آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر2؍ربیع الثانی 1440ھ 10؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خوشگوار موسم، خوبصورت ساحل اور جھیلیں، شاپنگ پلازہ، کثیر المنزلہ عمارتیں، فائیو اسٹار ہوٹلز، ریسٹورنٹس، بارز اور نائٹ کلبس جیسی جگہیں دنیا کے امیر سیاحوں کو برازیل کے شہر ریو ڈی جینیرو (Rio de Janeiro) کی طرف کھینچتی ہیں، یہ شہر روشنیوں اور فیسٹیول کا شہر کہلاتا ہے جہاں راتیں جاگتی ہیں۔ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں لوگ سیاحت اور کاروبار کی غرض سے برازیل کا رخ کرتے ہیں جس سے برازیل کو سیاحت کی مد میں اربوں ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ قدرتی حسن کے دلدادہ برازیل آکر ایمزون جنگل اور دریا کا رخ کرتے ہیں جہاں انہیں سکون کے لمحات میسر آتے ہیں، رونق اور روشنیوں کے متلاشی Rio آنے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ کاروباری شخصیات برازیل کے کاروباری مرکزساؤپالو شہر کا رخ کرتی ہیں۔ جس طرح اندھیرے سے اچانک روشنی میں آکر آپ کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں کچھ اسی طرح میرے ساتھ بھی اس وقت ہوا جب میں ایمزون جنگل میں سکون کے 5 دن گزارنے کے بعد روشنیوں کے شہر ریو ڈی جینیرو پہنچا۔ ہوائی جہاز کی کھڑکی سے حد نظر تک جگمگاتے شہر نے میری آنکھوں کو چکا چوند کر دیا۔ ایئر پورٹ پر جہاز کے لینڈنگ کرتے وقت ایسا لگا کہ جہاز پانی پر اتر رہا ہے کیونکہ ڈومیسٹک ایئرپورٹ سمندری حصے کو زمین میں شامل کرکے بنایا گیا ہے۔
تقریباً 7 ملین کی آبادی پر مشتمل ریو ڈی جینیرو

کا شمار برازیل کے دوسرے بڑے شہر میں ہوتا ہے جسے مختصراً ریو (Rio) بھی کہا جاتا ہے۔ پہاڑوں اور سمندر سے گھرا یہ شہر1960ء تک برازیل کا دارالحکومت رہا تاہم بعد میں برازیلیا شہر منتقل کردیا گیا۔ Rio کا شمار برازیل کے امیر ترین اور دنیا کے مہنگے شہروں میں ہوتا ہے۔ ملک کی 2 بڑی پیٹرولیم کمپنیاں پیٹروبراس اور ویل کے مرکزی دفاتر بھی یہاں موجود ہیں اور برازیل کو اس شہر سے سالانہ 200/ارب ڈالر کی آمدنی وصول ہوتی ہے۔ یہ شہر برازیل کی بڑی یونیورسٹیوں، انسٹی ٹیوٹس اور ملک کے ریسرچ سینٹر کا بھی مرکز ہے۔ آزادی سے قبل برازیل، پرتگال کی نوآبادی تھی، آج بھی یہاں پرتگالی باشندوں کی بڑی تعداد مقیم ہے جبکہ شہر کے کچھ حصوں میں پرتگالی ثقافت اور فن تعمیر کے نمونے آج بھی موجود ہیں۔ Rio کی آبادی کا تقریباً 54فیصد عورتوں جبکہ 46 فیصد مردوں پر مشتمل ہے، یہاں کے قانون کے مطابق لوگوں کو اپنے ہم جنس سے شادی کی اجازت ہے اور ایک اندازے کے مطابق 7 ہزار سے زائد ہم جنس پرست جوڑے شادی کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔
Rio کی لینڈ مارک یعنی پہچان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وہ دیوہیکل مجسمہ ہے جو شہر کے بلند ترین پہاڑ Corcovado پر نصب ہے، اس پہاڑ سے پورے شہر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ 1930ء میں نصب کئے جانے والے اس مجسمے کو اقوام متحدہ نے آرٹ کا سب سے بڑا شاہکار اور ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے جبکہ برازیل کے لوگ اسے دنیا کا ساتواں عجوبہ قرار دیتے ہیں ،یہ ممکن ہی نہیں کہ لوگ Rio آئیں اور اس مجسمے کو نہ دیکھیں اسی لئے اس شہر میں آنے کے بعد میں نے سب سے پہلے اس مجسمے کو دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ انتہائی بلندی پر ہونے کے باعث یہ مجسمہ زیادہ تر بادلوں میں گھرا رہتا ہے مگر میں اس لحاظ سے خوش قسمت رہا کہ جس دن میں مجسمہ دیکھنے گیا تو آسمان بادلوں سے صاف تھا اور125 فٹ بلند آرٹ کا یہ شاہکار مجسمہ صاف نظر آرہا تھا۔ مجسمے کو اس انداز میں نصب کیا گیا ہے کہ اس کا رخ شہر کی جانب ہے۔ گائیڈ نے مجھے بتایا کہ یہاں کے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شہر کی طرف دیکھ رہے ہیں، ان کی نظروں میں شہر کے تمام مکین برابر ہیں اور وہ اس شہر کو قدرتی آفات سے بچائے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگوں کا اس بات پر بھی یقین ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک دن اس مقام پر نمودار ہوں گے۔ واضح ہو کہ مسلمانوں کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ اٹھالیا گیا تھا اور وہ ایک دن حضور اکرمﷺ کے امتی کی حیثیت سے اس دنیا میں واپس آئیں گے۔ مجسمے کے نیچے ایک مسیحی عبادت گاہ بھی قائم ہے جہاں آنے والے لوگ عبادت کرتے ہیں۔ واضح ہو کہ اس مجسمے کو دیکھنے عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بھی یہاں تشریف لاچکے ہیں۔
Rio کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 2016ء میں ہونے والے اولمپکس گیمز یہاں منعقد کئے جائیں گے جس کی تیاریاں ابھی سے زورشور سے جاری ہیں۔ Rio نے یہ اعزاز شکاگو، ٹوکیو اور میڈرڈ جیسے بڑے شہروں کو ہرا کر حاصل کیا ہے۔ فٹبال برازیل کا قومی کھیل ہے اور رونالڈو سمیت دنیا کے کئی نامور فٹبالرزکا تعلق برازیل سے ہے۔ فٹبال کی عالمی تنظیم FIFA، 2014ء میں اسی شہر میں ورلڈ کپ فٹبال کا انعقاد کر رہی ہے اور برازیلین پُرامید ہیں کہ اس بار ورلڈ کپ ان کا ملک جیتے گا۔ Rio میں قیام کے دوران میں نے فٹبال کے اس اسٹیڈیم کو بھی دیکھا جس میں 1950ء میں ورلڈ کپ فٹبال کا انعقاد کیا گیا تھا جسے دیکھنے کیلئے اس اسٹیڈیم میں 2 لاکھ سے زیادہ شائقین موجود تھے مگر آج کے جدید دور میں سیفٹی کے نئے قوانین کے پیش نظر شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش کم کرکے ایک لاکھ کردی گئی ہے۔ اس گراؤنڈ کو یہ اعزاز ملا ہے کہ 2014ء کے فٹبال ورلڈ کپ کی افتتاحی اور اختتامی تقاریب اور میچز اس گراؤنڈ پر منعقد کئے جائیں گے جبکہ اولمپکس مقابلوں کا انعقاد بھی اسی گراؤنڈ پر ہوگا۔
Rio میں ہر سال فروری کے مہینے میں دنیا کا مشہور اور سب سے بڑا رنگارنگ فیسٹیول Rio Carnival منعقد ہوتا ہے جس کی تاریخ 100 سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ فیسٹیول میں شریک ہزاروں افراد رنگارنگ ملبوسات میں اپنے ثقافتی فن کا مظاہرہ کرتے ہیں جسے دیکھنے کیلئے برازیل سمیت دنیا بھر سے 2 ملین سے زیادہ افراد یہاں جمع ہوتے ہیں۔ میں فیسٹیول کے مقام اور پریڈ اسٹینڈ پر بھی گیا جہاں فیسٹیول کی تیاریاں زورشور سے جاری تھیں۔ فیشن انڈسٹری میں بھی برازیل کسی سے پیچھے نہیں اور دنیا کے کئی بڑے فیشن برانڈز کا تعلق برازیل سے ہے۔ میں Rio کے جس ہوٹل میں مقیم تھا وہاں انہی دنوں Rio کا مشہور فیشن ویک جاری تھا اور ہوٹل میں بڑی گہما گہمی تھی۔ Rio میں کچھ دنوں قیام کے دوران میں نے شہر کے مشہور کوپاکابانا بیچ Copacabana Beach پر بھی کچھ وقت گزارا جس کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ساحلوں میں ہوتا ہے۔ اس بیچ پر نئے سال کی آمد پر دنیا کی سب سے بڑی آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا جاتا ہے۔ میں نے دنیا کی سب سے بڑی کیبل کار جس میں بیک وقت 75 سے زیادہ افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے میں ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ تک سفر بھی کیا اور روشنیوں کے شہر Rio کا رات میں نظارہ کیا۔
میں دنیا کے 65 سے زیادہ ممالک کا سفر کرچکا ہوں مگر میرا دورہ برازیل ایک یادگار دورہ تھا اور یہاں گزارے ہوئے دن مجھے ہمیشہ یاد رہیں گے لیکن کچھ جگہوں پر بیشتر برازیلین کی انگریزی سے ناواقفیت، ریسٹورنٹس میں سور کے گوشت کا بکثرت استعمال اور حلال کھانے کی عدم موجودگی میرے لئے مشکلات کا سبب بنی رہی اور میں نے جتنے دن برازیل میں گزارے صرف مچھلیاں کھانے پر اکتفا کیا۔ وطن واپسی پر جہاز میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اللہ نے جو خوبصورتی ان ممالک کو عطا کی ہے پاکستان بھی کسی سے پیچھے نہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ان ممالک نے مارکیٹنگ کرکے اپنے ملکوں کو اتنا مشہور کر دیا ہے کہ دنیا بھر کے لوگ یہاں سیاحت کیلئے آنے لگے جس سے ان ممالک کو اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی۔ پاکستان میں گلگت، بلتستان، آزاد کشمیر، سوات، مری اور ہنزہ جیسے مقامات کو اللہ نے بے حد خوبصورتی سے نوازا ہے جو دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے دلچسپی کا باعث بن سکتے ہیں مگر ہم نے انہیں دنیا میں متعارف کرانے کیلئے کوئی کاوشیں نہیں کیں اگر کرتے تو پاکستان میں بھی سیاحت سے اربوں ڈالر کی آمدنی ہو سکتی تھی۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں سیاحت نہ ہونے کے برابر لیکن سیاحت کی وزارت ضرور موجود ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں