آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہم خواب دیکھتے ہیں‘ اچھے خواب بھی اور بُرے بھی… لیکن یہ خواب جب تک بیان نہ کئے جائیں اس طرح ہوتے ہیں جیسے پرندے کے پنجوں میں شکار ہو۔ جب خواب بیان کر دیا جاتا ہے تو یہ وقوع پذیر ہوجاتا ہے۔ اب اس کی جیسی تعبیر دے دی جائے تو ویسا ہی ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ خواب کسی سمجھدار شخص کو سنانا چاہئے اور بُرے خواب کا کسی سے تذکرہ نہ کیا جائے تو بہتر ہے۔
ہماری اس زندگی کے واقعات بھی خواب کی مانند ہیں۔ امام غزالی نے ایک حدیث مبارک اپنی تصنیف ’کیمیائے سعادت‘ میں لکھی ہے جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابھی سب سورہے ہیں جب مرجائیں گے تب جاگیں گے“۔ ہماری اس زندگی میں ہر روز اچھے اور بُرے بے شمار واقعات ہوتے ہیں اور ہم ان واقعات کو سب سے بیان بھی کرتے ہیں۔ کبھی کوئی واقعہ انوکھا ہو تو ہم اس کی شرح بھی کرتے ہیں یا کسی سے اس کے بارے میں پوچھتے ہیں لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ بُرے واقعات پیش آنے پر ہم اُن واقعات کو باربار دہراتے رہتے ہیں اور ہم سے اگر کوئی بُری بات کہہ دے یا ہمارے ساتھ کوئی بُرا واقعہ پیش آجائے تو ہم اس کا ذکر باربار کرکے اس واقعے کو پہلے اپنے ذہن میں بسا لیتے ہیں اور پھر اپنی زندگی کا بوجھ بنالیتے ہیں۔
اگر معاشرے کی برائیوں کا تذکرہ باربار کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس

برائی کو اِنرجائز کررہے ہیں۔ اس طرح یہ برائی پھیلتی جائے گی اور اس کے اثرات گہرے ہوتے چلے جائیں گے۔ زندگی میں جب بھی کوئی منفی واقعہ پیش آجائے ‘ کوئی آپ سے بُری بات کہہ دے یا کوئی شخص کسی قسم کی منفی حرکت کردے، تو اس واقعے کو ایک اچھی تعبیر دے دیں۔ عام طور پر خواب کی تعبیر اُلٹی دی جاتی ہے اور بُرے خوابوں کی اچھی تعبیر نکالی جاتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی منفی واقعہ پیش آجائے تو اس کو بھی مثبت میں تبدیل کر دیں پھر یہ ویسا ہی ہوجائے گا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایران کے بادشاہ خسرو پرویز کو ایک خط بھیجا جس میں اسے اسلام کی دعوت دی گئی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفیر خط لے کر ایرانی بادشاہ کے دربار میں پہنچا اور اسے خط دیا تو اس نے خط پڑھ کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھینک دیا اور کہا کہ اس سفیر کو مٹھی بھر خاک دے دو کہ وہ یہ خاک خط بھیجنے والے کو پہنچا دے۔ سفیر واپس مدینہ منورہ آیا اور ایرانی دربار کی روداد سنائی تو تمام صحابہ کرام آزردہ ہوگئے لیکن حضور اکرم نے فرمایا”مبارک ہو! اس کی سلطنت ٹکرے ٹکرے ہوگئی اور اس نے اپنی زمین تمہیں دے دی ہے۔ اب تم ایران فتح کرو گے اور خسروپرویز کے کنگن سراقہ پہنے گا“۔ اور پھر ایسا ہی ہوا خسرو پرویز کی سلطنت ٹوٹ گئی، ایران فتح ہوا۔ خسرو پرویز مارا گیا اور اس کے کنگن سراقہ کو دیئے گئے۔ قیام مکہ کے دوران میں ایک مرتبہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام میں گئے اور خانہ کعبہ کے کلید بردار سے خانہ کعبہ کا تالا کھولنے کا فرمایا لیکن اس نے صاف انکار کردیا۔ آپ نے اس پر غصہ کیا، نہ احتجاج کیا اور نہ ہی کسی سے شکایت کی بلکہ آپ نے اس انکار کو مثبت رُخ دیا اور فرمایا”ایک دن آئے گا کہ تو یہ چابیاں مجھے پیش کرے گا اور میں جسے چاہوں گا دے دوں گا“ اور پھر فتح مکہ کے موقع پر بالکل ایسا ہی ہوا، اس شخص نے خانہ کعبہ کی چابیاں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں۔کبھی ہمارے ہاں بھی منفی باتوں کو مثبت روپ دینے کا رواج تھا۔ اگر دوا کی شیشی ہاتھ سے گرگئی تو اس پر رونے پیٹنے کے بجائے کہا جاتا تھا” لو بھئی !مبارک ہو،اب شفا ہو جائے گی۔ اب دوا کی ضرورت نہیں ہوگی“۔ بچہ گر گیا ، تو کہا جاتا تھا ”بسم اللہ! اب ماشااللہ بچہ چلنے لگے گا“۔
آج ہمارے ہاں منفی رویّے بہت، غلط اقدام عام،کرپشن حد سے زیادہ، جرائم بے شمار، لوٹ مار بے اندازہ۔ لیکن ہم ہر منفی واقعے کو اسی طرح بیان کئے چلے جاتے ہیں۔ اس پر کڑھتے بھی ہیں، باربار اس کا تذکرہ بھی کرتے ہیں، ان منفی واقعات کو مثبت میں نہیں بدلتے، ان کو اچھی تعبیر نہیں دیتے۔ یہاں کوئی کہہ سکتا ہے کہ”ہمارے کہنے سے کیا ہوگا“۔ ایسے صاحب کی خدمت میں میری گزارش ہوگی کہ کہنے ہی سے سب کچھ ہوتا ہے۔ آپ کے بولے ہوئے لفظ اس کائنات میں ایک طاقت رکھتے ہیں۔ ان الفاظ کا ارتعاش کائنات کی لہروں پر ایک پیغام لے کر چلتا ہے اور پھر تقدیریں رقم ہوتی ہیں۔ یاد رکھیے! پہلے ہم کہیں گے‘ اس کے بعد عمل کا مرحلہ شروع ہوگا۔ ہمارے الفاظ نئی تقدیر ‘ تحریر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان سے کئی بار کہا ہے”قل“ یعنی کہو… اور انسان جیسا کہتا ہے‘دنیا میں ویسا ہونے لگتا ہے۔
آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم ہر جگہ اپنی حالتِ زار کا صرف رونا رورہے ہیں۔”دیکھو جی! حکومت لوٹ کر کھائے جارہی ہے“۔”توبہ توبہ لاقانونیت کتنی بڑھ گئی ہے“۔”ارے بھئی ! اب تو ٹارگٹ کلنگ روز کا معمول بن گئی ہے!!!“۔”بھتہ خوری تو اب وبا کی طرح پھیل گئی!“۔” پاکستان کا سرمایہ باہر جارہا ہے“۔ اس طرح کی باتوں سے اخبار بھی بھرے ہوتے ہیں۔ چینلز پر یہی باتیں ہوتی ہیں اور نجی محفلوں میں بھی ان کا تذکرہ ہوتا ہے۔ ہم ایک رو میں بہتے چلے جارہے ہیں۔ بدی، بُرائی اور منفی چیزوں کا تذکرہ عام کرکے ہم اپنی فضاؤں کو اس کے ارتعاش سے بوجھل کئے جارہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ہر بُرے واقعے کو اسی طرح مثبت رنگ دے دیں جیسے ایک زمانے میں ہم کیمرے سے تصویریں کھینچ کر فلم کا ’نیگیٹو‘ فوٹوگرافر کو دیتے تھے اور وہ اس کالے ’نیگیٹو‘ کا ’پازیٹو‘ بناکر رنگین تصویر کی صورت میں ہمیں دے دیا کرتا تھا۔ ایک مریض اگر ہمہ وقت اپنی بیماری کے بارے میں سوچتا رہے گا تو ہمیشہ بیمار رہے گا۔ جب وہ اپنی صحت مندی اور شفا کی باتیں کرنے لگے گا تب شفا اس کی زندگی میں داخل ہوگی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں زندگی میں ہونے والا واقعہ جیسا دیکھو ویسا ہی بیان کرو لیکن ایسا کرتے رہنے سے بُرا واقعہ جڑ پکڑتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس ہماری تعلیم میں ہے کہ بُری بات اور بُرے عمل کا تذکرہ نہ کیا جائے، اسے مت پھیلاؤ۔لیکن ہمارے ہاں بری چیزوں پر تبصرے اور تذکرے عام ہیں۔ ایسے جملے عام ملتے ہیں “یہ بہت بُری حکومت ہے“ ”بہت ظالم حکمران ہیں“۔”بہت کرپٹ حکمران ہیں“۔ ماضی میں دیکھئے ہم یہی کہتے رہے۔ پھر وہ حکمران چلا گیا لیکن اس کے بعد جو آیا وہ بھی ویسا ہی تھا یا اس سے بھی بُرا نکلا۔ اس لئے ہم بُری حکومت‘ ظالم حکمران اور کرپٹ حکمران کو اِنرجائز کررہے تھے، ایسا کئی بار ہوا ہے کیونکہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ”اب ظلم کی انتہا ہوگئی اور اب کوئی اچھا آدمی آئے گا“۔ ”اب کرپشن کا اندھیرا اتنا بڑھ گیا ہے کہ اُجالاہونے والا ہے“۔ ”اب برائی کی رات میں سے اچھائی کا سورج طلوع ہونے کا وقت آگیا ہے“۔ ابھی پچھلے دنوں ایک لیڈر کا ٹیلی وژن انٹرویو ہورہا تھا ۔ ان سے سوال ہوا کہ کراچی میں قتل وغارت گری پر آپ کا تبصرہ کیا ہے تو انہوں نے ان واقعات کی تعبیر اس طرح کی”ابھی تو یہ ٹریلر ہے،اس کی فلم اس سے زیادہ ہولناک ہوگی“۔حالانکہ وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ”کراچی اب اپنی اصلی حالت پر لوٹنے والا ہے اور یہ ایک بار پھر امن و سلامتی کا شہر بن جائے گا“۔ ٹی وی کے ایک اور شو میں ایک صاحب سے پوچھا گیا بلوچستان کی صورت حال کیسے تبدیل ہو سکتی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا ”مشرقی پاکستان میں بھی ایسا ہی ہوا تھا ہم بلوچستان کو مشرقی پاکستان بناتے جارہے ہیں“۔ حالانکہ وہ صاحب یہ بھی کہہ سکتے تھے”ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ بااختیار لوگوں کو جلد ہوش آجائے گا اور بلوچستان پاکستان کی طاقت بن کر سامنے آئے گا“۔
تبدیلی کی خواہش پاکستانی عوام کے دلوں میں موجزن ہے جو کچھ ہورہا ہے سب اس سے نالاں ہیں۔اس پر کڑھ بھی رہے ہیں اور اسے بُرا بھی کہہ رہے ہیں لیکن وہ اس برائی کے اس قدر زیر اثر آگئے کہ اس نیگیٹو عمل کو پازیٹو میں نہیں بدل رہے۔ اگر آپ پاکستان میں تبدیلی لانا چاہ رہے ہیں تو اچھی تبدیلی کی باتیں کرنا ہوں گی۔ ہم اچھی باتیں کرنے لگیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کے الفاظ کی طاقت کس طرح تبدیلیاں لاتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں