آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

25؍اگست کو امریکہ کے نامور کنزرویٹو ری پبلکن سینیٹر جان مکین برین کینسر کے مرض میں ایک سال تک مبتلا رہے اور 81؍سال کی عمر میں امریکی سیاست اور تاریخ میں اپنا رول ادا کرکے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ری پبلکن سینیٹر ہونے کے باوجود ری پبلکن صدر سے پالیسی اور پالیٹکس کا اتنا شدید اختلاف تھا کہ صدر ٹرمپ ان کا نام لئے بغیر بھی اپنے بیانات اور ٹویٹ میں انہیں اپنا ٹارگٹ بناتے اور سینیٹر جان مکین بھی ٹرمپ پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے۔ وہ مسلسل 30؍سال سے ایری زونا ریاست سے سینیٹر منتخب ہوکر سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن اور پھر اپنی موت تک چیئرمین رہے۔ دفاعی امور، اسلحہ کی تیاری سپلائی اور عالمی فروخت، امریکی افواج کے امور، امریکہ کے دیگر ممالک سے اعلانیہ اور خفیہ دفاعی اور جنگی معاہدے سمیت دنیا میں امن اور جنگ کے امور سے عملی طور پر ڈیل کرنے والی یہ کمیٹی عالمی سطح پر امریکہ کے اتحادی ممالک اور دیگر ممالک کے لئے بھی اس قدر اہم ہے کہ دنیا بھر کی ’’ملٹری وار مشین‘‘ کے ذمہ داروں کے لئے اس کی اہمیت مسلم ہے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں اور مبصرین سے لے کر مختلف ممالک کے حکمران اور قومی دفاع کے ذمہ دار اور خفیہ یا اعلانیہ دفاعی اور جنگی معاہدوں میں امریکہ کے اتحادی بھی سینیٹر جان مکین جیسے قوم پرست امریکی جان مکین سے 15؍منٹ کی ملاقات کے منتظر رہتے اور ملاقات کے بعد ان کے حکومتی ترجمان ملاقات سے بھی طویل بریفنگ دیا کرتے۔ پاک۔امریکہ تعلقات کی تاریخی اور موجودہ نوعیت کے پیش نظر پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا سینیٹر جان مکین کی موت پر تعزیتی پیغام کا متن عملی طور پر بہت مناسب مگر تجزیہ طلب ہے وہ واقعی امریکی قوم کے لئے ویت نام کی جنگ کے ایک ممتاز جنگی ہیرو تھے۔ انہوں نے پاک۔ امریکہ دفاعی تعلقات، دفاعی امداد پاکستان کی صورت حال سے لے کر دہشت گردی، افغان جنگ سمیت خفیہ اور اعلانیہ حقائق سے بھی واقف تھے لیکن وہ ایک انتہائی نیشنلسٹ امریکی تھے جو پوری دنیا میں امریکہ اور امریکی نظام کی برتری چاہتے تھے۔ مجھے ان تمام سالوں کے دوران سینیٹر جان مکین سے ملنے گفتگو، خصوصی انٹرویوز اور بعض اوقات ’’آف دی ریکارڈ‘‘ جملے کہنے اور سننے کے مواقع ’’جیو‘‘ کے قیام سے قبل بھی ملے اور پھر ’’جیو‘‘ کے لئے بھی انٹرویوز کئے۔ میرے تجربہ اور مشاہدہ کے مطابق وہ ایک کنزرویٹو قوم پرست امریکی تھے جو دنیا بھر کے دفاعی، جنگی اور اسلحہ کے امور سے ضرور واقف تھے۔ ری پبلکن صدر ٹرمپ سے بھی ان کے پالیسی اور سیاست کے بارے میں اختلافات نے اتنی شدت اختیار کرلی کہ انہوں نے اپنی موت سے تین ماہ قبل ہی یہ وصیت کردی کہ صدر ٹرمپ کو ان کی آخری رسومات اور تدفین میں شریک نہ ہونے دیا جائے۔ اس کے ردعمل میں صدر ٹرمپ کی انتقامی سیاست ملاحظہ کیجئے کہ صدر ٹرمپ کے وہائٹ ہائوس پر قومی جھنڈا سرنگوں کرنے کی روایت کو 48گھنٹوں سے زیادہ دیر نظر انداز کیا گیا اور صدر ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالات کرنے پر بھی خاموشی اختیار کئے رکھی۔ ہر طرف سے دبائو اور سرزنش کے ہجوم میں صدر ٹرمپ نے قومی پرچم کو سرنگوں کرنے کے احکامات جاری کئے اور ان کے معاونین سینیٹر مکین کی آخری رسومات میں شریک ہوں گے لیکن صدرٹرمپ نہیں۔ سینیٹر جان مکین دو مرتبہ امریکی صدر کے عہدے کے امیدوار بھی رہے مگر ناکامی ہوئی۔ وہ 2008ء میں ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار بارک اوباما کے مقابلے میں ری پبلکن صدارتی امیدوار تھے لیکن میری رائے میں خاتون سارہ پالن کو اپنا نائب صدر انتخابی ساتھی چننے کے غلط فیصلہ کے باعث شکست کھا گئے۔ جی ہاں! وہی سارا پالن جس نے ہمارے صدر آصف زرداری کو مسحور کردیا تھا۔ سینیٹر مکین اپنے مرض کی تشخیص کے بعد موت کی قربت کے بارے میں اتنے حقیقت پسند ہوگئے تھے کہ اپنی خواہشات اور موت کے حوالے سے تجاویز مشورے اور وصیت کے مراحل اپنی زندگی میں ہی نہ صرف مکمل کرلئے بلکہ بہت کچھ لکھ کر بھی چھوڑ گئے۔ روا داری کی یہ کیفیت کہ سابق ڈیموکریٹ صدر بارک اوباما اور سابق ری پبلکن صدر جارج بش کو اپنی آخری رسومات میں سینیٹر مکین کے بارے میں روایتی خراج تحسین (EULOGY) پر مبنی تقریر کی وصیت چھوڑی ہے حالانکہ صدر اوباما کے ہاتھوں انتخاب میں شکست کھائی تھی۔ ویت نام کی جنگ میں ویت نامیوں نے ان کا طیارہ مار گرایا اور پانچ سال جنگی قیدی بن کر سخت ٹارچر کا سامنا کیا لیکن دیگر قیدیوں کی رہائی اور امریکہ واپسی سے قبل اپنی رہائی کی آفر مسترد کردی کیونکہ یہ امریکی ضوابط کی خلاف ورزی تھی کہ ان سے پہلے کے قیدی رہا نہ ہوئے ہوں۔ امریکی سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین ہونے کی دنیا بھر کے ممالک کے لئے اہمیت اور اثر و رسوخ کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ (1) امریکہ نہ صرف عصر حاضر کی سب سے بڑی جنگی اور عالمی سپر پاور ہے بلکہ دنیا میں امن اور جنگ سے براہ راست وابستہ ٹرلین ڈالرز کی اسلحہ سازی اور جنگی ساز و سامان کی امریکی انڈسٹری اور سپلائی کے عالمی نظام کے امور کی پارلیمانی نگرانی اس کمیٹی کے دائرہ اختیار میں ہے۔ (2) امریکی افواج کی اعلیٰ ترین قیادت کی تقرریوں کی منظوری اور توثیق جنگی اور دفاعی نوعیت کے امریکہ اور دیگر ممالک کے درمیان کئے گئے اعلانیہ اور خفیہ معاہدوں کی توثیق اور منظوری بھی اسی کمیٹی کے دائرہ اختیار میں ہے جہاں بسا اوقات امریکی صدر بھی اس کمیٹی کے تعاون کے بغیر بے اختیار نظر آتا ہے۔ (3) امریکی اسلحہ اور امریکہ سے دفاعی اور جنگی اتحاد پر انحصار کرنے والے ممالک کے لئے تو اس کمیٹی اور پنٹاگان کی عسکری قیادت سے خوشگوار رابطے سب امور سے زیادہ کلیدی اور ترجیحی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کی 70؍سالہ تاریخ میں پاک۔ امریکہ تعلقات کا سب سے اہم ترین پہلو بھی یہی رہا ہے اور پاکستان میں جمہوریت کے اتار چڑھائو کی حقیقت بھی اسی پہلو سے وابستہ ہے۔ پاکستان کے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سینیٹر جان مکین کی موت پر اپنے تعزیتی بیان میں بڑے مناسب اور نپے تلے الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں اپنے ملک کا کامیاب نمائندہ اور ممتاز جنگی ہیرو قرار دیا ہے۔ انہوں نے سینیٹر مکین کو پاکستان کا ایسا دوست بھی قرار دیا جو دونوں ممالک کی مشترکہ بھلائی کے لئے پاک۔ امریکہ تعلقات میں مزید بہتری پر یقین رکھتے تھے۔ ہمارے آرمی چیف کا رسمی تعزیتی بیان بالکل مناسب اور مکمل ہے۔ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ میں نے سینیٹر جان مکین کو اول تا آخر ایک کنزرویٹو ری پبلکن محب وطن امریکی پایا جو امریکہ کی عالمی برتری پر مکمل یقین رکھتے تھے۔ اپنی ری پبلکن پارٹی میں بھی ان کی دوستی اور اختلافات کی وجہ بھی ان کا نظریہ حب الوطنی تھا۔ 2012ء کے صدارتی ری پبلکن کنونشن کے دوران متعدد بار آمنا سامنا بھی ہوا اور پاک۔امریکہ تعلقات کے بارے میں کچھ نرم و گرم گفتگو ’’آن دی ریکارڈ‘‘ اور ’’آف دی ریکارڈ‘‘ بھی رہی۔ دوسرے روز جب آمنا سامنا ہوا تو ’’جیو‘‘ کے کیمرہ پرسن عظیم خان کو مستعد ہوتا دیکھ کر مسکرائے اور کہنے لگے کہ پاکستان کے بارے میں کل بہت گفتگو ہوگئی آج کوئی سوال نہیں کروگے۔ اس کے بعد چند لمحوں کے لئے چین۔ پاکستان تعلقات، افغانستان اور دہشت گردی کے بارے میں اپنے بعض مشاہدات اور توقعات کا ’’آف دی ریکارڈ‘‘ اظہار کیا۔ جو خالص امریکی نقطہ نظر اور ان کی اپنی معلومات پر مبنی تھا۔وہ اپنے معاون کے ساتھ یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے کہ میں امریکی ہوں اور امریکی ووٹرز اور مفادات کی نمائندگی کرنا میرا فرض ہے۔ یہ بات درست ہے۔ سینیٹر جان مکین دنیا کے ممالک کی فوجی قیادتوں اورحکمرانوں سے دفاعی امور پر ملاقاتیں کرتے رہے مگر امریکی فوج اور امریکہ کی برتری ان کے لئے سب پر مقدم تھی۔

ان کا الوداعی پیغام ان کے خاندان نے 27؍اگست کو جاری کیا وہ یہ ہے ’’میں فخر سے ایک امریکن کے طور پر زندہ رہا اور مرا‘‘ اسی طرح ان کا امریکی ہم وطنوں کے نام ایک خط بھی ان کے سابق ترجمان نے ان کی موت کے بعد پڑھا جس میں امریکی ہم وطنوں بالخصوص ریاست ایری زونا کے عوام کی 60؍سال تک خدمت کرنے کا موقع ملنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’میں نے اپنے ملک کی باوقار انداز میں خدمت کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ میں نے غلطیاں بھی کی ہیں امید ہے کہ امریکہ کے لئے میری محبت کو میری غلطیوں سے زیادہ وزن دیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے اسی خط میں امریکہ کو دنیا کی عظیم ترین ری پبلک اور انسانیت کے لئے ایک نعمت قرار دے کر اپنے آپ کو امریکی بلکہ امریکہ پر فخر کرنے والا امریکی شہری قرار دیا ہے۔ وہ ساری دنیا کو امریکہ کا تابع دیکھنا چاہتے تھے۔

سینیٹر جان مکین کے بارے میں ان مفروضات کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اکیسویں صدی کے گلوبلائزیشن کے ہجوم میں بھی اپنی سرزمین اور قوم سے محبت کرنے والوں کا مقام اور احترام بھی کیا جاتا ہے۔ انتقامی سیاست اگر ایشیائی ترقی پذیر ممالک میں کارفرما ہے تو امریکہ جیسے مہذب اور جمہوری طور پر مضبوط روایات والے ملک میں بھی ایک ہی پارٹی کے انتخابی عہدوں والوں کے درمیان پالیسی اور پالیٹکس کے اختلافات انتقامی سیاست کا روپ دھار سکتے ہیں اور موت جیسی اٹل حقیقت اور ٹریجڈی کے باوجود بعض اوقات انتقامی جذبات کارفرما رہتے ہیں لیکن اگر معاشرہ میں مہذب عوامی شعور کار فرما ہوں تو امریکی صدارت جیسے طاقتور منصب کو بھی عوامی شعور کے سامنے سر جھکا کر وہائٹ ہائوس پر قومی پرچم کو سرنگوں کرنا اور نہ چاہتے ہوئے بھی تعزیتی بیان جاری کرنا پڑتا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں