آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جنگ نیوز

عام طور پر پی ایچ ڈی آپ کے تعلیمی سفر کی آخری منزل تصور کی جاتی ہے۔ پی ایچ ڈی کرنے تک آپ وہ تعلیم حاصل کرتے ہیں، جو دوسروں کی کاوشوں کا نتیجہ ہوتی ہے لیکن پی ایچ ڈی کرنے کے بعد آپ جتنے بھی علوم حاصل کرتے ہیں، اس میں آپ کا اپنا دماغ استعمال ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں پی ایچ ڈی (PhD) ایک معزز ڈگری اور قابلیت کی معراج سمجھی جاتی ہے۔ معزز اس تناظر میں کہ ایم بی بی ایس کیے بنا یہ واحد راستہ ہے جس کے آخرمیں آپ ڈاکٹر کہلانے لگتے ہیں اور معراج اس لیے کہ یہ آخری تعلیمی ڈگری ہے، جو حاصل کی جاسکتی ہے۔ پی ایچ ڈی یعنی ڈاکٹریٹ آف فلاسفی دراصل ایک تحقیقی ڈگری ہے جو آپ کو تب ملتی ہے جب آپ دنیا کے سامنے کچھ نیا لائیں، خواہ وہ انسانی زندگی کی بہتری سے متعلق ہو یا پھر کسی مضمون کے بارے میں نئی منطق پیش کی جائے۔

ملک کی کسی بھی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ لینے سے پہلے آپ کو ادارے اور اپنے بارے میں بہت زیادہ جاننا بے حد ضروری ہے، اس کے علاوہ اپنے اندر مستقل مزاجی بھی لاناہوگی۔ پی ایچ ڈی کی سطح پر ریسرچ کرنا کوئی کھیل نہیں ہے۔ برسوں آپ کو تنہا محنت کر کے ایسے جوابات تلاش کرنے ہوتے ہیں، جن کا جواب ملنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ غیر یقینی اس کھیل کا دوسرا نام ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کو اپنے سوالات کا جواب پہلے سال میں ہی مل جائے، یا پھر زیادہ تر لوگوں کی طرح جواب کی تلاش میں پانچ یا اس سے زائد سال بھی لگ جائیں۔

بعض اوقات یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ آپ کو ریسرچ کے لیے کتنا فنڈ ملے گااور یہ آپ کو سپورٹ کرنے کے لیے کافی بھی ہوگا یا نہیں، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اگر آپ کی فیملی اور بچے ہیں تو پی ایچ ڈی کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں۔ تعلیم کے دوران مالی دباؤ آپ کی صحت اور رشتوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔آپ کو یہ بھی جاننا ہوگا کہ آیا آپ ایک اچھے لکھاری ہیں یا نہیں۔ پی ایچ ڈی مقالے ایک تحریری دستاویز ہوتے ہیں۔ ریسرچ کو دستاویزی شکل دینے کی صلاحیت بھی آپ میں ہونی چاہیے۔ مزید یہ کہ تعلیمی اندازِ تحریر دوسری قسم کی تحریروں سے بہت مختلف ہوتی ہے، جس میں سخت قواعد اور مخصوص طرز تحریر کو مدِنظر رکھنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر حوالہ جات کو یا تو امریکن سائیکلوجیکل ایسوسی ایشن (اے پی اے) یا پھر ماڈرن لینگویج ایسوسی ایشن (ایم ایل اے) اسٹائل سے لکھنا ہوتا ہے۔ تعلیمی حوالہ جات اور دستاویزات کی تحریر کے لیے ہر تعلیمی شعبے کے اپنے اپنے مخصوص اسٹائل ہیں،چونکہ آپ نے ماسٹرز سطح کی تعلیم مکمل کی ہوئی ہوگی، اس لیے پی ایچ ڈی پروگرام کے لیے آپ سے توقع کی جائے گی کہ آپ علمی نقطۂ نگاہ سے ایک قابل لکھاری بھی ہوں۔

ماسٹرز کی سطح پر اگر آپ کی تحقیق کسی نامور تحقیقی جرنل میں شائع ہوچکی ہے تو پھر آپ کی تعلیمی قابلیت پر کسی کو شک نہیںہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہے ، تو کیا آپ نے اپنا پیپر کسی جرنل میں جمع کروایا ہے یا اس کے بارے میں سوچا ہے؟یہ کام پہلے نہیں کیا تو اب کرلیں اور ایک سال تک اپنی مکمل ریسرچ کو ریسرچ جرنلز میں شائع کروانے کی کوشش کرتے رہیں۔ یہ ایک تجربہ ہی آپ میں پی ایچ ڈی تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت کو جانچنے اور آپ کے لیے آگے کی راہیں ہموار کرنے میں مدد کرے گا۔

اگر آپ کا تحقیقی مقالہ پہلے سے کسی جرنل میں شائع ہوچکا ہےتوآپ سب سے زیادہ خاص ہوتے ہیں۔ آپ کو اپنے پاس بلانے کے لیے یونیورسٹیاں کمر کس لیتی ہیں اور ایسے درخواست گزاروں کو مالی معاونت اور دوسری مراعات کی پیشکش بھی کرتی ہیں۔ آخر میں یہ کہ درخواست جمع کرواتے وقت آپ کے پاس بہترین دلائل پر مبنی ریسرچ پروپوزل ضرور ہونا چاہیے۔ پی ایچ ڈی سطح کے داخلے بیچلرز کی طرح نہیں ہوتے جہاں کالج کا سرٹیفکیٹ دکھا کر داخلہ مل جاتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ آپ ایک مدلل ریسرچ پروپوزل تیار کریں، جس میں یہ بات مفصل واضح کریں کہ آپ کس چیز پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ خالی ہاتھ ہیں اور دکھانے کو کچھ نہیں تو یا تو درخواستِ داخلہ مسترد ہونے کے لیے تیار رہیں، یا پھر پانچ سال بعد بھی ممکنہ طور پرخالی ہاتھ نکلنے کے لیے تیار رہیں۔

آپ کو کم از کم تین ایسے اساتذہ کی ضرورت ہوگی جن کے پسندیدہ تحقیقی موضوعات آپ کے پروپوزل سے مطابقت رکھتے ہوں۔اس طرح سپروائزری کمیٹی آپ کی دانشورانہ صلاحیت بہتر کرنے میں مدد فراہم کرے گی، جس سے آپ اپنی ریسرچ بہتر انداز میں کر سکیں گے۔ مقالے کے لیے آپ کا سپروائزر قابل ہونے کے ساتھ آپ کی دسترس میں بھی ہونا چاہیے۔ آپ اپنے سپروائزر کی قابلیت کو بین الاقوامی جرنلز میں ان کی شائع شدہ ریسرچ پڑھ کر بھی جان سکتے ہیں۔ اگر آپ محنت اور لگن سے کام کریں توپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنا آپ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہوگی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں