آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ایشین گیمز، پاکستانی دستے سے کسی میڈل کی توقع ہے

آصف ڈار

ایشیائی کھیلوں کے لیے 500کے لگ بھگ کھلاڑی پاکستان کے مختلف شہروں میں لگائے گئے ٹریننگ کیمپس میں تربیت حاصل کر رہے ہیں،متعلقہ فیڈریشن مختلف مرحلوں میں کھلاڑیوں کے ٹرائل لے کر جولائی کے آخر تک حتمی ٹیمیں منتخب کریںگی اور یوں پاکستان کا 398رکنی دستہ مکمل ہو جائیگا۔ چور دروازے سے داخل ہونے والوں کی تعداد کو بھی شامل کیا جائے تو یہ دستہ400 سے تجاوز کر جائیگا۔پاکستانی کھیلوں اور کھلاڑیوں کی گزشتہ گیمز اوردیگر بین الاقوامی مقابلوں میں ہونیوالی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو 400 سے اوپر دستہ کی ممکنہ پوزیشن حوصلہ شکن نظر آتی ہے۔

گزشتہ کھیلوں میں پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم نے ملک کا واحد گولڈ میڈل جیتا تھا۔ ہاکی نے واحد سلور اور باکسنگ، کبڈی اور ووشو نے ایک ایک برائونز میڈل جیتا تھا۔ باقی250 کے قریب کھلاڑی اور آفیشلز صرف سیروسیاحت کے مزے لے کر واپس آئے تھے۔ ان حالات میں قابل ذکر گیمز ہاکی، کبڈی اور ایک آدھ انفردی کھیل رہ جاتے ہیں پہلے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔ہاکی فیڈریشن کا کئی برس سے قومی حکومتوں سے قریبی تعلق رہا ہے۔ قاسم ضیاء کی پیپلز پارٹی اور اختر رسول وسجاد کھوکھر کی نواز لیگ سے تعلق داری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔اس تعلق داری اور رشتہ داری سے ہاکی فیڈریشن پر پیسے کی لگاتار بارش ہوتی رہی ہے۔ قومی ہاکی ٹیم غیر ملکی کوچوں کے زیر تربیت رہ کر کامن ویلتھ کھیلوں میں حصہ لے کر بری طرح پٹی۔ اس ٹریننگ اور تجربہ کے بعد ٹیم نے 4غیر ملکی کوچوں کے زیر سایہ ہالینڈ میں ایک ماہ کیلئے تیاری کرنے کے بعد بڑے بڑے بیانات کے بعدآخری چیمپئنز ٹرافی کھیلی، جہاں اس کی کارکردگی سوائے ایک میچ کے انتہائی مایوس کن رہی اور ٹیم6ٹیموں میں چھٹی پوزیشن حاصل کر سکی۔

گو ایشین گیمز کا ہاکی مقابلہ چیمپئن ٹرافی سے آسان ہوگا لیکن بھارت ، کوریا، ملائیشیا اور جاپان پوڈیم کیلئے پورا پورا مقابلہ کرینگے۔ اس حالت میں پوڈیم تک جانا توممکن نظر آتا ہے لیکن اس پر جگہ کا تعین کرنا کافی مشکل ہوگا۔ہاکی کی طرح کبڈی کا بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ سیاسی حکومتوں سے تعلق رہا ہے۔کبڈی40 برس سے چودھری ظہور الٰہی فیملی کے پاس ہے، پہلے چودھری ظہور خود صدر رہے جن کے بعد صدارت چودھری شجاعت کے ہاتھ آئی۔ چودھری پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ بننے پر صدارت ان کے سپرد کر دی گئی اور پھرواپس چودھری شجاعت سے ہوتی ہوئی آج کل ان کے بیٹے کے پاس پہنچ چکی ہے۔ 

چودھری فیملی حکومت میں رہے یا نہ انہوں نے کبڈی پرحکومتی نوازشوں میں کمی نہیں آنے دی۔انہیں نوازشوں کی وجہ سے کرکٹ کے بعد کبڈی فیڈریشن سپر لیگ کروانے والی دوسری تنظیم بن گئی چودھری صاحبان کبڈی پر بہت مہربانیاں کرتے رہے لیکن کبڈی سے ناواقفیت کی وجہ سے کبڈی چلانے والوں کی من مانیاں نہ روک سکے انہیں من مانیوں کی وجہ سے کروڑوں خرچ کرکے سپر کبڈی لیگ پاکستان کبڈی کو کچھ نہ دے پائی ایک ٹی وی پروگرام میں سپر لیگ کروانے والے جب میرے ساتھ بیٹھ کر سپر لیگ کی ہوائیں باندھ رہے تھے تو میں نے انہیں انتظار کرنے کو کہا تھا کیونکہ میرے خیال میں باہر سے جو کھلاڑی بلا کر لیگ کو سرخی پائوڈر لگانے کی کوشش کی گئی تھی اس میں لیگ کا میک اپ تو ٹھیک ہوگیا تھا لیکن پاکستان لیگ کو اس کا فائدہ ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا نتیجتاً دوبئی ماسٹرز میں دو مرتبہ بھارت اور ایک بار ایران نے ہمیں عبرتناک شکست دے کر کبڈی کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔کبڈی کبھی تین ملکوں بنگلہ دیش پاکستان اور بھارت کا کھیل تھا ابھی بنگلہ دیش آئوٹ اور ایران ان ہیں۔ 

چار ٹیموں میں کبڈی کے قانون کے مطابق پاکستان میڈل لازماًحاصل کرے گا جو کہ اس وقت نظر آ رہا ہے کبڈی ٹیم اس سے اوپر جانے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ صلاحیت سے فائدہ اٹھانے والوں میں بھی صلاحیت ہونی چاہئے۔گزشتہ گیمز میں سکواش کے کھلاڑیوں میں میڈل جیتنے کی صلاحیت موجود تھی لیکن اس سے فائدہ ٹھانے والے بے صلاحیت تھے لہٰذا ٹیم میڈل کے بغیر واپس آئی۔ صلاحیت اس بار بھی ہے۔ ہاکی کبڈی اورسکواش کے علاوہ اگر کوئی انفرادی میڈل آیا تو ان کھلاڑیوں اور ان کے والدین کی وجہ سے ہوگا کیونکہ باقی فیڈریشنوں کےنہ کھلاڑیوں میں کوئی دم نظر آ رہا ہے نہ فیڈریشنوںپرسالہاسال سے چمٹے ہوئے عہدے داروں میں۔کئی عرصوں سے روایت بن چکی ہے کہ میڈیا اور کھیلوں کی تنظیمیں چلانے والے عہدیداران اپنے حصہ کی پرفارمنس کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ 

پاکستان سپورٹس سے برسوں سے چمٹے ہوئے عہدیداروں سے میں گزارش کروں گا کہ وہ 400 سے زیادہ کھلاڑیوں آفیشلز کی اگلے ایشین کھیلوں کے بارے میں کوئی پیشین گوئی کردیں۔ٹیکس دہندگان اور کھلاڑیوں کے شائقین کی درخواست ان کی خدمت میں پیش ہے کہ 400 سے زیادہ افراد کے حصہ کی پرفارمنس اور جواز پر قوم کو اعتماد میں لینے کی روایت ڈالیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں