آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک مشہور کہاوت ہے کہ کسی موضوع پر خوبصورت انداز میں لکھناآسان ہے۔ لفطوں سےگہری سے گہری ضرب آسانی سے لگائی جاسکتی ہے لیکن ذہانت تو تب ہے جب نہ صرف اچھا لکھنے میں مہارت ہو بلکہ بروقت، بااثر لفظو ں اور بولنے کی صلاحیت کے ساتھ کسی دوسرے تک اپنا موقف پہنچایا جائے۔ عوامی خطابت کے ذریعے اپنی بات سمجھانا ایک فن ہے، جسے عام طور پر ’پبلک اسپینگ اسکلز‘ بھی کہا جاتا ہے اور اس فن کو سیکھنے کے لئے کچھ اہم چیزیں ہیں جنھیں نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کی سابقہ استاد، وکیل اور فزیشن مرجوری نارتھ یوں بیان کرتی ہیں۔

تیاری کریں

اچھے سے اچھا لیڈر یا سیاستدان بھی آغاز میں عوامی گفتگو سے قبل دل دھڑکنے یا ہاتھ کانپنے جیسی کیفیات سے دوچار ہوتا ہے۔ اس کیفیت کے دوران کچھ اعصاب اچھے ہوتے ہیںاور کچھ برے۔ اچھے اعصاب آپ کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں جبکہ برے اعصاب یا احساسات کو اپنی گفتگو یا اپنی ذات پر غالب نہ آنے دیں، یہ خوف آپ کی خطابت یا گفتگو کو متاثر کرے گا۔ اگر آپ گفتگو کے دوران بے چینی، خوف یا گھبراہٹ سے بچنا چاہتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ تیاری کریں۔ آپ ویڈیو بناکر دوستوں سے بھی شیئر کرسکتے ہیں تاکہ آپ کو غلطیوں کا پتہ چل سکے۔

سامعین کو جانیں

خطابی پیغام کی تیاری سے قبل اس بات پر غور کریں کہ آپ کے سامعین کون ہیں؟ کس گروہ یا طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ؟ یہ غورو فکر الفاظ کے چناؤ، معلومات کی سطح ،تنظیمی ڈھانچہ اور حوصلہ افزاء بیان کی تیاری میں مدد فراہم کرے گا۔ سامعین کی نفسیات، ان کے جذبات ومحرکات، ان کے ماحول، ان کی ذہنی سطح اوران کے تقاضوں کا گہرا علم ہی خطیب کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

مواد تیار کریں

جس موضوع پر تقریر کرنا ہو اس کا مواد پہلے ہی تیار کرلیں۔ تقریر کا فریم ورک ترتیب دیں اور موضوع کا عنوان، مخصوص عزائم، مرکزی خیال اور مخصوص خیالات کو باقاعدہ ایک صفحہ پر لکھ لیں۔ سامعین کے احوال وکوائف کومدنظررکھتے ہوئے اپنے مواد میں میں رنگا رنگی اورتنوع، برجستہ محاوروں کا استعمال، لطیف مزاح اورایک حدتک قصہ گوئی کی خوبیاں ہونی چاہئیں۔ کوشش کریں کہ پہلے 30سیکنڈ میں ہی آپ سامعین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے میں کامیاب ہوجائیں ۔

اعتماد

تقریر سے قبل پہلا اہم مرحلہ خود اعتمادی ہےاور اس کا جذبات کے ساتھ ایک بہت گہرا تعلق ہے۔ خطیب کو اپنے لہجے اور اپنی بات میں حد درجہ خود اعتمادی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بغیر گفتگو بے جان ہوجاتی ہے۔ ایک پُر اعتماد خطیب سامعین کے لیے بھروسہ مند ثابت ہوتا ہے۔

تاثرات نوٹ کریں

دوران تقریر سامعین کی جانب توجہ دیں، ان کے تاثرات سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ دیکھیں کہ کتنے فیصد لوگ غور کررہے ہیں اور کتنے فیصد لوگ آپ کی تقریر سے متاثر نہیں ہورہے۔ اپنا پیغام اسی طرح ترتیب دیں کہ جہاں پیغام میں لچک لانی پڑے لے آئیں۔ آپ کی محدود گفتگو اور انداز اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ سامعین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے اور اپنا مؤقف واضح طور پر ان تک پہنچانے میں ناکام رہے ہیں۔

حس مزاح ، متاثر کن گفتگو

سامعین کو اپنی بات میں الجھائے رکھنے کے لیےگفتگو میں دلچسپی پیدا کریں۔ دلچسپی پیدا کرنے کا ایک بہت عام طریقہ یہ ہے کہ سامعین کو ہنسایا جائے۔ یہ وہی انسان کرسکتا ہے جو حس مزاح رکھتا ہو، جب سامعین کوآپ کی بات سننے میں مزہ آنے لگے گا تو وہ آپ کو زیادہ غور سے سننے پر مجبور ہوجائے گا۔ اپنی آواز میں ترنم پیدا کریں اور زبان کی درستگی کی سمت دھیان دیجیے۔ زبان میں سلاست اور الفاظ کے صحیح تلفظ کی جانب توجہ دینا بھی ضروری ہے۔

متاثر کن شخصیت

جب تک آپ کی شخصیت متاثر کن نہیں ہوگی آپ سامعین کی توجہ اپنی جانب حاصل نہیں کرپائیںگے، خطاب سے قبل اپنے لباس اور اپنی ذات پر نظر ثانی کریں۔ اپنی شخصیت میں وجاہت ، متانت اورسنجیدگی پیدا کیجئے تاکہ سامعین آپ کی جانب متوجہ ہوں اور آپ پر یقین کرسکیں ۔

تدریس کے ذرائع استعمال کریں

جیسا کہ کلاس روم میں ٹیچر بچوں کو سمجھانے کے لیے الفاظ ہی نہیں بلکہ بلیک بورڈ بھی استعمال کرتے ہیں۔ آپ بھی لفظوں کے ساتھ آڈیو وژول کے ذرائع استعمال کریں، یہ عمل آپ کی تقریر کو متاثر کن بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔حرف آخر بس یہی کہ اگر آپ گفتگو میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو جتنا زیادہ ہوسکےمشق کریں، کیونکہ جتنی مشق کریں گے اتنی ہی اچھی تقریر ہوگی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں