• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

’’عشرۂ ذی الحجہ‘‘ کے روزے اور اُس کے بابرکت لمحے

محمد عبداللہ صدیقی

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:کوئی دن عشرۂ ذی الحجہ کے سوا ایسے نہیں کہ ان میں عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو۔ان میں سے ایک دن کا روزہ ایک سال روزہ رکھنے کے برابر ہے(دسویں ذی الحجہ کو روزہ رکھنا حرام ہے،پس یہ فضیلت نو دنوں کے لیے ہے)اور ان کی ہررات کا جاگنا شب قدر کے برابر ہے۔یہاں یہ نکتہ بہت ہی ہمت افزا اور قابل غور ہے کہ رمضان شریف کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے تو یقین کے ساتھ ہر کوئی شب قدر کا تعین نہیں کرسکتا،لیکن مندرجہ بالا حدیث شریف میں سرکار دوعالمﷺ نے خود ہی بتادیا کہ ہررات شب قدرکے برابر ہے،لہٰذا ان دنوں اور خصوصاً راتوں کی بہت زیادہ قدرکرنی چاہیے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے:۔

اے خواجہ چہ پُرسی زشب قدر نشانی

ہرشب، شبِ قدر است گر قدر بدانی

آنحضرت ﷺ نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ سے امید کرتاہوں کہ عرفہ کا روزہ کفارہ ہوجاتا ہے، ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کا۔ (صحیح مسلم)

نیز ارشاد فرمایا:عرفہ کا روزہ ہزاروں روزوں کے برابر ہے۔ (سنن بیہقی) آپﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے عرفہ کا روزہ رکھا، اس کے پے درپے دوسال کے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ (سنن بیہقی)

نیز آپﷺ نے ارشاد فرمایا:نہ کوئی دن اللہ کے نزدیک افضل ہےاس عشرۂ ذی الحجہ سے اور نہ کسی (دن)میں عمل کرنا ان (دنوں)میں عمل کرنے سے افضل ہے۔پس (خصوصیت کے ساتھ)کثرت دعا کرو،کیوں کہ یہ تہلیل وتکبیر اور ذکر اللہ کے (خاص) دن ہیں۔

حضور اکرمﷺ کا ارشاد گرامی ہے،جس نے یوم الترویہ (8ذی الحجہ)کا روزہ رکھا۔اﷲ تعالیٰ اسے حضرت ایوبؑ کے ابتلاء پر صبر کرنے کی طرح اجر دے گا اور جس نے عرفہ (9ذی الحجہ)کا روزہ رکھا، اﷲ تعالیٰ اسے حضرت عیسیٰؑ کے ثواب کی طرح ثواب دے گا۔

حضوراکرمﷺ سے مروی ہے،جب یوم عرفہ آتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اپنی رحمت پھیلادیتا ہے۔ اس دن سے زیادہ کسی دن بھی لوگ دوزخ سے آزاد نہیں ہوتے اور جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا۔وہ گزشتہ سال اور آئندہ سال کاکفارہ ہو گا (یعنی صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہوگا اور بڑے گناہوں سے توبہ کیے بغیر چھٹکارا نہیں )

حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے منقول ہے ،ایک نوجوان تھا،اس کی عادت تھی کہ جب ذی الحجہ کا چاند دیکھتا،تووہ روزے رکھنا شروع کردیتا ۔رسول اﷲ ﷺ کو خبر ملی تو اسے بلایا اور پوچھا اِن دنوں کے روزے کیوں رکھتے ہو؟اس نے عرض کیا،اﷲ کے رسولﷺ ! میرے ماں باپ آپﷺ پر فدا ہوں۔ یہ ایام مشاعر (حج کی رسوم کا موقع) اور ایام حج ہیں،شاید اﷲتعالیٰ مجھے ان کی دعاؤں میں شریک کرلے۔ 

آپ ﷺ نے فرمایا:پھر تیرے لیے ہر دن جو تو روزہ رکھے گا،ایک سو غلام آزاد کرنے،ایک سو اونٹ خیرات کرنے ایک سو گھوڑے جن پر اﷲ تعالیٰ کی راہ میں (سامان جہاد)رکھاہوتاہے کے برابر ثواب ہے،جب یوم الترویہ(8ذی الحجہ) ہوگا، تو تیرے لیے اس میں ایک ہزار غلام آزاد کرنے، ایک ہزار اونٹ اورایک ہزار گھوڑے ،جس پر اﷲ کی راہ میں سامان جہاد ہے ،کے برابر ثواب ہے اور جب یوم عرفہ (9ذی الحجہ )کا دن ہوگا تو تیرے لیے دو ہزار غلام آزاد کرنے اور دوہزار اونٹ اور دو ہزار گھوڑوں جن پر اﷲ تعالیٰ کی راہ میں سوار کیاجاتاہے کے برابر ثواب ہے۔

تازہ ترین
تازہ ترین