• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے ہی جھوٹ بولنا سیکھ لیتے ہیں، تحقیق

علامتی فوٹو
علامتی فوٹو

یونیورسٹی آف برسٹل کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بچے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے ہی دھوکہ دہی اور جھوٹ بولنے کی صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق 10 ماہ کی عمر تک ایک چوتھائی بچے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ دھوکہ کیسے دیا جائے، جبکہ 17 ماہ کی عمر تک یہ شرح نصف تک پہنچ جاتی ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ 3 سال کی عمر تک بچے زیادہ ماہر، تخلیقی اور بار بار جھوٹ بولنے والے بن جاتے ہیں۔

تحقیق میں 750 بچوں کے والدین سے سروے کیا گیا، جن میں سب سے کم عمر مثال 8 ماہ کے بچے کی تھی۔

والدین نے بتایا کہ بچے مختلف طریقوں سے جھوٹ بولتے ہیں، جیسے بڑوں کی بات نہ سننے کا بہانہ کرنا، کھلونے چھپا دینا، غلط بیانی، مبالغہ آرائی، یا کسی کام سے بچنے کے لیے نہ سمجھنے کا ڈرامہ کرنا۔

ماہرین کے مطابق دو سال کی عمر کے بعد بچے عملی طور پر دھوکہ دہی کرتے ہیں، مثلاً والدین کی صفائی کی ہدایت نہ سننے کا بہانہ یا چاکلیٹ کھا کر انکار کرنا۔

اس تحقیق کی سربراہ پروفیسر ایلینا ہوئیکا نے کہا کہ والدین کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ رویہ بچوں کی نشوونما کا عام حصہ ہے۔

ان کے مطابق والدین تحقیق کے نتائج سے یہ جان سکتے ہیں کہ کس عمر میں کس قسم کی چالاکیاں سامنے آ سکتی ہیں، تاکہ وہ بچوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور ان سے مؤثر انداز میں بات کر سکیں۔

دلچسپ و عجیب سے مزید