے قتلے ۔دو عدد

انڈے۔ تین عدد

ہری پیاز (ہرا حصہ) ۔ایک کپ

یخنی۔ ایک کپ

کھیرا۔ دو عدد (چھلکا اور بیج نکال کر لمبے ٹکڑے کاٹ لیں)

سرکہ۔ دو کھانے کے چمچ

سویا سوس۔ ایک کھانے کا چمچ

شکر ۔تین چائے کے چمچ

لال اور ہری شملہ مرچ۔ایک عدد

تیل۔ حسب ضرورت

ترکیب ۔

سوس پین میں تیل گرم کریں ،مچھلی کے سلائس ڈال کر فرائی کرلیں۔

اب اس میں یخنی،سرکہ، سویا سوس اوردوچائے کے چمچ شکر ڈال کر پکائیں۔

اس میں ہری پیاز اور شملہ مرچیں ڈال کر پکائیں۔

کھیرا، شکر اور انڈے ڈال کرمکس کر لیں اور کھیرے کی رنگت تبدیل ہونے اور اس کے نرم ہونے تک پکائیں۔

سرونگ ڈش میں پکے ہوئے سوشی چاول خوبصورتی سے سیٹ کر کے اس میں تیار کیا ہوا آمیزہ ڈال کر گرم گرم سرو کر یں۔

چائنیز مکس ویجی ٹیبل

اجزاء۔

چکن (بون لیس)۔ 250گرام

نمک ۔حسب ذائقہ

کالی مرچ ۔آدھا کھانے کا چمچ

سفید مرچ ۔آدھا کھانے کا چمچ

سویا ساس، چائنیز سالٹ۔ دوکھانے کے چمچ

سرکہ۔ دوکھانے کے چمچ

گاجر۔ 250 گرام

شملہ مرچ۔ 250 گرام

پھول گوبھی۔ 250 گرام

آلو۔آدھا کلوگرام

ہری مرچ۔دو عدد

لہسن ۔تین جوے

ادرک۔آدھا چائے کا چمچ

تیل۔آدھا کپ

ترکیب ۔

سب سے پہلے چکن میں تھوڑا سا نمک ،لہسن ادرک اور اتنا پانی ڈال کر ابالیں کہ چکن گلنے کے ساتھ ہی پانی بھی خشک ہو جائے۔

تمام سبزیاں لمبائی کے رخ کاٹ لیں۔ اسی دوران ان میں نمک، چائنیز سالٹ ، سویا سوس، کالی اور سفید مرچیں اور سرکہ بھی شامل کر دیں۔

آخر میں فرائی کیا ہوا چکن شامل کر کے کچھ دیر کے لئے دم پر رکھ دیں۔

پھر دوسرے پین میں تیل گرم کرکے اسے ہلکی آنچ پر فرائی کرلیں۔

گاجر اور آلو سخت ہوتے ہیں لہٰذا انہیں ابال کر تھوڑا سا نرم کرنے کے بعد تمام سبزیوں کے ساتھ فرائی کر لیں۔

ایرانی مکھن چاول چکن

اجزاء۔

مکھن چکن تیار کرنے کے لیے۔

مرغی۔ آدھا کلوگرام(بون لیس)

پیاز۔ ایک عدد

مایونیز ۔تین چائے کے چمچ

سرکہ ۔تین چائے کے چمچ

تازہ مکھن ۔دو چائے کے چمچ

زعفران ایسنس۔ آدھا چائے کا چمچ

سفید زیرہ اور دار چینی پائوڈر۔دو چائے کے چمچ

سفید مرچ پائوڈر ۔دو چائے کے چمچ

لہسن ۔حسب ذائقہ

کالی مرچ پائوڈر۔ ایک چائے کا چمچ

سبزی کے لیے۔

سرخ ٹماٹر۔دو عدد

پیاز۔ ایک عدد

آلو۔ ایک عدد

شملہ مرچ ۔تین عدد

کالی مرچ ۔تین کھانے کے چمچ

نمک۔ حسب ذائقہ

چاول کے لیے۔

چاول۔ 500 گرام (فرائی کرلیں )

تازہ مکھن۔ 300 گرام

ترکیب۔

ایک برتن میں چکن کو مکھن، مایونیز اور تمام چیزوں میں ملاکر اس وقت تک پکائیں جب تک وہ ہلکا سرخ نہیں ہوجاتا، خیال رہے کہ بوٹیاں زیادہ سرخ نہ ہونے پائیں۔

صرف بوٹیوں کو نکال کر بار بی کیو کی طرح مکھن یا تیل کے ساتھ ہلکا سا تل لیں۔

آخر میں بوٹیوں کو اجزاء سے ملالیں۔

سبزی بھی اسی طرح ایک الگ برتن میں تیار کریں ۔

ایک علیٰحدہ برتن میں چاول کو مکھن کے ساتھ پکائیں۔

جب تمام چیزیں تیار ہوجائیں تو الگ الگ پلیٹوں میں چاول، چکن اور سبزی نکال کر نوش فرمائیں۔

اگر اس ڈش کو مزید لذیذ بنانا چاہیں تو ایک عدد سرخ میٹھے انار کے دانے بھی مکھن چکن چاول کے ساتھ ملالیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں