آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تنقیدی و منطقی سوچ بڑھانے کے 6مراحل

انسان کو حیوانوں پر ناقدانہ و بصیرت افروز سوچ اور شعور و ادراک کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے۔ اس کی بدولت وہ مسائل کا حل غور وخوض، تفکر اور حکمت عملی سے نکالتے ہوئےاپنی دانش مندی کا ثبوت دیتا ہے، اس لیے اسے حیوانِ ناطق (Logical Animal) بھی کہا جاتا ہے۔ اسی ناقدانہ اور منفرد انداز سے سوچنے کی صلاحیت کے باعث وہ تمام انواع کے مابین اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہے۔

اسی آزاد اور منفرد سوچ سے بصیرت و عقل کے شگوفے پھوٹتے ہیں، جس کی اہمیت دورانِ تعلیم سوا ہوجاتی ہے کہ بصیرت افروز خیالات سے ہی نئی ایجادات و اختراعات عدم سے وجود میں آتی ہیں اور اس پر غورو خوض کرنے والوں کے لیے قدرت کی کئی نشانیاں ہیں۔ ناقدانہ سوچ کا استعمال دانش مندی سے چیزوں کے تصور، جائزے، تجزیے اور انہیں حقیقت کے روپ میں لانے کا عمل ہے جس میں مشاہدہ، تجربہ اور نتائج اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حاصل معلومات کی روشنی میں ہمارا ناقد ذہن منطقی اقدام کے ذریعے متعین کردہ نتیجے پر پہنچتا ہے، جس کے چھ مراحل ہیں۔

1۔علم ومعلومات(Knowledge)

2۔فہم و ادراک اور جامعیت (Comprehension)

3۔اطلاق(Application)

4۔تجزیہ(Analyze)

5۔ترکیب و تالیف(Synthesis)

6۔عمل درآمد(Action)

ان چھ مراحل سے گزر کر ہی ایجاد و ٹیکنالوجی اور فلسفیانہ و ناقدانہ علوم کی شاخیں ابھرتی ہیں۔ناقد ذہن کے باعث ہی ہر پرانی ایجاد سے نئی ایجاد اور ہر پرانے فلسفے سے نیا فلسفہ جنم لیتا ہے۔ یوں بصیرت افروز سوچ کے باعث ہی ہم نےخیالات کے سلسلے کو اپنی انفرادی سوچ سے آگے بڑھایاہے، وگرنہ علم کی شاخیں پھیل کر ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے روپ میں یوں ہمارے سامنے نہ آتیں۔طالب علموں کو بھی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے نصابی کتب میں درج معلومات کو اپنے ناقدانہ ذہن سے پرکھنا پڑتا ہے، جس سے علم میں ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔آئیے ان چھ مراحل کے بطن میں اتر کر دیکھتے ہیں کہ کیسے تنقیدی و منطقی سوچ جنم لیتی ہے۔

1۔علم و معلومات

ہر ایک مسئلے پر واضح سوچ، اس کو حل کرنے کا راستہ نکالتی ہے۔ یہ مرحلہ، حل کیے جانے والے مسئلے یادلیل کو شناخت کرنے کا پہلاقدم ہے۔ مسئلے کی گہری سمجھ بوجھ کے لیے اس کے بارے میں سوالات اٹھانے چاہئیں۔کئی معاملات میں پتہ چلتا ہے کہ دراصل کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا، جسے رائی کا پہاڑ بنایا گیا۔ اس طرح پہلے مرحلے میں ہی بات ختم ہوجاتی ہے اور آگے بڑھنے یا سوچنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ اس مرحلے پر کھلے ذہن سے سوالات کرنے چاہئیں تاکہ اس بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس مسئلے کے بنیادی اسباب کا پتہ چلایا جائے۔ اس مرحلے پر دو مرکزی سوالات اٹھانے چاہئیںکہ مسئلہ ہے کیا اور اسے حل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

2۔فہم و ادراک اور جامعیت

ایک بار جب مسئلے کی شناخت ہوجائے تو دوسرا مرحلہ اس سے وابستہ حقائق اور صورت حال کو سمجھنے کا ہوتا ہے۔اس کے بعد ہم اس مسئلے کے بارے میں تمام دستیاب معلومات اکٹھی کرتے ہیںاور مطلوبہ مدت تک اسے حل کرتے ہیں۔

3۔ اطلاق

یہ مرحلہ پچھلے مرحلے کا تسلسل ہے، جس میں ہم مسئلے سے وابستہ معلومات و ذرائع کے مابین تعلق کو دیکھتے ہوئے اس کے مختلف حقائق کی مکمل سمجھ بوجھ حاصل کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں صورت حال کا جائزہ لینے اور معلومات و وسائل کے مابین مسئلے کی اصل وجہ ڈھونڈنے کے لیے ہم ذہن سازی کے نقشوں کی بھی مدد لے سکتے ہیں جو نتیجے تک پہنچنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

4۔ تجزیہ

ایک بار جب اصل مسئلے کی تمام معلومات اوروجوہات جمع ہوجاتی ہیں تو ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس میں مسئلے کے مضبوط اور کمزور دونوں ہی پہلوؤں اور مسئلے کے حل میں درپیش چیلنجز کو مدنظر رکھا جاتاہے۔اصل وجوہ کی ترجیحات کاتعین کرتے ہوئےاسباب اور وجوہ کا نقشہ کھینچ کر انہیںخانوں میں بانٹتے ہوئےمسئلے کی نوعیت اور اثر کاپتہ چلایا جاتاہے۔

5۔ ترکیب و تالیف

جب ساری معلومات اکٹھی ہوجاتی ہیں اورمتعلقہ معلومات پر غور و خوض کیا جاچکا ہوتا ہے تواس امر پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ مسئلے کو کیسے حل کیا جائے اور کیا حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ اگر کئی مسائل درپیش ہیں تو پہلےسب سے آسان حل تک پہنچنے کی ترکیب سازی کی جائے۔اس قسم کی تالیف سازی کے لیے SWOT اینالِسس سب سے مؤثر طریقہ مانا جاتا ہے، جس کے تحت مسئلے کے کمزوراور مضبوط پہلوؤں اور ان سے وابستہ خطروں کے اجزاء کا معائنہ کیا جاتاہے۔

6۔ عمل درآمد

حتمی مرحلے میں مسئلے کے بارے میں ایسی رائے قائم کی جائے جس پر عمل درآمد ممکن ہو۔ تنقیدی و منطقی سوچ، عملی اقدام میں تبدیل ہونی چاہیے۔ اگر فیصلے میں خاص پروجیکٹ یا ٹیم شامل ہے تو اسے عملی اقدام کو یقینی بنانا چاہیے۔

ان تمام مراحل کا تعلیم میں اطلاق بھی 6سوالات، کون(Who)؟ کیا (What)؟ کیسے (How)؟ کہاں(Where)؟ کب (When)؟ کیوں(Why)؟ پر مبنی ہے،جو طالب علموں کو علم کے حصول کے دوران پوچھنے چاہئیں۔ یہی سقراط کا طریقہ تھا کہ وہ سوال سے سوال اٹھاکر منطقی نتیجے پر پہنچتاتھا جن کا کہا آج بھی علم کی سچی روشنی اور مسرت حاصل کرنے کےلیے ہمارا رہنما ہے،’’میں اتنا جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا!‘‘

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں