آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سعودی عرب اور کینیڈا کا سفارتی تنازع

سعودی عرب میں گزشتہ ہفتے خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی سماجی کارکن ثمر بداوی کو گرفتار کیا گیا تو کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس خاتون کی گرفتاری پر کینیڈا اپنے ردعمل کا اظہار کرے گا اور پھر سعودی عرب کینیڈا کے سفیر کو ملک بدر کردے گا۔

ثمربداوی جن کا نام بعض اخبارات ثمر بدوی بھی لکھ رہے ہیں، ایک غیرمعمولی سعودی خاتون ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے سعودی عرب کے اس قانون کے خلاف آواز اٹھائی جس کے تحت ہر عورت کے لیے ایک مرد نگر ا ں یا سرپرست کا ہونا ضروری ہے جس کی مرضی کے بغیر وہ بہت سے کام نہیں کرسکتی۔ غیرشادی شدہ ہونے کی صو ر ت میں والد کو نگراںکا درجہ حاصل ہے۔اس قانون کے تحت عورت خواہ جتنی بھی عمر کی ہو وہ بعض کاموں کے سلسلے میں نگراں، یعنی والد یا شوہر، سے اجازت نہ لے تو سعودی قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوتی ہے۔تاہم مذکورہ قانون میںیہ سہولت ضرور موجود ہے کہ اگر کوئی نگراں غیرضروری طورپرپریشان کرے تو اس کے خلاف شکا یت کی جاسکتی ہے۔ شادی شدہ ہونے کی صورت میں شوہرسے خلع لے لیا جاتا ہے اور والد کی نگرانی میں ہونے کی صورت میں چچا یا ماموں کو نگراں بنادیا جاتا ہے۔

ثمر بداوی کا دعویٰ تھا کہ ان کے والد نے پندرہ سال تک انہیں بدسلوکی کا نشانہ بنایا ۔انہیں مرضی کی شادی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ انہوں نےوالد کے خلاف شکایت درج کرائی تو الٹاانہیں 2010ء میں قا نو ن کی خلاف ورزی پر سزا سنادی گئی۔ وہ چھ ماہ جیل میں رہنے کے بعد رہا ہوئیں تو ان کا نگراں بدل دیا گیااورانہیں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ پھر انہوں نے خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی کے خلاف مہم چلانا شروع کردی۔ وہ بار بار گاڑی چلا کر سعودی قا نو ن کی خلاف ورزی کرتی رہیں اور بار بار انہیں تھانے کچہر ی کا منہ دیکھنا پڑا۔ پھر ان کے ساتھ ایک اور خاتون منال الشریف بھی مل گئیں۔ 2012ء میں انہیں انسانی حقوق کے لیے کام کرنےپر بین الاقوامی ایوارڈملناشروع ہو گئے جس کی ابتدا امریکا نے کی اور اس وقت کی خاتونِ اول، مشیل اوباما نے ہلیری کلنٹن کے ساتھ ثمر بدوی کو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے پر ایوارڈ دیا تھا۔ 2014ء میں جینیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی ایک کانفرنس میں انہوں نے شرکت کی اور سعودی عرب کے علاوہ بحرین اور دیگر عرب ممالک میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آواز بلند کی۔

ان کے سابق شوہر ولید ابوالخیر بھی نہ صرف ایک وکیل ہیں بلکہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کے ایک اور بڑے علم بردار ہیں۔ ان پر سعودی حکومت نے دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمے چلائے اور 2014ء میں ولید کو پندرہ سال قیداور دو لاکھ ریال جرما نے کی سزا سنائی گئی ۔ سزا سنائے جانے سے پہلے ولید نے ثمر بداوی کا مقدمہ بھی لڑا تھا اور پھر ان سےشادی کرلی تھی۔ مگر صرف ایک بچی کی ولادت کے بعد ان میں طلاق ہوگئی تھی۔

سعودی عرب اور کینیڈا کا سفارتی تنازع

ویسے تووہ کئی بین الاقوامی کانفرنسز میں شرکت کرچکی ہیں، لیکن موخرالذکر کانفرنس میں شرکت کرنےکے بعد وہ وطن واپس آئیںتو پھر انہیں ملک سے باہر جانے نہیں دیا گیا۔ 2016ء میں انہیں ان کی دوسالہ بچی کے ساتھ گر فتا ر کرلیا گیا، مگر کچھ عرصے بعد رہا کردیا گیاتھا۔ گزشتہ ماہ کی تیس تاریخ کو انہیں پھر گرفتار کیا گیاتو کینیڈا نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا۔اس کے رد عمل کے طورپر سعودی عرب نے کینیڈا پر ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کا الزام عاید کرکے کینیڈا کے سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ اس کے علاوہ کینیڈا سے سعودی سفیرکو واپس بلالیا گیا ہے ۔ سعودی عرب کا کہنا ہےکہ وہ کینیڈا کے ساتھ تمام نئے تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے بھی روک رہا ہے۔

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب امریکا ثمر بداوی کو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے پر ا یو ا ر ڈ دیتا ہےتوسعودی عرب اس پر کچھ نہیں کہتا۔اس طرح امریکا کی سعودی عرب سے دوستی کا فائدہ امریکا کو بہت ہوتا ہے۔ اربوں ڈالرز کے ہتھیار سعودی عرب کو فروخت کیے جاتےہیں۔

سعودی وزارت خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں یہ واضح کیا ہے کہ سعودی عرب اپنے داخلی معاملات میں کسی ملک کی مداخلت یا احکام کو برداشت نہیں کرے گا ۔اب یہ علیحدہ بات ہے کہ سعودی عرب میں امریکی افواج موجود رہ سکتی ہیں،سعودی جدید ترین ٹیکنالوجی،جدید دورکے تما م آلات اورسہولتیں استعمال کرسکتے ہیں، لیکن جب انسانی حقوق کی بات آئے تو وہاں کوئی مداخلت برداشت نہیں کی جاسکتی۔

دوسری طرف کینیڈا نے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب خواتین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو فوری رہا کر ے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے نئے ولی عہد محمد بن سلمان ایک طرف تواپنے ملک کے قدامت پسند معاشرے کو ترقی پسند بنانا چاہتے ہیں اور خواتین کو گا ڑی چلانے کی اجازت بھی دے چکے ہیں، مگر ساتھ ہی وہ انسانی حقوق کے بارے میںمزید کچھ سننے کو تیار نہیں ہیں ۔

اس ضمن میں ایک اور پہلومد نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔آج کل امریکا اور کینیڈاکے درمیان تعلقات ٹھیک نہیں ہیں اور ٹرمپ کی کینیڈا کے وزیراعظم سے تکرار بھی ہوچکی ہے۔ امریکاکے کینیڈا کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے پر نظرثانی کا کام بھی شروع ہو چکاہے۔ ایسے میں سعودی عرب اور کینیڈا کے تعلقات کی خرابی کے پیچھے امریکا کے مفادات کا بھی دخل معلوم ہوتا ہے۔ ورنہ اگر صرف انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے کی بات ہو تی تو سعودی عرب نے امریکا کے سفیر کو اس وقت نکال دیا ہوتا جب امریکا میں ثمر بداوی کو ایوارڈ دیا گیا تھا اور وہ بھی خواتین کے اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے کے صلے میں۔ اس طرح سعودی عرب کی پالیسی امریکا کے لیے کچھ اور ہے اور کینیڈا کے لیے کچھ اور۔

ثمر بداوی کے علاوہ منال الشریف کو بھی 2011ء میں گاڑی چلانے کےجرم میں سزا ہوئی تھی۔ان کے ساتھ سات دیگر خواتین کو بھی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرمیاں کرنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ان تمام خواتین پر غداری کے الزامات بھی لگائے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ وہ غیرملکی قوتوں کے لیے کام کررہی ہیں۔ سعودی عرب کے علاوہ ایران میں بھی جب کبھی حقوق کےلیے جدوجہدکی جاتی ہے تو اسے غداری کے زمرے میں ڈال دیا جاتا ہے اور غیرملکی ایجنٹ ہونے کا الزام تو خود ہمارے ملک میں بھی بہت آسانی سے لگادیا جاتا ہے۔

سعودی عرب اور ایران کے علاوہ تقریباً تمام اسلامی ممالک اس وقت دنیا کے دھارے سے کٹے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔وہ ایک طرف تو جدید ترین سائنس اور ٹیکنالوجی کے فواید حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگردوسری طرف اپنے عوام کو ریاستی جبر کے تحت رکھنا چاہتے ہیں۔کسی بھی ا سلا می ملک میںہمیں جمہوری نظام پنپتا دکھائی نہیں دیتا۔ ا نڈ و نیشا،پاکستان اور بنگلا دیش سے لے کر مصر، ترکی اور ا یر ا ن تک سب کسی نہ کسی طرح کی آمریت یا آمرانہ جمہو ر یت کا شکار ہیں۔ انتخاب تو ترکی ، ایران اور پاکستان، سب میں ہوتے ہیں، مگر کہیں ولایت فقیہ کے نام پر اور کہیں قومی سلامتی کے نام پر۔ اور کہیں کرد علیحدگی پسندوں اور گولن تحریک کے نام پر جمہوریت کا قلع قمع کردیا جاتا ہے یا ایسے انتخابات کرائے جاتے ہیں جنہیںشفاف قر ا ر نہیں دیا جاسکتا ۔ سعودی عرب میں تو اعلانیہ بادشاہت ہے جہاں جمہوریت کا دعویٰ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مگر امریکا کے سہارے خلیج کی بادشاہتیں کب تک قرون وسطی کانظام حکومت چلاسکیں گی ؟ اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں