شمالی وزیرستان میں کمسن بچی کی کرکٹ کھیلتے ہوئے وائرل ویڈیو بنانے والے نوجوان کو مبینہ طور پر اغواء کر لیا گیا، جس پر علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔
چند روز قبل سوشل میڈیا پر 8 سالہ ابھرتی ہوئی کرکٹر آئینہ وزیر کی بولنگ کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔
تاہم ویڈیو بنانے اور شیئر کرنے والے نوجوان زعفران وزیر کو نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر ضلع کے شیوہ سب ڈویژن سے اغواء کر لیا، دورانِ حراست ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی جس میں زعفران وزیر نے ویڈیو شیئر کرنے کو اپنی غلطی قرار دیا اور کہا کہ وہ نامعلوم افراد کی تحویل میں ہیں۔
ویڈیو میں مبینہ اغواء کاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ کمسن بچی کی کرکٹ کھیلتے ہوئے ویڈیو بنانا اور پھیلانا اسلام اور پشتون روایات کے خلاف ہے۔
مقامی قبائلی عمائدین کی جرگہ کے ذریعے کوششوں کے بعد زعفران وزیر کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا، رہائی کے بعد اہلِ علاقہ نے ان کا استقبال کیا اور ہار پہنا کر خوشی کا اظہار کیا، جس کی ویڈیوز بھی آن لائن گردش کرتی رہیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سجاد حسین نے تصدیق کی کہ نوجوان اپنے گھر والوں سے بحفاظت مل چکے ہیں اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔