فیصل آباد کے مصروف علاقے الائیڈ موڑ ٹرائی اینگل پر نصب کی گئی ایک نئی یادگار سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے، جہاں شہری اسے دبئی کے مشہور میوزیم آف دی فیوچر سے مشابہ قرار دے رہے ہیں۔
یہ یادگار پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) فیصل آباد کی جانب سے نصب کیا گیا ہے، حالیہ دنوں میں اس چوراہے کی تزئین و آرائش کی گئی تھی، جس کے بعد اس جدید طرز کی یادگار نے شہریوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
یادگار کا ڈیزائن ٹورس نما ہے، جو دبئی کے معروف لینڈ مارک سے مماثلت رکھتا ہے، اسی مشابہت کی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین نے اس کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے دونوں کا موازنہ شروع کر دیا۔
دبئی میں واقع میوزیم آف دی فیوچر 77 میٹر بلند ٹورس نما عمارت ہے، جو بغیر اندرونی ستونوں کے تعمیر کی گئی ہے اور اسٹین لیس اسٹیل سے ڈھکی ہوئی ہے، اس کے بیرونی حصے پر عربی خطاطی موجود ہے، یہ عمارت مستقبل کی اختراعات اور 2071ء کے وژن سے متعلق نمائشوں کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہے۔
اس کے برعکس، فیصل آباد میں نصب کیا گیا ڈھانچہ ایک نسبتاً چھوٹی سڑک کنارے یادگار ہے، جس کا مقصد ٹریفک جنکشن کی خوبصورتی میں اضافہ کرنا ہے، نہ کہ کسی ثقافتی یا سائنسی سرگرمی کے لیے مخصوص جگہ فراہم کرنا۔
عوامی ردِعمل اس معاملے پر منقسم دکھائی دے رہا ہے۔ کچھ شہری اسے شہر کو جدید شناخت دینے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ فیصل آباد جیسے تاریخی شہر کو اپنی ثقافت اور مقامی شناخت کی عکاسی کرنے والے منفرد ڈیزائن اپنانے چاہئیں، بجائے اس کے کہ عالمی شہرت یافتہ عمارتوں کی نقل کی جائے۔