آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ویسے تو میں ذاتی طور اپنا ’’دوسرا گال پیش کرنے‘‘ کے حق میں ہوں یعنی کہ جیسے یسوع مسیح نے کہا تھا کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی آگے کردو لیکن جس ملک میں رہتا ہوں میں وہاں تھپڑ کیا کسی کو چھونا بھی تشدد اور حملے کی نیت جیسے جرم کےزمرے میں آتا ہے۔ لیکن جس سماج اور ملک سے میں آیا ہوں، پیدا ہوا اور پلا بڑھا ، وہاں تھپڑ کی ایک پوری عمرانیات اور تاریخ ہے۔ پیارے پاکستانی سماج میں طاقتور کمزور کو، بڑا چھوٹے کو، با اختیار بے اختیار کو، مرد عورت کو، استاد شاگرد کو، بڑی یعنی مہنگی گاڑی والا سستی گاڑی والے کو بدقسمتی سے تھپڑ رسید کرتا رہتا ہے۔ کئی تھانیداروں نے تو گناہ بے گناہ لوگوں کو تھپڑ مارنے میں گویا پی ایچ ڈی کر رکھی ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی کمزور طاقتور کو یا ہم پلہ طاقتور دوسرے ہم پلہ طاقتور کو تھپڑ مار بھی دیتا ہے تو پھر کہانی بدل بھی جاتی ہے۔ لیکن یہ کوئی اچھا عمل نہیں ۔ قبیح اور مجرمانہ عمل ہے۔ توہین انسانیت ہے۔

لیکن ایک ایسی سوسائٹی جہاں ٹیلیوژن سوپ اوپیراز میں یا ڈراموں میں مرد عورت کو تھپڑ مارتا دکھایا جاتا ہو اور دیکھنے والے پاپ کارن کھاتے یا چائے کافی سے گھونٹ بھر رہے ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں گھریلو یا ازدواجی تشدد کے تصور کو گویا ڈرائنگ روم پذیرائی حاصل ہو جاتی ہے۔

تو پس عزیزو اسی لیے جب حالیہ انتخابات میں کراچی کے نارتھ ناظم آباد کے صوبائی اسمبلی کے حلقے سے عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے جیت کر آنیوالے رکن عمران علی شاہ نے ہمراہ پولیس پروٹوکول و سیکورٹی کے کراچی کی ایک شاہراہ پر غریب نہتے شریف سوزوکی کار ڈرائیور پر تھپڑوں کی بارش کردی تو مجھے یہ پاکستانی سماج کی عمرانیات، سیاسیات اور تاریخ میں تھپڑ فیکٹر یاد آگیا۔ یہ ایک نہ فقط بے ہودہ بلکہ شرمناک اور قابل دست اندازی جرم ہے ہر ایسی موٹی بلیوں کے گلے میں کون گھنٹی باندھے گا کون۔ کہ جن کے لیڈر نے بھی لائیو ٹی وی شو میں مخالف سیاستدان پر اسکے پارٹی رہنما کے ہاتھوں تھپڑ پر داد دی تھی۔ ایسا ہی ایک شرمناک واقعہ آپ کو یاد ہوگا جب ٹنڈو محمد خان میں حکمران پی پی پی کی وحیدہ شاہ نے ضمنی انتخابات کے موقع پر پولنگ اسٹیشن کے اندر خواتین پریذائڈنگ افسر اور دیگر پولنگ عملے کو تھپڑ مارے تھے۔ وحیدہ شاہ بہرحال قانونی سزا سے نہیں بچ سکی تھیں۔

ایک اور واقعہ ماضی بعید سے آپ کو سناتا چلوں کہ جب سندھ میں حر بغاوت کے دوران پیرپگارو صبغت اللہ شاہ سینئر کو انگریز حکومت نے دوسری بار قید کیا ہوا تھا اور ان پر قتل و بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا تھا جس میں ان کو بعد میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ ان کے دونوں بیٹوں سکندر شاہ اور نادر شاہ کو جن کی عمریں ا س وقت چودہ اور تیرہ سال ہوں گی ،کو اپنی تحویل میں لیکر جلاوطن کر رہے تھے پہلے دہلی، علی گڑھ اور پھر برطانیہ۔ تب یہ دونوں بچے اپنی حویلی کی در و دیوار سے الگ نہیں ہونا چاہتے تھے ان پر ایک خلیفہ علی بخش جونیجو اتالیق مقرر کیا گیا تھا۔ یہ بچے زارو قطار رو رہے تھے تو ان کو زبردستی اسی خلیفے نے تھپڑ مار کر جیپ پر سوار کرایا تھا۔ یہ واقعہ حر تحریک پر تحقیق کےدوران مجھے اس وقت چند چشم دید سینئر حروں نے سنایا تھا اور دوسروں نے اس کی تصدیق کی تھی۔ بعد میں علی بخش جونیجو انیس سو 74میں سانگھڑ شہر میں قتل ہوگیا تھا جس کا الزام بھی جام صادق علی پر لگا تھا۔

بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ اپنی زندگی اور جلاوطنی کا بڑا حصہ پی پی پی اور بھٹو فیملی کو دینے والا جام صادق علی آخر کار سندھ میں پی پی پی والوں کے خلاف ضیا الحق جتنا یا اس سے بھی کئی حالات میں دو سو گز آگے کیوں نکل گیا تھا؟ اس کی وجہ بھی بوڑھے اور جاگیردار جام کو بینظیر کی قریبی طاقتور شخصیت کے ہاتھوں لگنے والا تھپڑ تھا۔ بینظیر کے پہلے دور حکومت میں جب بینظیر بھٹو نے کابینہ میں ردوبدل کیا تو اس ردوبدل میں جام معشوق کو دوبارہ وزیر نہیں لیا گیا تھا جسکا شکوہ لیکر جام اسلام آباد میں اس طاقتور شخصیت کے پاس گیا تھا۔ جام کی اپنی مخصوص لغت اور طنز پر مرد حر غصہ کھا گیا تھا اور اس نے جام کو ایک تھپڑ جڑ دیا تھا۔ جام نے وہاں سے نکلتے ہی اپنی گاڑی سے پی پی پی کا جھنڈا اتا رکر ڈیش بورڈ میں رکھ دیا تھا۔ جب اگست نوے کے پہلے ہفتے کی شروعات میں جام ایوان صدر میں اسوقت کے صدر غلام اسحاق خان سے ملنے گیا تھا تو یہ ملاقات رپورٹ کرنے میں بینظیر کی انٹیلی جنس بیورو سراسر ناکام رہی تھی۔ پھر چھ اگست انیس سو نوے کو بینظیر بھٹو کی حکومت غلام اسحاق خان کے ہاتھوں برطرف ہونے پر جام سندھ کے نگران وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھا رہا تھا۔ باقی سب تاریخ ہے۔ بہرحال بینظیر نے ایسے واقعے کی تردید کی تھی کہ مرد حر ایسے نہیں ہو سکتے۔

آپ نے یہ بھی وڈیو دیکھی ہوگی جس میں سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم براجمان اقتدار تھے تو وہ بنفس نفیس ایک سرکاری ملازم( شاید محکمہ اطلاعات کا اہلکار) کو تھپڑ مار رہے تھے۔ وہاں کئی اعلیٰ عملدار خاموش تماشائی کھڑے تھے۔ قانون پسند و مہذب معاشروں میں چاہے کوئی کتنا طاقتور اس طرح کی حرکت کسی پولیس والے کی موجودگی میں کرے تو فوری پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ یہ بھی انتہائی غلط اور قابل مذمت عمل ہے جب ارباب رحیم حکومت میں نہیں رہے تو سندھ اسمبلی کی عمارت کے اندر پی پی پی کی طلبہ تنظیم سپاف یا سندھ پی ایس ایف کے آغا جاوید نے انہیں جوتا رسید کیا تھا۔

ایک تھپڑ پولیس افسروں کو میرمرتضی بھٹو نے مارا تھا اور سندھ کے وزیر اعلیٰ عبداللہ شاہ کو گلے سے پکڑا تھا۔ مرتضی بھٹو کی بھی لوگوں کو دوست ہو کہ دشمن تھپڑ مارنے کی عادت تھی۔ پھر آپ نے دیکھا کہ بات کہاں سے کس سانحہ تک گئی۔ نثار کھوڑو کو دو ہزار آٹھ کے لاٖڑکانہ میں انتخابات کے موقع پر مرتضیٰ بھٹو کے کارکنوں نے تھپڑ مارا تھا۔

ایک تھپڑ کی باز گشت اب تک سنائی دیتی ہے جب ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں سندھ یونیورسٹی جامشورو میں انیس سو تہتر کے کانووکیشن پر آئین کے خلاف احتجاج کرنے والے جئے سندھ اسٹوڈنٹس کے کارکنوں کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد ایک نوجوان اسماعیل وسان نے اس وقت کے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ کو تھپڑ مار دیا تھا۔ اسماعیل وسان سمیت جئے سندھ کے کارکنوں اور کئی لیڈروں پر ریاستی تشدد اور ان کے والدین اور اہالیان خانہ پر جیلوں کے دروازے کھول دئیے گئے تھے۔ بھٹو دور ختم ہوا۔ پھر وہی عبدالحفیظ پیرزادہ اسی انیس سو تہتر کے آئین کے مخالف ہوکر سندھی بلوچ پشتون فرنٹ کے بانی کار بنے۔ اسی پر سندھی قوم پرست دانشور اور بلا کے مقرر حفیظ قریشی نے پیرزادہ سے کہا تھا :اگر اب تمہیں وہ لڑکا ملے اسے دو تھپڑ جڑ دینا کہ اب تم آئین کے مخالف اور اسماعیل وسان اس پارٹی مسلم لیگ کا رکن ہے جو آ ئین پر یقین رکھتی ہے۔ دونوں عمل غلط گردانے جائیں گے کہ تھپڑ پیرزادہ وسان کو مارتا یا وسان نے پیرزادہ کو مار کر کوئی ہیروپن نہیں کیا تھا۔

ویسے تو مارچ 1971ء میں دھان منڈی ڈھاکہ میں شیخ مجیب الرحمان کی گرفتاری کے وقت اور اکتوبر انیس سو ننانوے میں شہباز شریف کی گرفتاری کے وقت بھی تھپڑ کے حوالے آتے ہیں لیکن غیر مصدقہ۔

شاید یہ تمام اسلامی دنیا کا المیہ ہے مظلوموں پر ظلم کا کلچر کہ کوئی اور بات اس کا خوبصورت اظہار مصطفیٰ زیدی نے کیا تھا:

جس ہاتھ سے تھپڑ پڑا وہ ہاتھ اک کردار تھا

عارض سکینہ کے نہ تھے تاریخ کا رخسار تھا

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں